ٹیگ کے محفوظات: تیرا

گونگا بہرا خالی کمرا

خالی گھر کا خالی کمرا
گونگا بہرا خالی کمرا
زندانوں سے بھی بدتر ہے
تیرا میرا خالی کمرا
ایک عزیز بچا ہے میرا
وہ بھی تنہا خالی کمرا
تیری یاد نے چوما مجھ کو
جب بھی کھولا خالی کمرا
تم کو اکثر یاد آئے گا
باتیں کرتا خالی کمرا
مجھ سے لپٹا روہا گھنٹوں
آہیں بھرتا خالی کمرا
دونوں اک جیسے لگتے ہیں
میں اور میرا خالی کمرا
یار فلک! اک بات کہیں میں
خوب ہے تیرا خالی کمرا
افتخار فلک

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 234
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستئِ اشیا مرے آگے
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
گِھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
مت پوچھ کہ کیا حال ہے میر ا ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
سچ کہتے ہو خود بین و خود آرا ہوں، نہ کیو ں ہوں
بیٹھا ہے بتِ آئنہ سیما مرے آگے
پھر دیکھیے اندازِ گل افشانئِ گفتار
رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
نفرت کا گماں گزرے ہے، میں رشک سے گزرا
کیونکر کہوں، لو نام نہ ان کا مرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلےٰ مرے آگے
خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے
ہے موجزن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے!
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالب کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
مرزا اسد اللہ خان غالب

عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 70
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!
عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
ذرّہ ذرّہ ساغرِ مے خانۂ نیرنگ ہے
گردشِ مجنوں بہ چشمکہاے لیلیٰ آشنا
شوق ہے "ساماں طرازِ نازشِ اربابِ عجز”
ذرّہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دلِ وحشی، "کہ ہے
عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا”
شکوہ سنجِ رشکِ ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
کوہکن” نقّاشِ یک تمثالِ شیریں” تھا اسدؔ
سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
مرزا اسد اللہ خان غالب

ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 59
جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی
ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی
کبھی سفر ہی سفر میں جو عمرِ رفتہ کی سمت
پلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گردِ فردا بھی
بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دیے
وہ گھاؤ، جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی
کسی کی روح سے تھا ربط اور اپنے حصے میں تھی
وہ بےکلی جو ہے موجِ زماں کا حصہ بھی
یہ آنکھیں، ہنستی وفائیں، یہ پلکیں، جھکتے خلوص
کچھ اس سے بڑھ کے کسی نے کسی کو سمجھا بھی
یہ رسم، حاصلِ دنیا ہے اک یہ رسمِ سلوک
ہزار اس میں سہی نفرتوں کا ایما بھی
دلوں کی آنچ سے تھا برف کی سلوں پہ کبھی
سیاہ سانسوں میں لتھڑا ہوا پسینہ بھی
مجھے ڈھکی چھپی اَن بوجھی الجھنوں سے ملا
جچی تلی ہوئی اک سانس کا بھروسا بھی
کبھی کبھی انھی الھڑ ہواؤں میں امجد
سنا ہے دور کے اک دیس کا سندیسا بھی
مجید امجد

یہ اور بات فوج ہے گھیرا لیے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 513
وہ چوک میں کھڑا ہے پھریرا لیے ہوئے
یہ اور بات فوج ہے گھیرا لیے ہوئے
آنکھیں کہ رتجگوں کے سفر پر نکل پڑیں
اک دلنواز خواب سا تیرا لیے ہوئے
اللہ کے سپرد ہے خانہ بدوش دوست
وہ اونٹ جا رہے ہیں "بسیرا ” لیے ہوئے
اندر کا حبس دیکھ کے سوچا ہے بار بار
مدت ہوئی ہے شہر کا پھیرا لیے ہوئے
چلتے رہے ہیں ظلم کی راتوں کے ساتھ ساتھ
آنکھوں میں مصلحت کا اندھیرا لیے ہوئے
رہنا نہیں ہے ٹھیک کناروں کے آس پاس
پھرتا ہے اپنا جال مچھیرا لیے ہوئے
گردن تک آ گئے ہیں ترے انتظار کے
لمبے سے ہاتھ، جسم چھریرا لیے ہوئے
لوگوں نے ڈھانپ ڈھانپ لیا درز درز کو
منصور پھر رہا تھا سویرا لیے ہوئے
منصور آفاق

رہتا نہیں ہوں دوستو اپنا فراق میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 330
کرتا ہوں اپنے آپ سے جھگڑا فراق میں
رہتا نہیں ہوں دوستو اپنا فراق میں
میں دیکھتا ہوں تیرے خدو خال کے چراغ
آئینہ دیکھتا ہے تماشا فراق میں
بڑھتی ہے اس کے صحن میں آشفتگی مری
کرتا ہوں چاند رات کا پیچھا فراق میں
یاجانتے ہیں راستے یاجانتا ہوں میں
کیسے یہ ایک سال گزارا فراق میں
میں تو بناتا رہتا ہوں تصویرِخواب کی
تُو بول کیا ہے مشغلہ تیرا فراق میں
ساحل پہ دیکھتے ہیں کئی درد اور بھی
میں اور انتظار کا دریا فراق میں
منصور پھیربس وہی آنکھوں پہ دھجیاں
وہ یادگارِ دستِ زلیخا فراق میں
منصور آفاق