ٹیگ کے محفوظات: جادہ

دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے

زیاں جگر کا سہی یہ جو شغلِ بادہ ہے
دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے
دکھائی دی ہے جھلک اُس کی ایک مدت بعد
یہ خواب میرے لیے خواب سے زیادہ ہے
ملائے گا یہ کسی شاہراہ سے ہم کو
مٹا مٹا سا جو قدموں میں اپنے جادہ ہے
یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بِساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے
یہ سوچ کر وہ مری بات کاٹ دیتے ہیں
کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کا اعادہ ہے
یہاں رہیں گے وہ میرے حریف کے ہمراہ
اُنہیں گماں ہے مرا دل بہت کشادہ ہے
وہ اہلِ بزم کی رنگیں نوائی اپنی جگہ
ہزار رنگ لیے میرا حرفِ سادہ ہے
اگر خدا نے نکالا بُتوں کے چکّر سے
طوافِ کعبہ کا اب کے برس اِرادہ ہے
باصر کاظمی

اور ترا ہجر، ترا دھیان زیادہ چاہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
دل کی جو بھی ہو طلب،تجھ سے اعادہ چاہے
اور ترا ہجر، ترا دھیان زیادہ چاہے
تیری آنکھوں کے سوا مستیاں چھلکیں نہ کہیں
جسم کا جام ترے قرب کا بادہ چاہے
سچ وہ سورج کی کرن ہے جو چھپائے نہ چھپے
مکر جیسا بھی ہو ہر آن لبادہ چاہے
گانٹھ کیسی ہو وہ اس سے کبھی کھولے نہ کھلے
حسن چاہت کی کوئی بات ہو سادہ چاہے
چاند جذبوں کی صداقت سے پہنچ کو پہنچے
کوہ کھدنے کو بڑا سخت ارادہ چاہے
تجھ سے ملنے کو پروبال بھی درکار ہیں اب
اب تو ماجِد بھی ہوا پر کوئی جادہ چاہے
ماجد صدیقی

ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 60
اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے
پینا ہو تو اک جرعۂِ زہراب بہت ہے
ہم تشنہ دہن تہمتِ بادہ نہیں رکھتے
اشکوں سے چراغاں ہے شبِ زیست، سو وہ بھی
کوتاہیِٔ مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے
یہ گردِ رہِ شوق ہی جم جائے بدن پر
رسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے
ہر گام پہ جگنو سا چمکتا ہے جو دل میں
ہم اس کے سوا مشعلِ جادہ نہیں رکھتے
سرخی نہیں پھولوں کی تو زخموں کی شفق ہے
دامانِ طلب ہم کبھی سادہ نہیں رکھتے
شکیب جلالی

ذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 250
کس کی برقِ شوخئ رفتار کا دلدادہ ہے
ذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہے
ہے غـرورِ سرکشی صورت نماۓ عجز بھی
منقلب ہو کر بسانِ نقشِ پا افتادہ ہے
خانہ ویراں سازئ عشقِ جفا پیشہ نہ پوچھ
نامرادوں کا خطِ تقدیر تک بھی سادہ ہے
خود نشاط و سرخوشی ہے آمدِ فصلِ بہار
آج ہر سیلِ رواں عالم میں موجِ بادہ ہے
زندگانی رہروِ راہِ فنا ہے اے اسدؔ
ہر نفس ہستی سے تا ملکِ عدم اک جادہ ہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 219
آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہے
نقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشمِ مست کا
شیشے میں نبضِ پری پنہاں ہے موجِ بادہ سے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بحر سے جا ملنے کا جادہ مل جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 54
کاش کبھی وہ دریا زادہ مل جائے
بحر سے جا ملنے کا جادہ مل جائے
کیا کہنا گنجینۂ دل کی دولت کا
خرچ کروں تو اور زیادہ مل جائے
جیون کا یہ مایا روپ بدل ڈالوں
مجھ کو وہ شہ زور ارادہ مل جائے
آنکھ بہت رو لے تو لمحہ درز بنے
اور وہ درشن پر آمادہ مل جائے
لیکھ یہی ہے دن بھر کی مزدوری میں
نانِ خشک اور آبِ سادہ مل جائے
آفتاب اقبال شمیم

اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 8
مے گساری سے ذرا ربط زیادہ کر لو
اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو
وُہ کہ ناخواندۂ جذبہ ہے نہیں پڑھ سکتا
اپنی تحریر کو تم جتنا بھی سادہ کر لو
ایسا سجدہ کہ زمیں تنگ نظر آنے لگے
یہ جبیں اور، ذرا اور کشادہ کر لو
امتحاں کمرۂ دنیا میں اگر دنیا ہے
روز گردان کے فعلوں کا اعادہ کر لو
پھر بتائیں گے تمہیں چشمۂ حیواں ہے کہاں
گھر سے دفتر کا ذرا ختم یہ جادہ کر لو
ٹالنے کی تمہیں ٹل جانے کی عادت ہے ہمیں
پھر سہی، اگلی ملاقات کا وعدہ کر لو
آفتاب اقبال شمیم

جاتا ہے مدنیہ سے بس اک رستۂ مخصوص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 198
فردوس سے آگے ہے وہ سرچشمۂ مخصوص
جاتا ہے مدنیہ سے بس اک رستۂ مخصوص
اپنی تو رسائی نہیں اس بامِ فلک تک
معلوم کیا جائے کوئی بندۂ مخصوص
اے شہرِ گداگر ترے والی کے لیے کیا
بنوانا ضروری ہے کوئی کاسۂ مخصوص
انکارِ مسلسل کی فصیلیں ہیں جہاں پر
تسخیر کروں گا میں وہی رشتۂ مخصوص
اک نرم سے ریشے کی کسی نس کے نگر میں
بس دیکھتا پھرتا ہوں ترا چہرۂ مخصوص
کہتے ہیں کہ آسیب وہاں رہنے لگے ہیں
ہوتا تھا کسی گھر میں مرا کمرۂ مخصوص
سنتے ہیں نکلتا ہے فقط دل کی گلی سے
منزل پہ پہنچ جاتا ہے جو جادۂ مخصوص
لوگوں سے ابوزر کے روابط ہیں خطرناک
صحرا میں لگایا گیا پھر خیمۂ مخصوص
ہنستے ہوئے پانی میں نیا زہر ملا کر
بھیجا ہے کسی دوست نے مشکیزۂ مخصوص
آواز مجھے دیتا ہے گرداب کے جیسا
منصور سمندر میں کوئی دیدۂ مخصوص
منصور آفاق