ٹیگ کے محفوظات: تھوکتا

سکوتِ شب کو کھٹک رہا ہوں، بہت برا ہوں

میں خود پسندی میں مبتلا ہوں، بہت برا ہوں
سکوتِ شب کو کھٹک رہا ہوں، بہت برا ہوں
مرے تعاقب میں نامرادی کا جِن لگا ہے
ہزار سالوں سے گھر پڑا ہوں، بہت برا ہوں
کئی حسینوں نے معذرت کے خطوط بھیجے
مگر میں پھر بھی لگا ہوا ہوں، بہت برا ہوں
نمک حرامی کروں گا دنیا کو چھوڑ دوں گا
تری محبت پر تھوکتا ہوں، بہت برا ہوں
تمام حوریں مری محبت سے باز آئیں
میں جنّتی ہوں مگر برا ہوں، بہت برا ہوں
مرے حواری، مری محبت کو عام کریو
میں ربِ غربت پہ مر مٹا ہوں، بہت برا ہوں
فلک نے رستہ دکھا دیا تو چلے چلیں گے
اسی بہانے تو لاپتہ ہوں، بہت برا ہوں
افتخار فلک

اس پر ستم یہ ہے اسے یاد آ رہا ہوں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 109
غم ہائے روز گار میں الجھا ہوا ہوں میں
اس پر ستم یہ ہے اسے یاد آ رہا ہوں میں
ہاں اُس کے نام میں نے کوئی خط نہیں لکھا
کیا اُس کو یہ لکھوں کہ لہو تھوکتا ہوں میں
کرب غم شعور کا درماں نہیں شراب
یہ زہر ہےاثر ہے اسے پی چکا ہوں میں
اے زندگی بتا کہ سرِ جادہ ءِ شتاب
یہ کون کھو گیا ہے کسے ڈھونڈتا ہوں میں
اے وحشتو! مجھے اسی وادی میں لے چلو
یہ کون لوگ ہیں، یہ کہاں آ گیا ہوں میں
شعر و شعور اور یہ شہرِ شمار شور
بس ایک قرض ہے جو ادا کر رہا ہوں میں
یہ تلخیاں یہ زخم، یہ ناکامیاں یہ غم
یہ کیا ستم کہ اب بھی ترا مدعا ہوں میں
میں نے غم حیات میں تجھ کو بھلا دیا
حسن وفا شعار، بہت بے وفا ہوں میں
عشق ایک سچ تھا تجھ سے جو بولا نہیں کبھی
عشق اب وہ جھوٹ ہے جو بہت بولتا ہوں میں
معصوم کس قدر تھا میں آغازِ عشق میں
اکثر تو اس کے سامنے شرما گیا ہوں میں
دنیا میرے ہجوم کی آشوب گاہ ہے
اور اپنے اس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوں میں
وہ اہلِ شہر کون تھے وہ شہر تھا کہاں
ان اہلِ شہر میں سے ہوں اس شہر کا ہوں میں
جون ایلیا