ٹیگ کے محفوظات: تھکن

تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا

اب ترے لمس کو یاد کرنے کا اک سلسلہ اور دیوانہ پن رہ گیا
تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا
وہ سراپا ترا وہ ترے خال و خد میری یادوں میں سب منتشر ہو گئے
لفظ کی جستجو میں لرزتا ہوا نیم وا غنچہ سا اک دہن رہ گیا
حرف کے حرف سے کیا تضادات ہیں تُو نے بھی کچھ کہا میں نے بھی کچھ کہا
تیرے پہلو میں دنیا سمٹتی گئی میرے حصے میں حرفِ سخن رہ گیا
تیرے جانے سے مجھ پر یہ عقدہ کھلا رنگ و خوشبو تو بس تیری میراث تھے
ایک حسرت سجی رہ گئی گُل بہ گُل ایک ماتم چمن در چمن رہ گیا
ایک بے نام خواہش کی پاداش میں تیری پلکیں بھی باہم پرو دی گئیں
ایک وحشت کو سیراب کرتے ہوئے میں بھی آنکھوں میں لے کر تھکن رہ گیا
عرصۂ خواب سے وقتِ موجود کے راستے میں گنوا دی گئی گفتگو
ایک اصرار کی بے بسی رہ گئی ایک انکار کا بانکپن رہ گیا
تُو ستاروں کو اپنے جلو میں لیے جا رہا تھا تجھے کیا خبر کیا ہوا
اک تمنا دریچے میں بیٹھی رہی ایک بستر کہیں بے شکن رہ گیا
عرفان ستار

فقط لگن سے نہیں، والہانہ پن سے کیا

وہ کارِدل ہو کہ کارِجہاں، لگن سے کیا
فقط لگن سے نہیں، والہانہ پن سے کیا
جہاں تھے مصلحتاً چپ تمام لوگ، وہاں
کلام ہم نے کیا، پورے بانکپن سے کیا
سرے سے مٹ ہی گیا فرقِ ناقص و کامل
مذاق وقت نے وہ اہلِ علم و فن سے کیا
میں بولنے کا نہیں سوچنے کا عادی ہوں
سو میں نے عشق بھی تجھ ایسے کم سخن سے کیا
وہ جس میں حفظِ مراتب کا کچھ لحاظ نہ ہو
گریز ہم نے ہمیشہ اُس انجمن سے کیا
گلاب چبھنے لگے تھے ببول بن کے ہمیں
بلاسبب تو نہیں کوچ اُس چمن سے کیا
کھلا یہ ہم پہ کہ سب رنگ پیرہن کے نہ تھے
جب اُس بدن کو سبک دوش پیرہن سے کیا
میں چاہتا تھا مرا عشق طے ہو مرحلہ وار
سو میں نے بات کا آغاز ہی بدن سے کیا
بہت ہی تھک گیا بے خواب ذہن جب عرفانؔ
علاج اس کا بھی بے انتہا تھکن سے کیا
عرفان ستار

تیری گلی گلی کی خیر اے مرے دل رُبا وطن

تو ہے دلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپن
تیری گلی گلی کی خیر اے مرے دل رُبا وطن
وہ تو بس ایک موج تھی آئی اِدھر اُدھر گئی
آنکھوں میں ہے مگر ابھی رات کے خواب کی تھکن
پھر وہی دشتِ بے اماں پھر وہی رنجِ رائِگاں
دل کو جگا کے سو گئی تیرے خیال کی کرن
آیا گیا نہ میں کہیں صبح سے شام ہو گئی
جلنے لگے ہیں ہاتھ کیوں ٹوٹ رہا ہے کیوں بدن
کس سے کہوں کوئی نہیں سو گئے شہر کے مکیں
کب سے پڑی ہے راہ میں میت شہرِ بے کفن
میکدہ بجھ گیا تو کیا رات ہے میری ہمنوا
سایہ ہے میرا ہم سبو چاند ہے میرا ہم سخن
دل ہے مرا لہو لہو تاب نہ لا سکے گا تو
اے مرے تازہ ہمنشیں تو مرا ہم سبو نہ بن
ناصر کاظمی

بیِتے لمحوں کی جھانجھن

ساری رات جگاتی ہے
بیِتے لمحوں کی جھانجھن
لال کھجوروں نے پہنے
زرد بگولوں کے کنگن
چلتا دریا، ڈھلتی رات
سن سن کرتی تیز پون
ہونٹوں پر برسوں کی پیاس
آنکھوں میں کوسوں کی تھکن
پہلی بارش، میں اور تو
زرد پہاڑوں کا دامن
پیاسی جھیل اور دو چہرے
دو چہرے اور اِک درپن
تیری یاد سے لڑتا ہوں
دیکھ تو میرا پاگل پن
ناصر کاظمی

تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 20
اب ترے لمس کو یاد کرنے کا اک سلسلہ اور دیوانہ پن رہ گیا
تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا
وہ سراپا ترا وہ ترے خال و خد میری یادوں میں سب منتشر ہو گئے
لفظ کی جستجو میں لرزتا ہوا نیم وا غنچہ سا اک دہن رہ گیا
حرف کے حرف سے کیا تضادات ہیں تُو نے بھی کچھ کہا میں نے بھی کچھ کہا
تیرے پہلو میں دنیا سمٹتی گئی میرے حصے میں حرفِ سخن رہ گیا
تیرے جانے سے مجھ پر یہ عقدہ کھلا رنگ و خوشبو تو بس تیری میراث تھے
ایک حسرت سجی رہ گئی گُل بہ گُل ایک ماتم چمن در چمن رہ گیا
ایک بے نام خواہش کی پاداش میں تیری پلکیں بھی باہم پرو دی گئیں
ایک وحشت کو سیراب کرتے ہوئے میں بھی آنکھوں میں لے کر تھکن رہ گیا
عرصۂ خواب سے وقتِ موجود کے راستے میں گنوا دی گئی گفتگو
ایک اصرار کی بے بسی رہ گئی ایک انکار کا بانکپن رہ گیا
تُو ستاروں کو اپنے جلو میں لیے جا رہا تھا تجھے کیا خبر کیا ہوا
اک تمنا دریچے میں بیٹھی رہی ایک بستر کہیں بے شکن رہ گیا
عرفان ستار

پُھول آنگن میں کِھلے ہیں نہ چمن میں اب کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 111
کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے
پُھول آنگن میں کِھلے ہیں نہ چمن میں اب کے
برف کے ہاتھ ہی ، ہاتھ آئیں گے ، اے موجِ ہوا
حِدتیں مجھ میں ، نہ خوشبو کے بدن میں ، اب کے
دُھوپ کے ہاتھ میں جس طرح کُھلے خنجر ہوں
کُھردرے لہجے کی نوکیں ہیں کرن میں اب کے
دل اُسے چاہے جسے عقل نہیں چاہتی ہے
خانہ جنگی ہے عجب ذہن و بدن میں اب کے
جی یہ چاہے، کوئی پھر توڑ کے رکھ دے مجھ کو
لذتیں ایسی کہاں ہوں گی تھکن میں اب کے
پروین شاکر

بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 107
من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے
ایسا نہ ہو ، چاند بھید پا لے
پیراہنِ گُل شِکن سمیٹے
سوتی رہی آنکھ دن چڑھے تک
دُلہن کی طرح تھکن سمیٹے
گُزرا ہے چمن سے کون ایسا
بیٹھی ہے ہوا بدن سمیٹے
شاخوں نے کلی کو بد دُعا دی
بارش ترا بھولپن سمیٹے
آنکھوں کے طویل رتجگوں پر
چاند آیا بھی تو گہن سمیٹے
احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے
اندر سے شکست وہ بھی نکلا
لیکن وہی بانکپن سمیٹے
شام آئے تو ہم بھی گھر کو لوٹیں
چڑیوں کی طرح تھکن سمیٹے
خود جنگ سے دست کش تھے ہم لوگ
جذبات میں ایک رن سمیٹے
آنکھوں کے چراغ ہم بجھا دیں
سُورج بھی مگر کرن سمیٹے
بس پیار سے مِل رہے ہیں کچھ لوگ
چمکیلے بدن میں پھن سمیٹے
پھر ہونے لگی ہوں ریزہ ریزہ
آئے…۔۔مجھے میرا فن سمیٹے
غیروں کے لیے بکھر گئی ہوں
اب مجھ کو مِرا وطن سمیٹے
پروین شاکر

رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 75
گرد چہرے پر قبائے خاک تن پر سج گئی
رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی
جاچکے موسم کی خوشبو ، صورتِ تحریرِ گل
یاد کے ملبوس کی اک اک شِکن پر سج گئی
میں تو شبنم تھی ہتھیلی پر ترے گُم ہو گئی
وہ ستارہ تھی سو تیرے پیرہن پر سج گئی
کُچھ تو شہرِ درد کا احوال آنکھوں نے کہا
اور کچھ گلیوں کی سفاکی تھکن پر سج گئی
پروین شاکر