ٹیگ کے محفوظات: تھل

پُوری عمر کی دُوری پر آتا کل لگتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
خون میں برپا اِک محشر سا ہر پل لگتا ہے
پُوری عمر کی دُوری پر آتا کل لگتا ہے
سارا رنگ اور رس ہے اُس کی قربت سے ورنہ
دل ویرانہ لگتا ہے دل جنگل لگتا ہے
آنکھ میں شب کی اوٹ میں کھلتی کلیوں کی سی حیا
اُس کے رُخ پر لپٹا چاند کا آنچل لگتا ہے
اپنے اِک اِک دن کا سورج خون آشام لگے
چہرہ اپنے ہر اخبار کا مقتل لگتا ہے
ہونٹوں پر سے پل پل صحرا کی سی آنچ اُٹھے
آنکھ کا آنگن اشکِ رواں سے جل تھل لگتا ہے
نشۂ جُہل نے اپنے یہاں یُوں سب کو سیر کیا
اپنے عقیدے میں ہر شخص ہی پاگل لگتا ہے
لب پہ رکا ہے آ کر جانے کون سا حرفِ گراں
ماجِد ہاتھ میں اپنا قلم تک بوجھل لگتا ہے
ماجد صدیقی

اِک مدّت سے جسم ہمارا بوجھل ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 146
اِس میں جانے کس کے ہجر کا کَس بل ہے
اِک مدّت سے جسم ہمارا بوجھل ہے
منفی ہے پر اُس کی بھی اک دنیا ہے
وہ جو نظر میں اہلِ نظر کی پاگل ہے
بات ہے ساری یہ تقلید کے جذبے کی
چرواہا بھی اِس کارن ہی پیدل ہے
جھپٹا ہے پھر سانپ کسی کاشانے پر
رات گئے شاخوں میں کیا یہ ہلچل ہے
پتھر ہے جو اس کو کیا پرواہ بھلا
شیشے ہی کو جان کا کھٹکا پل پل ہے
اب دریا کی سیر کو کم کم جاتا ہے
ماجدؔ جس کا اپنا چہرہ جل تھل ہے
ماجد صدیقی

جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 111
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے
اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں
مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے
کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں
کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے
شائستگیِ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا
نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے
کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزمِ جاں میں
کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے
عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی
پاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے
سب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہے
جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے
احمد فراز

اک آنسو کی بوند میں دیکھو، دنیا دنیا، عالم عالم جل تھل ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 54
اپنے دل کی چٹان سے پوچھو، ریزہ اک پنکھڑی کا کتنا بوجھل ہے
اک آنسو کی بوند میں دیکھو، دنیا دنیا، عالم عالم جل تھل ہے
جس کو دیکھو اپنے سفر کی دنیا بھی ہے، اپنے سفر میں تنہا بھی
قدم قدم پر اپنے آپ کے سامنے ہے اور اپنے آپ سے اوجھل ہے
روح سے روح کا نازک بندھن، پھولوں کی زنجیر میں جکڑی زندگیاں
کتنے دکھ ہیں، کتنا چین ہے، کیسی دھوپ ہے، کتنا گہرا بادل ہے
آنکھ کی پتلی، سانس کی ڈوری، دِل کی تھاپ، اک پل کی نرت کا تماشا ہے
گلتی کھوپڑیوں سے چنی دیواروں پر اک جلتی جوت کی جھل جھل ہے
ایک زمانے سے یہی رستہ زیرِ قدم ہے، اک اک جھونکا محرم ہے
آج جو من کی اوٹ سے دیکھا، ہر سو اک ان دیکھی رت کی چھل بل ہے
بہتی روشنیاں، بے کار شعاعیں، بکھری ٹھیکریاں، بے حرف سلیں
اک دِن انت یہی ہے مگر وہ ایک کرن جو دل کے ورق پر جدول ہے
مجید امجد

کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 463
گرا کے پھول اٹھائے کوئی کڑی تھل کی
کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی
ابھی تو پاؤں میں باقی ہے ہجر کا ہفتہ
پڑی ہے راہ ابھی ایک اور منگل کی
حنائی ہاتھ پہ شاید پلیٹ رکھی تھی
ہوا کے جسم سے خوشبو اٹھی تھی چاول کی
بچھی ہوئی ہیں سحر خیزیوں تلک آنکھیں
ملی ہوئی ہے شبوں سے لکیر کاجل کی
لیا ہے شام کا شاور ابھی ابھی کس نے
گلی میں آئی ہے خوشبو کہاں سے جل تھل کی
شفق کے لان میں صدیوں سے شام کی لڑکی
بجا رہی ہے مسلسل پرات پیتل کی
نکھر نکھر گیا کمرے میں رنگ کا موسم
ذرا جو شال بدن کے گلاب سے ڈھلکی
کسی کو فتح کیا میں نے پیاس کی رت میں
اڑے جو کارک تو شمپین جسم پر چھلکی
چھتوں پہ لوگ اٹھائے ہوئے تھے بندوقیں
تمام شہر پہ اتری تھی رات جنگل کی
جھلس گیا تھا دسمبر کی رات میں منصور
وہ سرسراتی ہوئی آگ تیرے کمبل کی
منصور آفاق

شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 69
اب تک انا سے ربطِ مسلسل نہیں ہوا
شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا
وحشت وہی مزاج کی رونے کے بعد بھی
بارش ہوئی ہے شہر میں جل تھل نہیں ہوا
پھر ہو گی تجھ تلک مری اپروچ بزم میں
مایوس جانِ من ترا پاگل نہیں ہوا
ممکن نہیں ہے جس کا ذرا سا مشاہدہ
میری نظر سے وہ کبھی اوجھل نہیں ہوا
ہر چیز آشنائے تغیر ہوئی مگر
قانونِ ہست و بود معطل نہیں ہوا
دستِ اجل نے کی ہے تگ و دو بڑی مگر
دروازۂ حیات مقفل نہیں ہوا
برسوں سے ڈھونڈتا ہوں کوئی اور شخص میں
اِس ہجر کا معمہ کبھی حل نہیں ہوا
منصور اپنی ذات شکستہ کیے بغیر
پانی کا بلبلا کبھی بادل نہیں ہوا
منصور آفاق

اس پرلکھا تھا نام بھی چرچل کا کیا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 64
کوئی یہاں پہ بورڈ تھا پیتل کا کیا ہوا
اس پرلکھا تھا نام بھی چرچل کا کیا ہوا
اس جگہ پہ تھا پارک جہاں پر مکان ہیں
اس موڑ پہ درخت تھا پیپل کا کیا ہوا
ہوتی تھی اس گلی میں کتابوں کی اک دکان
اسکول تھا یہاں پہ جو شیتل کا کیا ہوا
شیشم کے اس مقام پہ لاکھوں درخت تھے
جنگل یہاں پہ ہوتاتھا، جنگل کا کیا ہوا
قوسِ قزح کہاں گئی وہ آسمان سے
وہ دوپہر کے سرمئی بادل کا کیا ہوا
منصورہر گلی میں اڑے موسموں کی گرد
بارش کہاں چلی گئی جل تھل کا کیا ہوا
منصور آفاق