ٹیگ کے محفوظات: جات

رہ رہے ہیں رات میں ہم رات کے مارے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 511
جا نہیں سکتے کہیں ظلمات کے مارے ہوئے
رہ رہے ہیں رات میں ہم رات کے مارے ہوئے
رات کے پچھلی گلی میں ایک میں اور ایک چاند
جاگتے پھرے ہیں دو حالات کے مارے ہوئے
دیدۂ شب میں پہن کر بارشوں کے پیرہن
پھر رہے ہیں موسمِ برسات کے مارے ہوئے
لوگ تھے اور فیض جاری تھی کسی درگاہ پر
لوٹ آئے ہم شعورِ ذات کے مارے ہوئے
ہم بھارت اور پاکستان کے منصور لوگ
دونوں کشمیری علاقہ جات کے مارے ہوئے
منصور آفاق