ٹیگ کے محفوظات: تکمیل

تکمیل

’’تمھیں ثابت کرنا ہو گا کہ تم ہو‘‘! اس نے مجھے جھنجوڑا

’’مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی‘‘ میں نے احتجاج کیا

اُس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! ’’تم سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ‘‘

’’ٹھہرو ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے ۔۔۔ ۔۔۔ تم یہ ثابت نہیں کر سکو گے کہ میں ہوں ‘‘

اس نے گھبر ا کر مجھے پھر سمیٹ لیا اور زرا توقف کے بعد فضا میں اچھال دیا اور پُر جوش ہو کر بولا

’’دیکھا تم روشنی ہی روشنی ہو‘‘

’’ہاں مگر تاریکی مجھے نگلنے کو بیتاب ہے! میں نے کہا تھا نا میں خود کو ثابت کرنے سے قاصر ہوں ‘‘

اس نے ہراساں ہو کر مجھے مٹھی میں جکڑ لیا ۔۔۔ ۔۔۔ ناتمامی کے درد سے میری آنکھیں چھلک پڑیں

اس نے مجھے بہنے کے لیے نشیب میں چھوڑ دیا اور مسکرایا

’’دیکھا تم مایہ ہی مایہ ہو‘‘

’’مجھے وقت کی تیز دھوپ جلد خشک کر دے گی‘‘میں نے دہائی دی

وہ غصے سے کانپنے لگا ۔۔۔ ۔۔ پھر مجھے سامنے رکھ کر گڑگڑایا

’’خود کو ثابت کروخدارا، نہیں تو میں مٹ جاوں گا! ہماری تکمیل ضروری ہے‘‘

’’ناگزیر ہے‘‘! میں نے تائید کی

آؤ میں تمھیں زیب تن کر لوں! نہیں تو ہم تصدیق کے حق سے محرو م ہو جائیں گے، ہم کبھی ثابت نہ ہو سکیں گے‘‘

’’ہاں ہمیں اپنی تصدیق کرنی ہو گی‘‘اس نے مجھ میں ضم ہوتے ہوئے کہا

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔اور پھر ہم نے دیکھا ۔۔۔ رنگ ۔۔۔ روشنی ۔۔۔ سبزہ ۔۔۔ مایہ ۔۔۔ حسن اور حیرت سب ہمارے بطون کی

جاگیریں تھیں

باہر تو صرف دھواں تھا

نینا عادل

سرِ صلیب ایستادہ ہو گا خدائے انجیل، چل کے دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 51
دکھائی جائے گی شہرِ شب میں سحر کی تمثیل، چل کے دیکھیں
سرِ صلیب ایستادہ ہو گا خدائے انجیل، چل کے دیکھیں
گلوں نے بندِ قبا ہے کھولا، ہوا سے بوئے جنوں بھی آئے
کریں گے اِس موسمِ وفا میں ، ہم اپنی تکمیل، چل کے دیکھیں
خلافِ اصحاب فیل اب کے، زیاں ہوئی غیب کی بشارت
پڑا ہوا خاک پر شکستہ، پرِ ابابیل، چل کے دیکھیں
چُنے ہیں وُہ ریزہ ریزہ منظر، لہو لہو ہو گئی ہیں آنکھیں
چلو نا! اِس دکھ کے راستے پر سفر کی تفصیل چل کے دیکھیں
فضا میں اُڑتا ہوا کہیں سے، عجب نہیں عکس برگ آئے
خزاں کے بے رنگ آسماں سے اٹی ہوئی جھیل، چل کے دیکھیں
لڑھک گیا شب کا کوہ پیما، زمیں کی ہمواریوں کی جانب
کہیں ، ہوا گُل نہ کر چکی ہو انا کی قندیل، چل کے دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

وہی فانوس مری صبح کی قندیل ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 56
تیرے ماتھے کی جو محراب سے تشکیل ہوا
وہی فانوس مری صبح کی قندیل ہوا
نامکمل تھی ابھی مرے خدا کی تخلیق
وہ ترا نام تھا جو باعث تکمیل ہوا
میرے دامن میں بکھرنے لگے لاکھوں سورج
کوئی آنسو جو تری یاد میں تحلیل ہوا
تیرے انداز تمدن بھری تاریخ ہوئے
تیرا چلنامری تہذیب میں تبدیل ہوا
تیری رحمت کی بشارت سے بھرا رہتا تھا
ایک عیسیٰ جو کبھی صاحبِ انجیل ہوا
اس کے قدموں کی کرم باری کے صدقے منصور
میرا ہر لفظ مرے دور کا جبریل ہوا
منصور آفاق