ٹیگ کے محفوظات: جاری

سینہ جویائے زخمِ کاری ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 247
پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے
سینہ جویائے زخمِ کاری ہے
پھِر جگر کھودنے لگا ناخن
آمدِ فصلِ لالہ کاری ہے
قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیاز
پھر وہی پردۂ عماری ہے
چشم دلاّلِ جنسِ رسوائی
دل خریدارِ ذوقِ خواری ہے
وُہ ہی@ صد رنگ نالہ فرسائی
وُہ ہی@ صد گونہ اشک باری ہے
دل ہوائے خرامِ ناز سے پھر
محشرستانِ بیقراری ہے
جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہے
روزِ بازارِ جاں سپاری ہے
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے
پھر کھلا ہے درِ عدالتِ ناز
گرم بازارِ فوجداری ہے
ہو رہا ہے جہان میں اندھیر
زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
پھر دیا پارۂ جگر نے سوال
ایک فریاد و آہ و زاری ہے
پھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلب
اشک باری کا حکم جاری ہے
دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا
آج پھر اس کی روبکاری ہے
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
@ نسخۂ مہر و آسی میں ” وُہی”
مرزا اسد اللہ خان غالب

دزد غمزوں کی ویسی عیاری

دیوان ششم غزل 1902
وے سیہ موئی و گرفتاری
دزد غمزوں کی ویسی عیاری
اب کے دل ان سے بچ گیا تو کیا
چور جاتے رہے کہ اندھیاری
اچھا ہونا نہیں مریض عشق
ساتھ جی کے ہے دل کی بیماری
کیوں نہ ابر بہار پر ہو رنگ
برسوں دیکھی ہے میری خوں باری
شور و فریاد و زاری شب سے
شہریوں کو ہے مجھ سے بیزاری
چلے جاتے ہیں رات دن آنسو
دیدئہ تر کی خیر ہے جاری
مر رہیں اس میں یا رہیں جیتے
شیوہ اپنا تو ہے وفاداری
کیونکے راہ فنا میں بیٹھیے گا
جرم بے حد سے ہے گراں باری
واں سے خشم و خطاب و ناز و عتاب
یاں سے اخلاص و دوستی یاری
میر چلنے سے کیوں ہو غافل تم
سب کے ہاں ہو رہی ہے تیاری
میر تقی میر

بھلا کب تلک بیقراری رہے

دیوان ششم غزل 1892
سر راہ چند انتظاری رہے
بھلا کب تلک بیقراری رہے
رہا ہی کئے آنسو پلکوں پہ شب
کہاں تک ستارہ شماری رہے
کہا بوسہ دے کر سفر جب چلا
کہ میری بھی یہ یادگاری رہے
کہیں خشک ہو چشمۂ چشم بھی
لہو منھ پہ تاچند جاری رہے
بس اب رہ چکی جان غمناک بھی
جو ایسی ہی تن کی نزاری رہے
تسلی نہ ہو دل اگر یار سے
ہمیں سالہا ہم کناری رہے
ترے ہیں دعاگو سنا خوب ہی
فقیروں کی گر گوش داری رہے
شب وصل تھی یا شب تیغ تھی
کہ لڑتے ہی وے رات ساری رہے
کریں خواب ہمسائے کیونکر کہ یاں
بلا شور و فریاد و زاری رہے
پھرا کرتے ہیں خوار گلیوں میں ہم
کہاں تک یہ بے اعتباری رہے
کج ابرو ان اطفال میں ہے عجب
جو میر آبرو بھی تمھاری رہے
میر تقی میر

ہے معلوم کہ عالم عالم پھر یاں وہ جاری ہے فیض

دیوان پنجم غزل 1640
عالم علم سے اس عالم میں ہر لحظہ طاری ہے فیض
ہے معلوم کہ عالم عالم پھر یاں وہ جاری ہے فیض
سنگ و شجر ہیں پانی پون ہیں غنچہ و گل ہیں بارو بر
عالم ہژدہ ہزار جو ہیں یہ سب میں وہ ساری ہے فیض
میر تقی میر

لے زمیں سے تا فلک فریاد و زاری کیجیے

دیوان سوم غزل 1281
شب اگر دل خواہ اپنے بے قراری کیجیے
لے زمیں سے تا فلک فریاد و زاری کیجیے
ایک دن ہو تو کریں احوال گیری دل کی آہ
مر گئے ہم کب تلک تیمارداری کیجیے
نوچیے ناخن سے منھ یا چاک کریے سب جگر
جی میں ہے آگے ترے کچھ دستکاری کیجیے
جایئے اس شہر ہی سے اب گریباں پھاڑ کر
کیجیے کیا غم سے یوں ماتم گذاری کیجیے
یوں بنے کب تک کہ بے لعل لب اس کے ہر گھڑی
چشمہ چشمہ خون دل آنکھوں سے جاری کیجیے
کنج لب اس شوخ کا بھی ریجھنے کی جاے ہے
صرف کیجے عمر تو اس جاے ساری کیجیے
کوہ غم سر پر اٹھا لیجے نہ کہیے منھ سے کچھ
عشق میں جوں کوہکن کچھ بردباری کیجیے
گرچہ جی کب چاہتا ہے آپ کا آنے کو یاں
پر کبھو تو آئیے خاطر ہماری کیجیے
آشنا ہو اس سے ہم مر مر گئے آئندہ میر
جیتے رہیے تو کسو سے اب نہ یاری کیجیے
میر تقی میر

ہر اک اُس سرکار کا چاکر، اُس در کا درباری ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 300
جو بھی سورج، چاند، ستارہ، خوشبو، بادِ بہاری ہے
ہر اک اُس سرکار کا چاکر، اُس در کا درباری ہے
لوگو، تم اس منظر شب کو کاہکشاں بتلاتے ہو
یہ تو اُنؐ کی خاک گزر ہے، اُنؐ کی گردِ سواری ہے
سر پر بوجھ گناہوں کا اور دل میں آس شفاعت کی
آگے رحمت اُنؐ کی ویسے مجرم تو اقراری ہے
اُنؐ کے کرم کے صدقے سب کے بند گراں کھل جاتے ہیں
داد طلب کہیں چڑیاں ہیں، کہیں آہوئے تاتاری ہے
عالم عالم دھوم مچی ہے اُنؐ کے لطف و عنایت کی
بستی بستی، صحرا صحرا فیض کا دریا جاری ہے
بزم وفا صدیقؓ و عمرؓ، عثمانؓ و علیؓ سے روشن ہے
چار ستارے، چاروں پیارے، چار کی آئینہ داری ہے
اُنؐ کی ذات پاک سے ٹھہرا اُن کا سارا گھرانہ پاک
جس کے لیے تطہیر کی چادر اُنؐ کے رب نے اُتاری ہے
عرفان صدیقی

اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 222
توڑ دی اس نے وہ زنجیر ہی دلداری کی
اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی
ہم تو صحرا ہوئے جاتے تھے کہ اس نے آکر
شہر آباد کیا‘ نہرِ صبا جاری کی
ہم بھی کیا شے ہیں طبیعت ملی سیارہ شکار
اور تقدیر ملی آہوئے تاتاری کی
اتنا سادہ ہے مرا مایۂ خوبی کہ مجھے
کبھی عادت نہ رہی آئنہ برداری کی
میرے گم گشتہ غزالوں کا پتہ پوچھتا ہے
فکر رکھتا ہے مسیحا مری بیماری کی
اس کے لہجے میں کوئی چیز تو شامل تھی کہ آج
دل پہ اس حرفِ عنایت نے گراں باری کی
عرفان صدیقی

شمع گل ہوتے ہی سب چلنے کی تیاری کریں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 153
روشنی میں لوگ اعلانِ وفاداری کریں
شمع گل ہوتے ہی سب چلنے کی تیاری کریں
جب ہمیں بے مول ہاتھ آنے لگیں سچائیاں
کیا ضرورت ہے کہ خوابوں کی خریداری کریں
یہ زمیں پھر پاؤں کی زنجیر ہوجانے کو ہے
وحشتیں اب کوئی فرمانِ سفر جاری کریں
تو میسر ہے تو تجھ پر شعر کیوں لکھیں کوئی
تجھ سے فرصت ہو تو ہم یہ شغلِ بیکاری کریں
عرفان صدیقی

ہم نے تیری نظر اتاری دوست

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 141
کر کے آنکھوں سے بادہ خواری دوست
ہم نے تیری نظر اتاری دوست
اک تعلق ہے خواب کا اس سے
وہ زیادہ نہیں ہماری دوست
زد میں آیا ہوا نہیں نکلا
شور کرتے رہے شکاری دوست
اس کی اک اک نظر میں لکھا تھا
میں تمہاری ہوں بس تمہاری دوست
کیوں مہکتی ہے تیز بارش میں
اک دہکتی ہوئی کنواری دوست
راہ بنتی ہے آنے جانے سے
اور بناتے ہیں باری باری دوست
کچھ عجب ہے تمہارے لہجے میں
بڑھتی جاتی ہے بے قراری دوست
ہم اداسی پہن کے پھرتے ہیں
کچھ ہماری بھی غم گساری دوست
ہم اکیلے ہیں اپنے پہلو میں
ایسی ہوتی ہے دوست داری دوست
رات بھر بیچتے تھے جو سورج
اب کہاں ہیں وہ کاروباری دوست
کیا ہیں کٹھ پتلیاں قیامت کی
برگزیدہ ہوئے مداری دوست
حق ہمارا تھا جس کے رنگوں پر
تم نے وہ زندگی گزاری دوست
ہر طرف ہجرتیں ہیں بستی میں
کیا تمہاری ہے شہریاری دوست
دشتِ دل میں تمہاری ایڑی سے
ہو گیا چشمہ ایک جاری دوست
ہجر کی بالکونی کی شاید
میلوں لمبی ہے راہداری دوست
زندگی نام کی کہیں منصور
ایک ہے دوجہاں سے پیاری دوست
منصور آفاق