ٹیگ کے محفوظات: جانتی

مرے کمرے میں گہری خامشی ہے

فضائے جان و دل بہتر ہوئی ہے
مرے کمرے میں گہری خامشی ہے
بہت سادہ، بہت معصوم ہے وہ
اسے میری محبت جانتی ہے
مرے پاؤں ہری شاخوں سے باندھو
مری آنکھوں نے دنیا دیکھ لی ہے
چراغوں کی صفیں سیدھی کراؤ
اندھیری شب ابھی سو کر اٹھی ہے
کسی طوفان کی آمد ہے پیارے
مجھے میری چھٹی حس کہہ رہی ہے
قد و قامت قیامت ہے سنا ہے
مجھے ملنے کی جلدی ہو رہی ہے
خدا، عورت، کتابیں گھر پرندے
مری پانچوں سے گہری دوستی ہے
افتخار فلک

کایا شیتل دھوپ کی، میرا دکھ کیا جانتی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 63
گزری آنکھیں میچ کے، شام نگر سے شانتی
کایا شیتل دھوپ کی، میرا دکھ کیا جانتی
تو دھرتی تھی پیار کی، رہتی کیوں بے آسماں
اپنے جلتے جسم پر میرا سایہ تانتی
ایک اشارت خوف کی، ایک بلاوا خون کا
عقل عجب حیران تھی، کس کا کہنا مانتی
رستے رستے آنکھ سے، برسیں زرد اداسیاں
لوٹ کے خالی آ گئی سارے منظر چھانتی
کیسے مَیں اس بھیڑ میں آتا اُس کے دھیان میں
ایک اکیلی زندگی کس کس کو پہچانتی
آفتاب اقبال شمیم