ٹیگ کے محفوظات: تھالی

نمِ سکون سے جھولی ہوا کی خالی تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
شجر شجر نے زباں پیاس سے نکالی تھی
نمِ سکون سے جھولی ہوا کی خالی تھی
زمین خود بھی تمازت سے تھی توے جیسی
فلک پہ چاند نہیں تھا دہکتی تھالی تھی
جو ابر بانجھ ہے اُس سے کہو کہ ٹل جائے
تمام خلق اسی بات کی سوالی تھی
جمالِ فکر نے بَکنے نہ کُچھ دیا ورنہ
ہماری دھج بھی بظاہر بڑی جلالی تھی
دھُلی نہ گریۂ پس ماندگاں سے بھی ماجدؔ
کنارِ دیدۂ قاتل عجیب لالی تھی
ماجد صدیقی

پیڑ گملوں میں سمٹ جائیں گے ہریالی لیے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 352
جنگلوں میں شہر در آئے ہیں خوشحالی لیے
پیڑ گملوں میں سمٹ جائیں گے ہریالی لیے
میری دَھرتی جس پہ برسوں سے گھٹا برسی نہیں
آسماں کو تک رہی ہے کاسۂ خالی لیے
ذہن پر اندیشے اولوں کی طرح گرتے ہوئے
آرزوئیں کھیت کے سبزے کی پامالی لیے
بستیوں پر روشنی کے چند سکّے پھینک کر
ایک بادل جا رہا ہے چاند کی تھالی لیے
شاعروں کو روز البیلے خیالوں کی تلاش
جیسے بچے تتلیوں کی کھوج میں جالی لیے
عرفان صدیقی

چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 311
سبز سر چھیڑ خشک سالی میں
چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں
کوئی دریا گرا تھا پچھلی شب
تیری کچی گلی کی نالی میں
لمس ہے تیرے گرم ہونٹوں کا
ویٹرس… چائے کی پیالی میں
جو ابھی ہونا ہے پڑوسن نے
واقعہ لکھ دیا ہے گالی میں
اپنے دانتوں سے کس لیے ناخن
کاٹتا ہوں میں بے خیالی میں
وہ چہکتی ہے میرے مصرعے مِیں
میں دمکتا ہے اس کی بالی میں
بھوک بہکی ہوئی تھی برسوں کی
اور چاول تھے گرم ، تھالی میں
گم ہے دونوں جہاں کی رعنائی
سبزروضے کی جالی جالی میں
عمر ساری گزار دی منصور
خواہشِ ساعتِ وصالی میں
منصور آفاق