ٹیگ کے محفوظات: تہ

نزدیک ہے کہ کہیے اب ہائے ہائے اے دل

دیوان چہارم غزل 1427
دل تو گداز سب ہے کس کو کوئی کہے دل
نزدیک ہے کہ کہیے اب ہائے ہائے اے دل
اس عشق میں نکالے میں نے بھی نام کیا کیا
خانہ خراب و رسوا بے دین اور بے دل
جوں ابر رویئے کیا دل برق سا ہے بے کل
رکھے ہی رہیے اکثر ہاتھ اس پہ جو رہے دل
دل گوکہ داغ و خوں ہے رہتی ہے لاگ تجھ سے
انصاف کر کہ جا کر دکھلاویں پھر کسے دل
دل کے ثبات سے ہم نومید ہو رہے ہیں
اب وہ سماں ہے خوں ہو رخسار پر بہے دل
عاشق کہاں ہوئے ہم پانچوں حواس کھوئے
اس مخمصے میں ازبس حیراں ہے کیا کرے دل
جاتا ہے کیا کھنچا کچھ دیکھ اس کو ناز کرتا
آتا نہیں ہمیں خوش انداز بے تہ دل
ہم دردمند اپنا سوز دروں ہے بے حد
یارب ہمارے اوپر کس مرتبے جلے دل
اے میر اسے ہے نسبت کن حلقہ حلقہ مو سے
بیتاب کچھ ہے گاہے پرپیچ ہے گہے دل
میر تقی میر

مٹھ بھیڑ اگر ہو گئی اس تیغ بکف سے

دیوان سوم غزل 1298
کٹ کر گریں گے راہ میں مشتاق علف سے
مٹھ بھیڑ اگر ہو گئی اس تیغ بکف سے
جاتا ہے کوئی دشت عرب کو جو بگولا
کہہ دوں ہوں دعا مجنوں کو میں اپنی طرف سے
دریا تھا مگر آگ کا دریاے غم عشق
سب آبلے ہیں میرے درونے میں صدف سے
دل اور جگر یہ تو جلے آتش غم میں
جی کیونکے بچائوں کہو اس آگ کی تف سے
شب اس کے سگ کو نے ہمیں پاس بٹھایا
ہم اپنے تئیں دور نہ کیوں کھینچیں شرف سے
چھاتی میں بھری آگ ہے کیا جس سے شب و روز
چنگاریاں گرتی ہیں مری پلکوں کی صف سے
اے میر گدائی کروں دروازے کی اس کے
مانگوں ہوں یہی آٹھ پہر شاہ نجف سے
میر تقی میر

ہے وہی بات جس میں ہو تہ بھی

دیوان سوم غزل 1268
جی کے لگنے کی میر کچھ کہہ بھی
ہے وہی بات جس میں ہو تہ بھی
حسن اے رشک مہ نہیں رہتا
چار دن کی ہے چاندنی یہ بھی
شور شیریں تو ہے جہاں میں ولے
ہے حلاوت زمانے کی وہ بھی
اس کے پنجے سے دل نکل نہ سکا
زور بیٹھی ہی یار کی گہ بھی
اس زمیں گرد میرے مہ سا نہیں
آسماں پر اگرچہ ہے مہ بھی
کیا کہوں اس کی زلف بن رو رو
میں پراگندہ دل گیا بہ بھی
مضطرب ہو جو ہمرہی کی میر
پھر کے بولا کہ بس کہیں رہ بھی
میر تقی میر

جو چاہیں سو یوں کہہ لیں لوگ اپنی جگہ بیٹھے

دیوان دوم غزل 1008
ہے جنبش لب مشکل جب آن کے وہ بیٹھے
جو چاہیں سو یوں کہہ لیں لوگ اپنی جگہ بیٹھے
جی ڈوب گئے اپنے اندوہ کے دریا میں
وے جوش کہاں اب ہم مدت ہوئی وہ بیٹھے
کیا رنگ میں شوخی ہے اس کے تن نازک کی
پیراہن اگر پہنے تو اس پہ بھی تہ بیٹھے
سر گل نے اٹھایا تھا اس باغ میں سو دیکھا
کیا ناز سے یاں کوئی کج کرکے کلہ بیٹھے
مرتے ہوئے پر چاہت ظاہر نہ کی اگلوں نے
بے حوصلہ تھے ہم جو اس راز کو کہہ بیٹھے
کیا جانے کہ ایدھر کا کب قصد کرے گا وہ
پامال ہوئے ہم تو اس سے سررہ بیٹھے
جو ہاتھ چڑھا اس کے دل خوں ہی کیا اس کا
اس پنجۂ رنگیں کی اے میر نہ گہ بیٹھے
میر تقی میر

برسوں سے صوفیوں کا مصلیٰ تو تہ ہوا

دیوان دوم غزل 678
کیفی ہو کیوں تو ناز سے پھر گرم رہ ہوا
برسوں سے صوفیوں کا مصلیٰ تو تہ ہوا
معلوم تیرے چہرئہ پرنور کا سا لطف
بالفرض آسماں پہ گیا پھول مہ ہوا
پوچھ اس سے درد ہجر کو جس کا بہ نازکی
جاگہ سے اپنے عضو کوئی بے جگہ ہوا
ہم پلہ اپنا کون ہے اس معرکے کے بیچ
کس کے ترازو یار کا تیر نگہ ہوا
ایسا فقیر ہونا بھلا کیا ضرور تھا
دونوں جہاں میں میر عبث رو سیہ ہوا
میر تقی میر

پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر

دیوان اول غزل 216
کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر
پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر
وہ تنگ پوش اک دن دامن کشاں گیا تھا
رکھی ہیں جانمازیں اہل ورع نے تہ کر
کیا قصر دل کی تم سے ویرانی نقل کریے
ہو ہو گئے ہیں ٹیلے سارے مکان ڈھہ کر
ہم اپنی آنکھوں کب تک یہ رنگ عشق دیکھیں
آنے لگا ہے لوہو رخسار پر تو بہ کر
رنگ شکستہ اپنا بے لطف بھی نہیں ہے
یاں کی تو صبح دیکھے اک آدھ رات رہ کر
برسوں عذاب دیکھے قرنوں تعب اٹھائے
یہ دل حزیں ہوا ہے کیا کیا جفائیں سہ کر
ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
اسرار عاشقی کا پچھتائے یار کہہ کر
طاعت کوئی کرے ہے جب ابر زور جھومے
گر ہوسکے تو زاہد اس وقت میں گنہ کر
کیوں تو نے آخر آخر اس وقت منھ دکھایا
دی جان میر نے جو حسرت سے اک نگہ کر
میر تقی میر

دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا

دیوان اول غزل 143
یار عجب طرح نگہ کر گیا
دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا
تنگ قبائی کا سماں یار کی
پیرہن غنچہ کو تہ کر گیا
جانا ہے اس بزم سے آیا تو کیا
کوئی گھڑی گو کہ تو رہ کر گیا
وصف خط و خال میں خوباں کے میر
نامۂ اعمال سیہ کر گیا
میر تقی میر