ٹیگ کے محفوظات: جائیں

وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہم کس سے اپنا درد کہیں، کس سُکھ کی جوت جگائیں ہم
وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم
وُہ کون حقیقت ہو جس کو، ایقان کی منزل ٹھہرائیں
تکفیر ہو کس کس منظر کی اور کس پر ایماں لائیں ہم
نسلوں تک گروی رکھ کر ہم، کیا ٹھاٹھ سنبھالے بیٹھے ہیں
کچھ کم تو نہیں یہ کاج اپنا کیونکر نہ بھلا اِترائیں ہم
اغراض کا عرفاں ہونے پر مُنہ نوچیں ہر سچّائی کا
دھجّی دھّجّی ہر قول کریں، گر عہد کریں، پھر جائیں ہم
جو عیش ہمارا ہے چاہے بن جائے سزا اوروں کے لئے
جس حرص نے یہ اعزاز دیا، اُس حرص سے باز نہ آئیں ہم
یہ بات کہی جگنو نے ہمیں، تھک ہار کے تیرگیٔ شب میں
ہے حرفِ منّور جو بھی کوئی ماجدؔ نہ زباں پر لائیں ہم
ماجد صدیقی

آؤ کہ جسم و جاں کے شگوفے کھلائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
نِکھری رُتوں کا حسن‘ فضا سے چرائیں ہم
آؤ کہ جسم و جاں کے شگوفے کھلائیں ہم
بیدار جس سے خُفتہ لُہو ہو ترنگ میں
ایسا بھی کوئی گیت کبھی گنگنائیں ہم
رچتی ہے جیسے پھوُل کی خوشبُو ہواؤں میں
اِک دُوسرے میں یُوں بھی کبھی تو دَر آئیں ہم
اِخفا سہی پہ کچھ تو سپُردِ قلم بھی ہو
دیکھا ہے آنکھ سے جو سبھی کو دکھائیں ہم
ہو تُجھ سا مدّعائے نظر سامنے تو پھر
ساحل پہ کشتیوں کو نہ کیونکر جلائیں ہم
منصف ہے گر تو دل سے طلب کر یہ فیصلہ
تُجھ سے بچھڑ کے کون سے زنداں میں جائیں ہم
ایسا نہ ہو کہ پھر کبھی فرصت نہ مل سکے
ماجدؔ چلو کہ فصلِ تمّنا اٹھائیں ہم
ماجد صدیقی

گرفت کون سے لمحے پہ اپنی جتلائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
نفس نفس ہے رہینِ الم کدھر جائیں
گرفت کون سے لمحے پہ اپنی جتلائیں
ہمیں ملی ہیں یہ کیا کامرانیاں اب کے
کہ جن کا ذکر بھی چھیڑیں تو خود ہی شرمائیں
جب اپنے نام کی سب چاہتیں دلائیں اُنہیں
تو غیر مات پہ کیونکر نہ اپنی اِترائیں
جو فرق عکسِ شباہت میں ہے انہی سے ہے
بہ ضربِ طیش اِنہی آئنوں کو چٹخائیں
وہی بعجز و ندامت ہیں نسبتیں جس کی
چلو کہ طوق وہی پھر گلے میں لٹکائیں
جو وُوں نہیں تو یہ اعزاز یوں بھی ممکن ہے
حماقتوں کے عَلَم شہر شہر لہرائیں
کسی بھی حرف کی ماجدؔ نہیں جو شنوائی
تو پھر یہ ہاتھ دُعا کے ہی کیوں نہ کٹ جائیں
ماجد صدیقی

ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی
یہ اِن لبوں ہی تلک ہے ابھی ضیا جن کی
بنیں گی نُور کے سوتے یہی صدائیں کبھی
وُہ خوب ہے پہ اُسے اِک ہمیں نے ڈھونڈا ہے
جو ہو سکے تو ہم اپنی بھی لیں بلائیں کبھی
کبھی تو موت کا یہ ذائقہ بھی چکھ دیکھیں
وہ جس میں جان ہے اُس سے بچھڑ بھی جائیں کبھی
وہ حُسن جس پہ حسیناؤں کو بھی رشک آئے
اُسے بھی صفحۂ قرطاس پر تو لائیں کبھی
وہی کہ جس سے تکلّم کو ناز ہے ہم پر
وہ رنگ بھی تو زمانے کو ہم دکھائیں کبھی
ہمِیں پہ ختم ہے افسردگی بھی، پر ماجدؔ
کھلائیں پھول چمن میں جو مسکرائیں کبھی
ماجد صدیقی

یہ بھی بہت ہے، تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

احمد فراز ۔ غزل نمبر 41
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
یہ بھی بہت ہے، تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا
سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم
اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم
تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شبِ فراق
آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم
وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز
ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم
احمد فراز

آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 29
توبہ کیجئے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا
آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا
خود سمجھے ذبح ہونے والے سمجھائیں گے کیا
بات پہنچے کی کہاں تک آپ کہلائیں گے کیا
بزمِ کثرت میں یہ کیوں ہوتا ہے ان کا انتظار
پردۂ وحدت سے باہر ہم نکل آئیں گے کیا
کل بہار آئے گی یہ سن کر قفس بدلو نہ تم
رات بھر میں قیدیوں کے پر نکل آئیں گے کیا
اے دلِ مضطر انھیں باتوں سے چھوٹا تھا چمن
اب ترے نالے قفس سے بھی نکلوائیں گے کیا
اے قفس والو رہائی کی تمنا ہے فضول
فصلِ گل آنے سے پہلے پر نہ کٹ جائیں گے کیا
شامِ غم جل جل کے مثلِ شمع ہو جاؤں گا ختم
صبح کو احباب آئیں گے تو تو دفنائیں گے کیا
جانتا ہوں پھونک دے گا تیرے گھر کو باغباں
آشیاں کے پاس والے پھول رہ جائیں گے کیا
ان کی محفل میں چلا آیا ہے دشمن خیر ہو
مثلِ آدم ہم بھی جنت سے نکل جائیں گے کیا
ناخدا موجوں میں کشتی ہے تو ہم کو نہ دیکھ
جن کو طوفانوں نے پالا ہے وہ گھبرائیں گے کیا
تو نے طوفاں دیکھتے ہی کیوں نگاہیں پھیر لیں
ناخدا یہ اہل کشتی ڈوب ہی جائیں گے کیا
کیوں یہ بیرونِ چمن جلتے ہوئے تنکے گئے
میرے گھر کی دنیا بھر میں پھیلائیں گے کیا
کوئی تو مونوس رہے گا اے قمر شامِ فراق
شمع گل ہو گی تو یہ تارے بھی چھپ جائیں گے کیا
قمر جلالوی

فرد فرد

ہمیں جیب و آستیں پر اگر اختیار ہوتا
یہ شگفتِ گل کا موسم بڑا خوش گوار ہوتا

گونجتے ہیں شکیب آنکھوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت

ثاند کی پر بہار وادی میں
ایک دوشیزہ چن رہی ہے کپاس

بھاگتے سایوں کی چیخیں، ٹوٹے تاروں کا شور
میں ہوں اور اک محشرِ بے خواب آدھی رات کو

بات میری کہاں سمجھتے ہو
آنسوؤں کی زباں سمجھتے ہو

ہاۓ وہ آگ کہ جو دل میں سلگتی ہی رہے
ہاۓ وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو

جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہو سکی
چھائی گھٹا تو جھوم اٹھے بستیوں کے لوگ

مجھ کو آمادۂِ سفر نہ کرو
راستے پر خطر نہ ہو جائیں

خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عذر نہ تھا آپ کو سنانے میں

پائلیں بجتی رہیں کان میں سودائی کے
کوئی آیا نہ گیا رات کے سنّاٹے میں

خاموشی کے دکھ جھیلو گے ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو جنم جنم کے بہروں میں

ہر شاخ سے گہنے چھین لیے ، ہر دال سے موتی بین لیے
اب کھیت سنہرے کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں

طلسمِ گردشِ ایّام کس طرح ٹوٹے
نظر علیل، جنوں خام، فکر آوارہ

اس گلبدن کی بوۓ قبا یاد آگئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی

آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہنماؤں کی ہنسی تڑپا گئی

جس دم قفس میں موسمِ گل کی خبر گئی
اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی
کتنے ہی لوگ صاحبِ احساس ہو گئے
اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی

اب انہیں پرسشِ حالات گراں گزرے گی
بد گمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دکھ پہنچا ہے

سحر میں حسن ہے کیسا، بہارِ شب کیا ہے
جو دل شگفتہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے

گمرہی ہمیں شکیبؔ دے رہی ہے یہ فریب
رہنما غلط نہیں، راستہ طویل ہے

اس طرح گوش بر آواز ہیں اربابِ ستم
جیسے خاموشیِٔ مظلوم صدا رکھتی ہے

کسی کا قرب اگر قربِ عارضی ہے شکیبؔ
فراقِ یار کی لذّت ہی پائیدار رہے

ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا

ہم نے گھبرا کے موند لیں آنکھیں
جب کوئی تارہ ٹوٹتا دیکھا

تھکن سے چور ہیں پاؤں کہاں کہاں بھٹکیں
ہر ایک گام نیا حسن رہ گزار سہی

کمتر نہ جانیں لوگ اسے مہر و ماہ سے
ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے

یہ لطف زہر نہ بن جاۓ زندگی کے لیے
چلے تو آۓ ہو تجدیدِ دوستی کے لیے

ہم نے جسے آزاد کیا حلقۂِ شب سے
حاصل نہیں ہم کو اسی سورج کا اجالا

ہم اپنے چاکِ قبا کو رفو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج کانٹوں کا

سچ کہو میری یاد بھی آئی؟
جب کبھی تم نے آئینہ دیکھا

سکوں بدوش کنارا بھی اب ابھر آئے
سفینہ ہائے دل و جاں بھنور کے پار سہی

یا میں بھٹک گیا ہوں سرِ رہ گزر شکیب
یا ہٹ گئی ہے منزلِ مقسود راہ سے

نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تجھے پا کر
بھٹک رہا تھا مرا دل خود آگہی کے لیے
شکیب جلالی

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 110
دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلک
ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے ‘کیا’؟
حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟
آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا
گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا
خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا
ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسدؔ
ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 108
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤ
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا
موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہ
مر گیے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
مرزا اسد اللہ خان غالب

خدا نُہ نہ دے ان کو جو سر کھجائیں

دیوان سوم غزل 1209
نچیں جبہے عاشق اگر دست پائیں
خدا نُہ نہ دے ان کو جو سر کھجائیں
جھمکنے لگا خوں تو جاے سرشک
ابھی دیکھیں آنکھیں ہمیں کیا دکھائیں
رہیں کس کو سانسے کہ اب ضعف سے
مرا جی ہی کرنے لگا سائیں سائیں
خدا ساز تھا آزر بت تراش
ہم اپنے تئیں آدمی تو بنائیں
چلا یار کی اور جاتا ہے جی
جو ہو اختیاری تو اودھر نہ جائیں
جگر سوز ہیں اس کے لعل خموش
طلب کریے بوسہ تو باتیں بنائیں
ہمیں بے نیازی نے بٹھلا دیا
کہاں اتنی طاقت کہ منت اٹھائیں
کہیں دیکھے وہ بید مجنوں کہ ہم
فراموش کار اپنے کو تا دکھائیں
کہیں میر عشق مجازی ہے بد
حقیقت ہو معلوم گر دل لگائیں
میر تقی میر

عاشقی میں بلائیں کیا کیا ہیں

دیوان دوم غزل 899
جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں
عاشقی میں بلائیں کیا کیا ہیں
خوب رو ہی فقط نہیں وہ شوخ
حسن کیا کیا ادائیں کیا کیا ہیں
فکر تعمیر دل کسو کو نہیں
ایسی ویسی بنائیں کیا کیا ہیں
گہ نسیم و صبا ہے گاہ سموم
اس چمن میں ہوائیں کیا کیا ہیں
شور ہے ترک شیخ کا لیکن
چپکے چپکے دعائیں کیا کیا ہیں
منظر دیدہ قصر دل اے میر
شہر تن میں بھی جائیں کیا کیا ہیں
میر تقی میر

آؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 33
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہم
آؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہم
خوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سے
سرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہم
ویرانی حیات کو ویران تر کریں
لے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہم
پھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کی
دل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہم
سلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوال
واں جائیں یا نہ جائیں، نہ جائیں کہ جائیں ہم
پھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیں
اور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہم
آؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشق
اب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
فیض احمد فیض

آؤ، آج ان مست ہواؤں میں بہہ جائیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 81
کب تک گزری باتیں یاد کریں، پچھتائیں
آؤ، آج ان مست ہواؤں میں بہہ جائیں
ٹوٹے پیمانوں کی ٹھیکریوں کے سفینے
بیتے سمے یادوں کی رو میں بہتے جائیں
کِس کو بتائیں اب یہ جو الجھن آن پڑی ہے
جب تک تم کو بھول نہ پائیں، یاد نہ آئیں
اکثر اکثر دوری سمٹی، رستے پھیلے
منزل! تیرا قربِ گریزاں، کیا بتلائیں
ان سنگین حصاروں میں دل کا یہ جھروکا
گونجیں جس میں ٹھٹکتے قدموں کی پرچھائیں
مجید امجد

وہ باد صبا کہلائیں تو کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 74
ہم صرصریں مرجھانے لگے
وہ باد صبا کہلائیں تو کیا
جب پوچھنے والا کوئی نہیں
زندہ ہیں تو کیا مر جائیں تو کیا
پیروں میں کوئی زنجیر نہیں
ہم رقص جنوں فرمائیں تو کیا
جو بادل آنگن چھوڑ گئے
جنگل میں بھرن برسائیں تو کیا
عرفان صدیقی

پھر کئے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 9
دل میں باقی ہیں وہی حرصِ گناہ
پھر کئے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا
آؤ اس کو لیں ہمیں جا کر منا
اس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا
جانتا دنیا کو ہے اک کھیل تو
کھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا
مان لیجئے شیخ جو دعویٰ کرے
اک بزرگ دیں کو ہم جھٹلائیں کیا
ہو چکے حالیؔ غزلخوانی کے دن
راگئی بے وقت کی اب گائیں کیا
الطاف حسین حالی

کتنے پردے اٹھائیں گے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 87
کیا زیست کا راز پائیں گے ہم
کتنے پردے اٹھائیں گے ہم
ایک اپنی وفا کی روشنی سے
کس کس کا دیا جلائیں گے ہم
ہر رنگ جہاں سے ہٹ کے دیکھو
اس طرح نظر نہ آئیں گے ہم
یوں نکلے ہیں تیری جستجو میں
جیسے تجھے ڈھونڈ لائیں گے ہم
انداز جہاں کے دیکھتے ہیں
اپنی بھی خبر نہ پائیں گے ہم
اک بات نہ اٹھ سکے جہاں کی
کیا بار حیات اٹھائیں گے ہم
آغاز سفر میں کیا خبر تھی
یوں راہ میں بیٹھ جائیں گے ہم
جو دل پہ گزر رہی ہے باقیؔ
تجھ کو بھی نہ اب بتائیں گے ہم
باقی صدیقی

عم ہستی کوئی غم کھائیں کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 67
ان کو دل کا مدعا سمجھائیں کیا
اے غم ہستی کوئی غم کھائیں کیا
شورِ نغمہ اس طرف آتا نہیں
رنگِ محفل بن کے ہم اڑ جائیں کیا
بے نیازی سے ہے قائم شان حسن
ہم انہیں یاد آئیں پر یاد ئیں کیا
جل کے بجھنے کا تو باقیؔ غم نہیں
ہم مگر دنیا کو منہ دکھلائیں کیا
باقی صدیقی

کیسے اپنا دیا جلائیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 21
یہ رات یہ دشت کی ہوائیں
کیسے اپنا دیا جلائیں
نشہ دیتا ہے زہر غم بھی
ہے تاب ستم تو مسکرائیں
ہوتے رہتے ہیں زخم تازہ
تم ساتھ نہ ہو تو بھول جائیں
اب سوز بھی ساز چاہتا ہے
دنیا کی زباں کہاں سے لائیں
کب تک سنیں دل شکست باتیں
کب تک ہم خود کو آزمائیں
دریا کو پیاس لگ رہی تھی
صحرا سے گزر گئیں گھٹائیں
آئی وہ شاہ کی سواری
آؤ ہم تالیاں بجائیں
در سے دیوار بے خبر ہے
کیسے یہ فاصلے مٹائیں
یہ رنگ کہ رنگ اڑ رہا ہے
یہ ہوش کہ ہوش میں نہ آئیں
ہم تیرے خیال سے بھی گزرے
ایسے میں اگر مراد پائیں
ہو شوق سفر کی خیر باقیؔ
لینے لگے حادثے بلائیں
باقی صدیقی