ٹیگ کے محفوظات: تکتا

یہ کہاں آگیا ہستی سے سرکتا ہُوا میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 36
ایک تاریک خلا، اُس میں چمکتا ہُوا میں
یہ کہاں آگیا ہستی سے سرکتا ہُوا میں
شعلہِٗ جاں سے فنا ہوتا ہوں قطرہ قطرہ
اپنی آنکھوں سے لہو بن کے ٹپکتا ہُوا میں
آگہی نے مجھے بخشی ہے یہ نارِ خود سوز
اک جہنّم کی طرح خود میں بھڑکتا ہُوا میں
منتظر ہوں کہ کوئی آکے مکمل کردے
چاک پر گھومتا، بل کھاتا، درکتا ہُوا میں
مجمعِ اہلِ حرم نقش بدیوار اُدھر
اور اِدھر شور مچاتا ہُوا، بکتا ہُوا میں
میرے ہی دم سے ملی ساعتِ امکان اِسے
وقت کے جسم میں دل بن کے دھڑکتا ہُوا میں
بے نیازی سے مری آتے ہوئے تنگ یہ لوگ
اور لوگوں کی توجّہ سے بدکتا ہُوا میں
رات کی رات نکل جاتا ہوں خود سے باہر
اپنے خوابوں کے تعاقب میں ہمکتا ہُوا میں
ایسی یکجائی، کہ مٹ جائے تمیزِ من و تُو
مجھ میں کھِلتا ہُوا تُو، تجھ میں مہکتا ہُوا میں
اک تو وہ حسنِ جنوں خیز ہے عالم میں شہود
اور اک حسنِ جنوں خیز کو تکتا ہُوا میں
ایک آواز پڑی تھی کہ کوئی سائلِ ہجر؟
آن کی آن میں پہنچا تھا لپکتا ہُوا میں
ہے کشیدِ سخنِ خاص ودیعت مجھ کو
گھومتا پھرتا ہوں یہ عطر چھڑکتا ہُوا میں
رازِ حق فاش ہُوا مجھ پہ بھی ہوتے ہوتے
خود تک آہی گیا عرفان بھٹکتا ہُوا میں
عرفان ستار

کوئی تیرا ذکر چھیڑے اور میں سنتا رہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 106
میں ہر اک محفل میں اس امید پر بیٹھا رہوں
کوئی تیرا ذکر چھیڑے اور میں سنتا رہوں
دھوپ کی صورت مرے ہمراہ تو چلتا رہے
سائے کی مانند میں گھٹتا رہوں بڑھتا رہوں
ایک طوفاں کی طرح تو مجھ سے ٹکراتا رہے
اور ساحل کی طرح کٹ کٹ کے میں گرتا رہوں
تو لہو کی طرح میرے جسم میں گردش کرے
سانس کی مانند میں آتا رہوں جاتا رہوں
دشت دل سے تو صبا بن کے اگر گزرے تومیں
قطرہ بن کے نوک خار زیست پر ٹھہرا رہوں
دائرے آب رواں کے ٹوٹتے بنتے رہیں
اور اپنی شکل میں بیٹھا ہوا تکتا رہوں
زندگی کے مرحلے دنیا کی خاطر طے کروں
اور محبت کے لئے میں عمر بھر پیاسا رہوں
کر دیا ہے کام کیسا تو نے یہ میرے سپرد
رات بھر آوارہ قدموں کی صدا سنتا رہوں
میری حسرت کا تقاضا ہے کہ تیری آرزو
موسم گل میں شکستہ شاخ پر بیٹھا رہوں
زندگی دو حادثوں کے درمیاں اک حادثہ
میں کہاں تک حادثوں کے درمیاں بیٹھا رہوں
زندہ رہنے کا تو باقیؔ یہ بھی اک انداز ہے
بیٹھ کر غیروں میں اپنے آپ پر ہنستا رہوں
باقی صدیقی