ٹیگ کے محفوظات: جاتے

کیسے کیسے وقت آئے اور گزر جاتے رہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
پھول کچھ لمحے تو کچھ تھے سنگ برساتے رہے
کیسے کیسے وقت آئے اور گزر جاتے رہے
تھپکیوں سے بھی رہے تھے رس اُنہی کا چوستے
مہرباں جھونکے تھے جن پتّوں کو سہلاتے رہے
تھا اُنہی کے جسم میں وقتِ سحر خوں جم گیا
جو فصیلِ شب سے ساری رات ٹکراتے رہے
خوب تھا وہ آتے جاتے موسموں کا سا ملاپ
تم ملا کرتے تو تھے گرچہ بچھڑ جاتے رہے
خاک تھی وہ لذّتِ خواب سکوں جس کے عوض
آنے والے دن بھی گروی رکھ دئیے جاتے رہے
شاخچوں کے پھول پھل پڑنے سے پہلے توڑنا
ایسی رسمیں بھی یہاں کچھ لوگ دُہراتے رہے
یاد سے ہو محو ماجدؔ کیسے اُن چہروں کا عکس
شدّتِ خواہش سے جو دل میں اُتر آتے رہے
ماجد صدیقی

ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 110
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں‌بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
احمد فراز

جس طرح آئینے چہروں کو ترس جاتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 68
اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں
جس طرح آئینے چہروں کو ترس جاتے ہیں
احتیاط اہل محبت کہ اسی شہر میں لوگ
گل بدست آتے ہیں اور پایہ رسن جاتے ہیں
جیسے تجدید تعلق کی بھی رُت ہو کوئی
زخم بھرتے ہیں تو احباب بھی آ جاتے ہیں
ساقیا ! تو نے تو میخانے کا یہ حال کیا
بادہ کش محتسب شہر کے گن گاتے ہیں
طعنۂ نشہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں
شدتِ تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں
ہر کڑی رات کے بعد ایسی قیامت گزری
صبح کا ذکر بھی آئے تو لرز جاتے ہیں
احمد فراز

رونق گلستاں میں نہ آئی کمی پھول آتے رہے پھول جاتے رہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 143
فصلِ گلشن وہی فصلِ گلشن رہی لاکھ گلچیں ستم روز ڈھاتے رہے
رونق گلستاں میں نہ آئی کمی پھول آتے رہے پھول جاتے رہے
یوں نہ اہلِ محبت کو برباد کر ختم ہو جائیں گی حسن کی منتیں
کون پھر تیرے قدموں پہ رکھے گا سر ہم اگر تیرے ہاتھوں سے جاتے رہے
جرأتِ عشقِ گلشن ذرا دیکھئے سر پہ دیکھی بلا اور پرو نہ کی
برق ادھر آسماں پر چمکتی رہی ہم ادھر آشیانہ بناتے رہے
اف پسِ قتل وہ عالمِ بے کسی کوئی مصروفِ ماتم نہ گور و کفن
لاش جب تک مری رہگزر میں رہی راستہ چھوڑ کر لوگ جاتے رہے
ہجر کی رات ہے مانگئے یہ دعا ابر چھا جائے اندازۂ شب نہ ہو
اے قمر صبح دشوار ہو جائے گی یہ ستارے اگر جگمگاتے رہے
قمر جلالوی

باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 41
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کیا کہا؟، پھر تو کہو، “ہم نہیں سنتے تیری“
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے
تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا
کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغ تو کیوں جیتے ہو؟
جان پیاری بھی نہیں، جان سے جاتے بھی نہیں
داغ دہلوی

لوگ گرویدہ ہوتے جاتے ہیں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 47
جس قدر خود کو وہ چھپاتے ہیں
لوگ گرویدہ ہوتے جاتے ہیں
جو بھی ہمدرد بن کے آتے ہیں
غم کا احساس ہی جگاتے ہیں
عہدِ ماضی کے زرفِشاں لمحے
شِدّتِ غم میں مسکراتے ہیں
خود کو بدنام کر رہا ہوں میں
ان پہ الزام آئے جاتے ہیں
اجنبی بن کے جی رہا ہوں میں
لوگ مانوس ہوتے جاتے ہیں
شکیب جلالی

ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 236
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے جائیے
ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے
بن کے خوشبو کی اداسی رہیے دل کے باغ میں
دور ہوتے جائیے نزدیک آتے جائیے
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجیے مرا
یاد کا سر و ساماں جلاتے جائیے
رہ گئی امید تو برباد ہو جاؤں گا میں
جائیے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جائیے
زندگی کی انجمن کا بس یہی دستور ہے
بڑھ کے ملیے اور مل کر دور جاتے جائیے
آخری رشتہ تو ہم میں اک خوشی اک غم کا تھا
مسکراتے جائیے آنسو بہاتے جائیے
وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی
اس گلی میں جائیے تو لرکھڑاتے جائیے
آپ کو جب مجھ سے شکوا ہی نہیں کوئی تو پھر
آگ ہی دل میں لگانی ہے لگاتے جائیے
کوچ ہے خوابوں سے تعبیروں کی سمتوں میں تو پھر
جائیے پر دم بہ دم برباد جاتے جائیے
آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبان
سو مجھے زہرِ مروت تو پلاتے جائیے
ہے سرِ شب اور مرے گھر میں نہیں کوئی چراغ
آگ تو اس گھر میں جانا نہ لگاتے جائیے
جون ایلیا

جانے کیسے لوگ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 187
کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہو گا
یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
یارو! کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
جون ایلیا

بوسۂ کنج لب سے پھر بھی ذائقے اپنے بناتے تھے

دیوان پنجم غزل 1753
ہائے جوانی وصل میں اس کے کیا کیا لذت پاتے تھے
بوسۂ کنج لب سے پھر بھی ذائقے اپنے بناتے تھے
کیا کیا تم نے فریب کیے ہیں سادگی میں دل لینے کو
ٹیڑھی کرکے کلاہ آتے تھے مے ناخوردہ ماتے تھے
ہائے جدائی ایک ہی جاگہ مار کے ہم کو توڑ رکھا
وے دن یاد آتے ہیں اب جب ان کے آتے جاتے تھے
غیروں کی تم سنتے رہے سو غیرت سے ہم سہتے رہے
وے تو تم کو لگا جاتے تھے تم آہم کو جلاتے تھے
رنج و الم غم عشق ہی کے اعجاز سے کھنچتے تھے ورنہ
حوصلہ کتنا اپنا جس میں یہ آزار سماتے تھے
وے دن کیسے سالتے ہیں جو آکر سوتے پاتے کبھو
آنکھوں سے ہم سہلا سہلا تلوے اس کو جگاتے تھے
چاہت روگ برا ہے جی کا میر اس سے پرہیز بھلا
اگلے لوگ سنا ہے ہم نے دل نہ کسو سے لگاتے تھے
میر تقی میر

چکر مارو جیسے بگولا خاک اڑاتے آتے رہو

دیوان پنجم غزل 1706
عاشق ہو تو اپنے تئیں دیوانہ سب میں جاتے رہو
چکر مارو جیسے بگولا خاک اڑاتے آتے رہو
دوستی جس کو لوگ کہیں ہیں جان سے اس کو خصومت ہے
ہوجاوے جو تم کو کسی سے تا مقدور چھپاتے رہو
دل لگنے کی چوٹ بری ہے اس صدمے سے خدا حافظ
بارے سعی و کشش کوشش سے جی کو اپنے بچاتے رہو
آئی بہار جنوں ہو مبارک عشق اللہ ہمارے لیے
نعل جڑے سینوں پہ پھرو تم داغ سروں پہ جلاتے رہو
شاعر ہو مت چپکے رہو اب چپ میں جانیں جاتی ہیں
بات کرو ابیات پڑھو کچھ بیتیں ہم کو بتاتے رہو
ابر سیہ قبلے سے آیا تم بھی شیخو پاس کرو
تخفیفے ٹک لٹ پٹے باندھو ساختہ ہی مدھ ماتے رہو
کیا جانے وہ مائل ہووے کب ملنے کا تم سے میر
قبلہ و کعبہ اس کی جانب اکثر آتے جاتے رہو
میر تقی میر

نہ جاتے اس طرف تو ہاتھ سے اپنے نہ جاتے تم

دیوان پنجم غزل 1681
کہا سنتے تو کاہے کو کسو سے دل لگاتے تم
نہ جاتے اس طرف تو ہاتھ سے اپنے نہ جاتے تم
شکیبائی کہاں جو اب رہے جاتی ہوئی عزت
کدھر وہ ناز جس سے سرفرو ہرگز نہ لاتے تم
یہ حسن خلق تم میں عشق سے پیدا ہوا ورنہ
گھڑی کے روٹھے کو دو دو پہر تک کب مناتے تم
نظر دزدیدہ کرتے ہو جھکی رکھتے ہو پلکوں کو
لگی ہوتیں نہ آنکھیں تو نہ آنکھوں کو چھپاتے تم
یہ ساری خوبیاں دل لگنے کی ہیں مت برا مانو
کسو کا بار منت بے علاقہ کب اٹھاتے تم
پھرا کرتے تھے جب مغرور اپنے حسن پر آگے
کسو سے دل لگا جو پوچھتے ہو آتے جاتے تم
جو ہوتے میر سو سر کے نہ کرتے اک سخن ان سے
بہت تو پان کھاتے ہونٹ غصے سے چباتے تم
میر تقی میر

آنا یک سو کب دیکھو ہو ایدھر آتے جاتے تم

دیوان پنجم غزل 1677
ڈول لگائے بہتیرے پر ڈھب پہ کبھو نہیں آتے تم
آنا یک سو کب دیکھو ہو ایدھر آتے جاتے تم
ہر صورت کو دیکھ رہو ہو ہر کوچے کو جھانکو ہو
آگے عشق کیا ہوتا تو پھرتے جی نہ کھپاتے تم
چاہت آفت الفت کلفت مہر و وفا و رنج وبلا
عشق ہی کے سب نام ہیں یہ دل کاش کہیں نہ لگاتے تم
شائق ہو مرغان قفس کے آئے گھر صیادوں کے
پھول اک دو تسکین کو ان کی کاش چمن سے لاتے تم
دونوں طرف سے کشش رہتی تھی نیا نیا تھا عشق اپنا
دھوپ میں آتے داغ ہوئے تو گرمی سے گل کھاتے تم
کیدھر اب وہ یک رنگی جو دیکھ نہ سکتے دل تنگی
رکتے پاتے ٹک جو ہمیں تو دیر تلک گھبراتے تم
کیا کیا شکلیں محبوبوں کی پردئہ غیب سے نکلی ہیں
منصف ہو ٹک اے نقاشاں ایسے چہرے بناتے تم
شاید شب مستی میں تمھاری گرم ہوئی تھیں آنکھیں کہیں
پیش از صبح جو آئے ہو تو آئے راتے ماتے تم
کب تک یہ دزدیدہ نگاہیں عمداً آنکھیں جھکا لینا
دلبر ہوتے فی الواقع تو آنکھیں یوں نہ چھپاتے تم
بعد نماز دعائیں کیں سو میر فقیر ہوئے تم تو
ایسی مناجاتوں سے آگے کاشکے ہاتھ اٹھاتے تم
میر تقی میر

آنکھیں مندیں اب جاچکے ہم وے دیکھو تو آتے ہیں ہنوز

دیوان پنجم غزل 1626
کب سے آنے کہتے ہیں تشریف نہیں لاتے ہیں ہنوز
آنکھیں مندیں اب جاچکے ہم وے دیکھو تو آتے ہیں ہنوز
کہتا ہے برسوں سے ہمیں تم دور ہو یاں سے دفع بھی ہو
شوق و سماجت سیر کرو ہم پاس اس کے جاتے ہیں ہنوز
راتوں پاس گلے لگ سوئے ننگے ہوکر ہے یہ عجب
دن کو بے پردہ نہیں ملتے ہم سے شرماتے ہیں ہنوز
ساتھ کے پڑھنے والے فارغ تحصیل علمی سے ہوئے
جہل سے مکتب کے لڑکوں میں ہم دل بہلاتے ہیں ہنوز
گل صد رنگ چمن میں آئے بادخزاں سے بکھر بھی گئے
عشق و جنوں کی بہار کے عاشق میر جی گل کھاتے ہیں ہنوز
میر تقی میر

آتے ہو تمکین سے ایسے جیسے کہیں کو جاتے ہو

دیوان چہارم غزل 1474
ناز کی کوئی یہ بھی ٹھسک ہے جی کاہے کو کڑھاتے ہو
آتے ہو تمکین سے ایسے جیسے کہیں کو جاتے ہو
غیر کی ہمراہی کی عزت جی مارے ہے عاشق کا
پاس کبھو جو آتے ہو تو ساتھ اک تحفہ لاتے ہو
مست نہیں پر بال ہیں بکھرے پیچ گلے میں پگڑی کے
ساختہ ایسے بگڑے رہو ہو تم جیسے مدھ ماتے ہو
پردہ ہم سے کر لیتے ہو جب آتے ہو مجلس میں
آنکھیں سب سے ملاتے ہو کچھ ہم ہی سے شرماتے ہو
سوچ نہیں یہ فقیر ہے اپنا جیب دریدہ دیوانہ
ٹھوکر لگتے دامن کو کس ناز سے تم یاں آتے ہو
رفتۂ عشق کسو کا یارو راہ چلے ہے کس کے کہے
کون رہا ہے آپ میں یاں تم کس کے تئیں سمجھاتے ہو
صبر بلا پر کرتے صاحب بیتابی کا حاصل کیا
کوئی مقلب قلبوں کا ہے میر عبث گھبراتے ہو
میر تقی میر

رحلت کرنے سے آگے مجھ کو دیکھتے آتے جاتے تم

دیوان چہارم غزل 1442
چاہیے یوں تھا بگڑی صحبت آپھی آ کے بناتے تم
رحلت کرنے سے آگے مجھ کو دیکھتے آتے جاتے تم
چلتے کہا تھا جائو سفر کر آئوگے تو ملیے گا
وعدئہ وصل نہ ہوتا تو پھر کس کو جیتا پاتے تم
کیا دن تھے وے دیکھتے تم کو نیچی نظر میں کرلیتا
شرما شرما لوگوں سے جب آنکھیں مجھ کو دکھاتے تم
بستر پر میں مردہ سا تھا جان سی مجھ میں آجاتی
کیا ہوتا جو رنجہ قدم کر میرے سرہانے آتے تم
دل کے اوپر ہاتھ رکھے ہی شام و سحر یاں گذرے ہے
حال یہ تھا تو دل عاشق کا ہاتھ میں ٹک تو لاتے تم
خاک ہے اصل طینت آدم چاہیے اس کو عجز کرے
بات کی تہ کو کچھ پاتے تو اتنا سر نہ اٹھاتے تم
چہرہ زرد بجا ہے سارا عشق میں غم کا مارا ہوں
رنگ یہ دیکھا ہوتا تو دل میر کہیں نہ لگاتے تم
میر تقی میر

پھر برسوں تئیں پیارے جی سے نہیں جاتے ہو

دیوان دوم غزل 918
برسوں میں کبھو ایدھر تم ناز سے آتے ہو
پھر برسوں تئیں پیارے جی سے نہیں جاتے ہو
آتے ہو کبھو یاں تو ہم لطف نہیں پاتے
سو آفتیں لاتے ہو سو فتنے اٹھاتے ہو
رہتے ہو تم آنکھوں میں پھرتے ہو تمھیں دل میں
مدت سے اگرچہ یاں آتے ہو نہ جاتے ہو
ایسی ہی زباں ہے تو کیا عہدہ برآ ہوں گے
ہم ایک نہیں کہتے تم لاکھ سناتے ہو
خوش کرنے سے ٹک ایسے ناخوش ہی رکھا کریے
ہنستے ہو گھڑی بھر تو پہروں ہی رلاتے ہو
اک خلق تلاشی ہے تم ہاتھ نہیں لگتے
لڑکے تو ہو پر سب کو ٹالے ہی بتاتے ہو
مدت سے تمھارا کب ایدھر کو تہ دل ہے
کاہے کو تصنع سے یہ باتیں بناتے ہو
کچھ عزت کفر آخر اے دیر کے باشندو
مجھ سہل سے کو کیوں تم زنار بندھاتے ہو
آوارہ اسے پھرتے پھر برسوں گذرتے ہیں
تم جس کسو کو اپنے ٹک پاس بٹھاتے ہو
دل کھول کے مل چلیے جو میر سے ملنا ہے
آنکھیں بھی دکھاتے ہو پھر منھ بھی چھپاتے ہو
میر تقی میر

بہت اس طرف کو تو جاتے ہیں لوگ

دیوان دوم غزل 849
رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ
بہت اس طرف کو تو جاتے ہیں لوگ
مظاہر سب اس کے ہیں ظاہر ہے وہ
تکلف ہے یاں جو چھپاتے ہیں لوگ
عجب کی جگہ ہے کہ اس کی جگہ
ہمارے تئیں ہی بتاتے ہیں لوگ
رہے ہم تو کھوئے گئے سے سدا
کبھو آپ میں ہم کو پاتے ہیں لوگ
اس ابرو کماں پر جو قرباں ہیں ہم
ہمیں کو نشانہ بناتے ہیں لوگ
نہ سویا کوئی شور شب سے مرے
قیامت اذیت اٹھاتے ہیں لوگ
ان آنکھوں کے بیمار ہیں میر ہم
بجا دیکھنے ہم کو آتے ہیں لوگ
میر تقی میر

آنکھ اٹھاکر جب دیکھے ہیں اوروں میں ہنستے جاتے ہو

دیوان اول غزل 391
ہم سے تو تم کو ضد سی پڑی ہے خواہ نخواہ رلاتے ہو
آنکھ اٹھاکر جب دیکھے ہیں اوروں میں ہنستے جاتے ہو
جب ملنے کا سوال کروں ہوں زلف و رخ دکھلاتے ہو
برسوں مجھ کو یوں ہی گذرے صبح و شام بتاتے ہو
بکھری رہیں ہیں منھ پر زلفیں آنکھ نہیں کھل سکتی ہے
کیونکے چھپے مے خواری شب جب ایسے رات کے ماتے ہو
سرو تہ و بالا ہوتا ہے درہم برہم شاخ گل
ناز سے قد کش ہوکے چمن میں ایک بلا تم لاتے ہو
صبح سے یاں پھر جان و دل پر روز قیامت رہتی ہے
رات کبھو آ رہتے ہو تو یہ دن ہم کو دکھلاتے ہو
جن نے تم کو نہ دیکھا ہووے اس سے آنکھیں مارو تم
ایک نگاہ مفتن کر تم سو سو فتنے اٹھاتے ہو
چشم تو ہے اک دید کی جا پر کب تکلیف کے لائق ہے
دل جو ہے دلچسپ مکاں تم اس میں کب کب آتے ہو
راحت پہنچی ٹک تم سے تو رنج اٹھایا برسوں تک
سر سہلاتے ہو جو کبھو تو بھیجا بھی کھا جاتے ہو
ہو کے گداے کوے محبت زور صدا یہ نکالی ہے
اب تو میر جی راتوں کو تم ہر در پر چلاتے ہو
میر تقی میر

گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں

دیوان اول غزل 325
ہم تو مطرب پسرکے جاتے ہیں
گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں
خاک میں لوٹتے تھے کل تجھ بن
آج لوہو میں ہم نہاتے ہیں
اے عدم ہونے والو تم تو چلو
ہم بھی اب کوئی دم میں آتے ہیں
ایک کہتا ہوں میں تو منھ پہ رقیب
تیری پشتی سے سو سناتے ہیں
دیدہ و دل کا کیا کیا تھا میں
روز آفت جو مجھ پہ لاتے ہیں
کوئی رووے ہے کوئی تڑپے ہے
کیا کروں میرے گھر سے آتے ہیں
ورنہ میں میر ہوں مرے آگے
دشت غم بھی نہ ٹکنے پاتے ہیں
کھود گاڑوں زمیں میں دونوں کو
گرچہ یہ آسماں پہ جاتے ہیں
دیدہ و دل شتاب گم ہوں میر
سر پہ آفت ہمیشہ لاتے ہیں
میر تقی میر

وہ راہ کے ہرہر کاٹنے پر کچھ خونِجگر ٹپکاتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 359
یہ راہِ محبت ہے ساتھی اس راہ پہ جو بھی آتے ہیں
وہ راہ کے ہرہر کاٹنے پر کچھ خونِجگر ٹپکاتے ہیں
اس دور کا ہم سرمایہ ہیں ہم اہل جنوں ہم اہل وفا
ہم کرب میں ڈوبی دنیا کو پھر کرب و بلا میں لاتے ہیں
تم لوگ فرازِ منبر سے شبیر پہ بس تقریر کرو
ہم رند اُتر کر میداں میں پھررسم وہی دھراتے ہیں
تاریخ کا یہ دوراھا ہے اک سمت وفا اک سمت جفا
کچھ جاہ و حشم کے راہی ہیں ،، کچھ دارورسن کو جاتے ہیں
یہ لوح و قلم کے مفتی کا منصورازل سے فتویٰ ہے
جو زخمِ جگر کو بوسے دیں وہ لوگ مرادیں پاتے ہیں
منصور آفاق

میں لوٹ کے آؤں گا وہ جاتے ہوئے کہتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 23
اتنا تو تعلق کو نبھاتے ہوئے کہتا
میں لوٹ کے آؤں گا وہ جاتے ہوئے کہتا
پہچانو مجھے، میں وہی سورج ہوں تمہارا
کیسے بھلا لوگوں کو جگاتے ہوئے کہتا
یہ صرف پرندوں کے بسیرے کے لیے ہے
آنگن میں کوئی پیڑ لگاتے ہوئے کہتا
ہر شخص مرے ساتھ ’’انا الحق‘‘ سرِ منزل
آواز سے آواز ملاتے ہوئے کہتا
اک موجِ مسلسل کی طرح نقش ہیں میرے
پتھر پہ میں اشکال بناتے ہوئے کہتا
اتنا بھی بہت تھا مری مایوس نظر کو
وہ دور سے کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے کہتا
یہ تیرے عطا کردہ تحائف ہیں میں کیسے
تفصیل مصائب کی بتاتے ہوئے کہتا
موسم کے علاوہ بھی ہو موجوں میں روانی
دریا میں کوئی نظم بہاتے ہوئے کہتا
عادت ہے چراغ اپنے بجھانے کی ہوا کو
کیا اس سے کوئی شمع جلاتے ہوئے کہتا
میں اپنی محبت کا فسانہ اسے منصور
محفل میں کہاں ہاتھ ملاتے ہوئے کہتا
منصور آفاق

لوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 232
تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے
لوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے
قمقمے بزم طرب کے جاگے
رنگ کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے
میں کسی بات کا پردہ ہوں کہ لوگ
تیری محفل سے اٹھاتے ہیں مجھے
زخم آئنہ بنے جاتے ہیں
حادثے سامنے لاتے ہیں مجھے
نیند بھی ایک ادا ہے تیری
رات بھر خواب جگاتے ہیں مجھے
تیرے کوچے سے گزرنے والے
کتنے اونچے نظر آتے ہیں مجھے
ان کے بگڑے ہوئے تیور باقیؔ
زیست کی یاد دلاتے ہیں مجھے
باقی صدیقی

کوئی دیکھے تو نظر آتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 123
اپنے زخموں میں چھپے جاتے ہیں
کوئی دیکھے تو نظر آتے ہیں
رنگ تصویر میں بھرنے والے
پس تصویر ہوئے جاتے ہیں
تیرے ارماں میں کہ اندوہ جہاں
دل میں کچھ سائے سے لہراتے ہیں
دھیان غربت کی طرف جاتا ہے
یاد ارباب وطن آتے ہیں
یہ غم دل، یہ شب تنہائی
سوچتے سوچتے سو جاتے ہیں
جب قدم رکھتے ہیں گھر میں باقیؔ
سینکڑوں حادثے یاد آتے ہیں
باقی صدیقی

زندگی کی ہنسی اڑاتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 122
بات پر اپنی ہم جب آتے ہیں
زندگی کی ہنسی اڑاتے ہیں
شب غم کا کوئی سوال نہیں
نیند آئے تو سو بھی جاتے ہیں
جانتے ہیں مآل غم پھر بھی
لوگ کیا کیا فریب کھاتے ہیں
راستہ بھولنا تو ہے اک بات
راہرو خود کو بھول جاتے ہیں
بات کو سوچتے نہیں باقیؔ
لوگ جب داستاں بناتے ہیں
باقی صدیقی

گلشن میں کیوں یاد بگولے آتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 120
کیا ذروں کا جوش صبا نے چھین لیا
گلشن میں کیوں یاد بگولے آتے ہیں
دنیا نے ہر بات میں کیا کیا رنگ بھرے
ہم سادہ اوراق الٹتے جاتے ہیں
دل ناداں ہے شاید راہ پہ آ جائے
تم بھی سمجھاؤ ہم بھی سمجھاتے ہیں
تم بھی الٹی الٹی باتیں پوچھتے ہو
ہم بھی کیسی کیسی قسمیں کھاتے ہیں
بیٹھ کے روئیں کس کو فرصت ہے باقیؔ
بولے بسرے قصے تو یاد آتے ہیں
باقی صدیقی

اپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 82
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
اپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم
کاٹتے ہیں رات جانے کس طرح
صبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم
بند کمرے میں سکوں ملنے لگا
جب ہوا چلتی ہے گھبراتے ہیں ہم
ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں
اور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم
زندگی کی کشمکش باقیؔ نہ پوچھ
نیند جب آتی ہے سو جاتے ہیں ہم
باقی صدیقی