ٹیگ کے محفوظات: جاوے

ولے دل شرط ہے جو تاب لاوے

دیوان پنجم غزل 1731
بسان برق وہ جھمکے دکھاوے
ولے دل شرط ہے جو تاب لاوے
اڑاتا گڈی وہ باہر نہ آوے
مبادا مجھ کو بھی گڈا بناوے
صبا سے میں جو لگ چل کر گیا واں
ہوا کھاوے کہا آنے نہ پاوے
نزاکت سے بہت ہے کم دماغی
رکھے پگڑی پہ گل تیوری چڑھاوے
بزن گاہ اس کشندے کی گلی ہے
وہی جاوے جو لوہو میں نہاوے
نہ پوچھو فرش رہ کیا ہووے اس کا
جو اہل دل ہو تو آنکھیں بچھاوے
بلا مغرور ہے وہ آتشیں خو
بہت منت کرو تو جی جلاوے
پڑا تڑپا کیا میں دور پہروں
عجب کیا ہے جو پاس اپنے بلاوے
بتان دیر سے ایسی نہیں لاگ
خدا ہی ہو تو کعبے میر جاوے
میر تقی میر

ناز و نیاز کا جھگڑا ایسا کس کے کنے لے جاوے اب

دیوان پنجم غزل 1574
کب سے صحبت بگڑ رہی ہے کیونکر کوئی بناوے اب
ناز و نیاز کا جھگڑا ایسا کس کے کنے لے جاوے اب
سوچتّے آتے ہیں جی میں پگڑی پر گل رکھے سے
کس کو دماغ رہا ہے اس کے جو حرف خشن اٹھاوے اب
تیغ بلند ہوئی ہے اس کی قسمت ہوں گے زخم رسا
مرد اگر ہے صیدحرم تو کوئی جراحت کھاوے اب
داغ سر و سینے کے میرے حسرت آگیں چشم ہوئے
دیکھیں کیا کیا عشق ستم کش ہم لوگوں کو دکھاوے اب
دم دو دم گھبراہٹ ہوتو ہوسکتا ہے تدارک بھی
جی کی چال سے پیدا ہے سو کوئی گھڑی میں جاوے اب
دل کے داغ بھی گل ہیں لیکن دل کی تسلی ہوتی نہیں
کاشکے دو گلبرگ ادھر سے بائو اڑا کر لاوے اب
اس کے کفک کی پامالی میں دل جو گیا تھا شاید میر
یار ادھر ہو مائل ٹک تو وہ رفتہ ہاتھ آوے اب
میر تقی میر

تو دل کہ قفل سا بستہ ہے کیسا کھل جاوے

دیوان چہارم غزل 1524
کلید پیچ اگر رقعہ یار کا آوے
تو دل کہ قفل سا بستہ ہے کیسا کھل جاوے
ہماری جان لبوں پر سے سوے گوش گئی
کہ اس کے آنے کی سن گن کچھ اب بھی یاں پاوے
بہار لوٹے ہیں میر اب کے طائر آزاد
نسیم کیا ہے دو گل برگ اگر ادھر لاوے
میر تقی میر

منھ پھیرے وہ تو ہم کو پھر کون منھ لگاوے

دیوان سوم غزل 1273
ہوں خاک پا جو اس کی ہر کوئی سر چڑھاوے
منھ پھیرے وہ تو ہم کو پھر کون منھ لگاوے
ان دو ہی صورتوں میں شکل اب نباہ کی ہے
یا صبر ہم کو آوے یا رحم اس کو آوے
اس مہ بغیر عالم آنکھوں میں سب سیہ ہے
دیکھیں تو عشق کیا کیا ہم کو سمیں دکھاوے
کچھ زخم کھل چلے ہیں کچھ داغ کھل رہے ہیں
اب کے بہار دیکھیں کیا کیا شگوفے لاوے
جوں لیلیٰ اور مجنوں تا نقش کچھ رہے یاں
اس کی مری بھی صورت یک جا کوئی بناوے
یہ طرح دار لڑکے دیں بیٹھنے تب اس کو
جب جی سے اپنے کوئی ہر طرح دل اٹھاوے
ہم جس زمیں پہ آئے واں آسماں یہی تھا
یارب جو کوئی جاوے تو کس طرف کو جاوے
شب سنتے حال میرا لیتا ہے موند آنکھیں
مچلے سے میں کہوں کیا سوتا ہو تو جگاوے
طاعت کا محو تب ہے جب ڈھب نہیں بتوں سے
چھوڑے نماز واجب گر میر وقت پاوے
میر تقی میر

جیسے چراغ کوئی مہتاب میں جلاوے

دیوان دوم غزل 998
ویسا ہے یہ جو یوسف شب تیرے ہوتے آوے
جیسے چراغ کوئی مہتاب میں جلاوے
کیا رفتگی سے میری تم گفتگو کرو ہو
کھویا گیا نہیں میں ایسا جو کوئی پاوے
چھاتی کے داغ یکسر آنکھوں سے کھل رہے ہیں
دیکھیں ابھی محبت کیا کیا ہمیں دکھاوے
ہیں پائوں اس کے نازک گل برگ سے بجا ہے
عاشق جو رہگذر میں آنکھوں کے تیں بچھاوے
یوں خاک منھ پہ مل کر کب تک پھرا کروں میں
یارب زمیں پھٹے تو یہ روسیہ سماوے
اے کاش قصہ میرا ہر فرد کو سنا دیں
تا دل کسو سے اپنا کوئی نہ یاں لگاوے
ترک بتاں کا مجھ سے لیتے ہیں قول یوں ہی
کیا ان سے ہاتھ اٹھائوں گو اس میں جان جاوے
عاشق کو مر گئے ہی بنتی ہے عاشقی میں
کیا جان جس کی خاطر شرمندگی اٹھاوے
جی میں بگڑ رہا ہے تب میر چپ ہے بیٹھا
چھیڑو ابھی تو کیا کیا باتیں بنا کے لاوے
میر تقی میر