ٹیگ کے محفوظات: تھو

ہوں دوانہ ترے سگ کو کا

دیوان اول غزل 133
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
ہوں دوانہ ترے سگ کو کا
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو
فکر ہے اپنے ہر بن مو کا
ہے مرے یار کی مسوں کا رشک
کشتہ ہوں سبزئہ لب جو کا
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف
ہے وظیفہ یہی دعاگو کا
میں نے تلوار سے ہرن مارے
عشق کر تیری چشم و ابرو کا
شور قلقل کے ہوتی تھی مانع
ریش قاضی پہ رات میں تھوکا
عطر آگیں ہے باد صبح مگر
کھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں
کارخانہ ہے واں تو جادو کا
میر ہرچند میں نے چاہا لیک
نہ چھپا عشق طفل بدخو کا
نام اس کا لیا ادھر اودھر
اڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
میر تقی میر

روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا

دیوان اول غزل 92
ہے حال جاے گریہ جان پرآرزو کا
روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا
جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونت
اب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا
اس آستاں سے کس دن پرشور سر نہ پٹکا
اس کی گلی میں جاکر کس رات میں نہ کوکا
شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاں
کچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا
اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کرلوں
تب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا
دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی
پھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا
یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے
ہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا
بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا
گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سے
مت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا
وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں
دینا نہ تھا دل اس کو میں میر آہ چوکا
میر تقی میر