ٹیگ کے محفوظات: تھاپ

بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 33
پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو
رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں
اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو
اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئی
کیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو
کتنا ہی بے کنار سمندر ہو پھر بھی دوست
رہتا ہے بے قرار ندی کے ملاپ کو
پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں
پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو
تعریف کیا ہو قامت دلدار کی شکیبؔ
تجسیم کر دیا ہے کسی نے الاپ کو
شکیب جلالی

ہے مرے تعاقب میں ، نیند کے بس سٹاپ سے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 435
آشنا سا لگتا ہے اپنی پُر خواب چاپ سے کوئی
ہے مرے تعاقب میں ، نیند کے بس سٹاپ سے کوئی
موسمِ جدائی کی تنگ تھا زرد سی طوالت سے
رُت خرید لایا ہے وصل کی، لمس شاپ سے کوئی
قوس قوس آوازیں دور تک دائرے بناتی تھیں
لکھ رہا تھا کمرے میں گیت سا کیا الاپ سے کوئی
رقص کے الاؤ میں ڈوب کر پاؤں سے کلائی تک
جل اٹھا تھا ڈھولک کی نرم سی تیز تھاپ سے کوئی
سردیوں کی برفانی صبح میں گرم گرم سے بوسے
پھینکتا تھا ہونٹوں کی برف سی سرد بھاپ سے کوئی
جو کہیں نہیں موجود، روح کے آس پاس میں منصور
پوچھتا رہا اس کا، دیر تک اپنے آپ سے کوئی
منصور آفاق

ہور دی ہور ائی ہو گئی، صورت اپنے آپ دی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 115
ہوٹھیں لنبو چُپ دے، اکھ انگارے تاپدی
ہور دی ہور ائی ہو گئی، صورت اپنے آپ دی
اج اوہدی تحریر چوں، اُڈیا رنگ مہکار دا
دل وچ سی اک یاد جیہی، اوہ وی بُجھدی جاپدی
چڑھدے لہندے شور سی، چانن جیہی اک چپ دا
اکھیں پیار بہار سی، نِمھے گیت الاپدی
میں تے نئیں سی دوستو! چنگا جیہا دھیانیاں
کِنھوں ٹور لیائی سی، چھِک ڈھولک دی تھاپ دی
ماجدُ میں ساں تاولا، گیا ساں اپنے دل تے
ایہہ دنیا کجھ ہور سی، تتیاں نوں سی تاپدی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)