ٹیگ کے محفوظات: تھے

ہم دونوں میں رنجش تھی اور بچے گھر میں سہمے تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
ناداری کی لعنت سے ہم عید کے دن بھی الجھے تھے
ہم دونوں میں رنجش تھی اور بچے گھر میں سہمے تھے
چاند ہنسی کا کُہرِ الم میں، چاند سحر کا ٹھہرا تھا
کیا بتلائیں راہ میں اپنی راحت کے کیا رخنے تھے
گرد، ہَوا، خاشاک اور خس کے وہم نے سارے بند کئے
شوخ اور شنگ رُتوں تک جو بھی جانے والے رستے تھے
جوڑ کے شاخ پہ امیدوں کی تنکا تنکا کاوش کا
چڑیوں جیسے خواب سہانے ہم نے بھی کیا دیکھے تھے
سر سے سُورج کے ڈھلنے تک لطف تھے سب ٹھہراؤ کے
پھر تو جانبِ ظلمت بڑھتے ہر خواہش کے سائے تھے
جیون کے وہ سارے موڑ ہی رہ گئے ماجدؔ! دور بہت
آنکھ میں جب کلیوں کی صورت کھلتے سانجھ سویرے
ماجد صدیقی

دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘

مجید امجد ۔ غزل نمبر 189
صبحوں کی وادیوں میں گلوں کے پڑاؤ تھے
دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘
اک بات رہ گئی کہ جو دل میں نہ لب پہ تھی
اس اک سخن کے وقت کے سینے پہ گھاؤ تھے
کھلتی کلی کھلی کسی تاکید سے نہیں
ان سے وہ ربط ہے جو الگ ہے لگاؤ سے
عیب اپنی خوبیوں کے چنے اپنے غیب میں
جب کھنکھنائے قہقہوں میں من گھناؤنے
کاغذ کے پانیوں سے جو ابھرے تو دور تک
پتھر کی ایک لہر پہ تختے تھے ناؤ کے
کیا رو تھی جو نشیبِ افق سے مری طرف
تیری پلٹ پلٹ کے ندی کے بہاؤ سے
امجد جہاں بھی ہوں میں، سب اس کے دیار ہیں
کنجن سہاؤنے ہوں کہ جھنگڑ ڈوراؤنے
مجید امجد

پھر اس کے بعد کسی دن بدل گئے ہم بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 472
اسے بدلتے ہوئے دیکھتے رہے ہم بھی
پھر اس کے بعد کسی دن بدل گئے ہم بھی
اکیلے رہنے کی عادت نہ تھی سو عرصے تک
بغیر اس کے پریشاں بہت رہے ہم بھی
سمیٹ رکھے تھے بارش کے اشک پتوں نے
کچھ ایسا پارک کا موسم تھا رو پڑے ہم بھی
لپیٹ رکھی ہے پت چھڑ کی شال برسوں سے
کبھی بہارمیں ہوتے ہرے بھرے ہم بھی
قریب ہوتے گئے ایک خالی رستے پر
ملول وہ بھی بہت تھی اداس تھے ہم بھی
اسے بھی نیند سے شاید کوئی عداوت تھی
پرانے جاگنے والے تھے رات کے ہم بھی
وہ آتے جاتے ہمیں دیکھنے لگی منصور
پھر اس کے بارے میں کچھ سوچنے لگے ہم بھی
منصور آفاق