ٹیگ کے محفوظات: جالوں

کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
لمحے بوجھل قدموں، ٹھٹھرے سالوں جیسے
کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے
مچھلیوں جیسی سادہ منش امیدیں اپنی
عیّاروں کے ہتھکنڈے ہیں جالوں جیسے
دھُند سے کیونکر نکلے پار مسافت اُن کی
رہبر جنہیں میّسر ہوں نقالوں جیسے
اپنے یہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے
آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجد چھالوں جیسے
ماجد صدیقی

کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
لمحے بوجھل قدموں، ٹھٹھرے سالوں جیسے
کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے
مچھلیوں جیسی سادہ منش امیدیں اپنی
عیّاروں کے ہتھکنڈے ہیں جالوں جیسے
دھُند سے کیونکر نکلے پار مسافت اُن کی
رہبر جنہیں میّسر ہوں نقالوں جیسے
اپنے یہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے
آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجد چھالوں جیسے
ماجد صدیقی

بھرا ہوا ہوں سلگتے ہوئے سوالوں سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 540
یہ سچ کی آگ پرے رکھ مرے خیالوں سے
بھرا ہوا ہوں سلگتے ہوئے سوالوں سے
مکانِ ذات کے دیمک زدہ کواڑ کھلے
بھری ہوئی ہیں چھتیں مکڑیوں کے جالوں سے
مجھے پسند ہے عورت، نماز اور خوشبو
انہی کو چھینا گیا ہے مرے حوالوں سے
عمل کے اسم سے بابِ طلسم کھلنا ہے
اتار رینگتی صدیوں کا زنگ تالوں سے
بھٹک رہا ہے سرابوں کی شکل میں پانی
قضا ہوا کوئی چشمہ کہیں غزالوں سے
نہ مانگ وقت کی باریش چھاؤں سے دانش
لٹکتے کب ہیں ثمر برگدوں کے بالوں سے
منصور آفاق