ٹیگ کے محفوظات: تیروں

سارے یقیں پانی پہ لکیروں جیسے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
ریت پہ طوفاں کی تحریروں جیسے ہیں
سارے یقیں پانی پہ لکیروں جیسے ہیں
اِک اِک شخص حنوط ہُوا ہے حیرت سے
جتنے چہرے ہیں ، تصویروں جیسے ہیں
از خود ہی پٹر جائیں نام ہمارے یہ
درد کے سب خّطے ، جاگیروں جیسے ہیں
پاس ہمارے جو بھی جتن ہیں بچاؤ کے
ڈوبنے والوں کی تدبیروں جیسے ہیں
پسپائی کی رُت میں ہونٹ کمانوں پر
ماجد جتنے بول ہیں ، تیروں جیسے ہیں
ماجد صدیقی

اگرچہ آسماں تک شور جاوے ہم فقیروں کا

دیوان دوم غزل 746
فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا
اگرچہ آسماں تک شور جاوے ہم فقیروں کا
تبسم سحر ہے جب پان سے لب سرخ ہوں اس کے
دلوں میں کام کر جاتا ہے یاں جادو کے تیروں کا
سرکنا اس کے درباں پاس سے ہے شب کو بھی مشکل
سر زنجیر زیر سر رکھے ہے ہم اسیروں کا
گئے بہتوں کے سر لڑکوں نے جو یہ باندھنوں باندھے
شہید اک میں نہیں ان باندھنوں کے سرخ چیروں کا
قفس کے چاک سے دیکھوں ہوں میں تو تنگ آتا ہوں
چمن میں غنچہ ہو آنا گلوں پر ہم صفیروں کا
ہمارے دیکھتے زیرنگیں تھا ملک سب جن کے
کوئی اب نام بھی لیتا نہیں ان ملک گیروں کا
دل پر کو تو ان پلکوں ہی نے سب چھان مارا تھا
کیا میر ان نے خالی یوں ہی ترکش اپنے تیروں کا
میر تقی میر

اے سمندر ! مرے آباد جزیروں میں نہ آ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 18
موج بن کر کہیں ہاتھوں کی لکیروں میں نہ آ
اے سمندر ! مرے آباد جزیروں میں نہ آ
خاک میں تجھ کوملادے گی کوئی تیز نظر
بادشاہوں کی طرح دیکھ فقیروں میں نہ آ
بند کردے گی تجوری میں تجھے تیری چمک
کنکروں میں کہیں رہ،قیمتی ہیروں میں نہ آ
جنگ شطرنج ہے ، چالوں کا سلیقہ ہے فقط
ہوش کر ، دیکھ برستے ہوئے تیروں میں نہ آ
عمر منصور اڑانوں میں فقط اپنی گزار
دام پہچان شکاری کے، اسیروں میں نہ آ
منصور آفاق