ٹیگ کے محفوظات: تپاک

پھول غیرت سے جل کے خاک ہوا

دیوان سوم غزل 1063
وہ جو گلشن میں جلوہ ناک ہوا
پھول غیرت سے جل کے خاک ہوا
اس کے دامن تلک نہ پہنچا ہاتھ
تھا سر دست جیب چاک ہوا
کس قدر تھا خبیث شیخ شہر
اس کے مرنے سے شہر پاک ہوا
ڈریے اس رشک خور کی گرمی سے
کچھ تو ہے ہم سے جو تپاک ہوا
میر ہلکان ہو گیا تھا بہت
سو طلب ہی میں پھر ہلاک ہوا
میر تقی میر

یارب یہ آسمان بھی مل جائے خاک میں

دیوان دوم غزل 885
کرتا نہیں قصور ہمارے ہلاک میں
یارب یہ آسمان بھی مل جائے خاک میں
گرمی نہیں ہے ہم سے وہ اے رشک آفتاب
اب آگیا ہے فرق بہت اس تپاک میں
اس ڈھنگ سے ہلا کہ بجا دل نہیں رہے
اس گوش کے گہر سے دم آئے ہیں ناک میں
اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
کہیے لطافت اس تن نازک کی میر کیا
شاید یہ لطف ہو گا کسو جان پاک میں
میر تقی میر

نزدیک اپنے کب کے ہوئے ہیں ہلاک ہم

دیوان اول غزل 279
کرتے نہیں ہیں دوری سے اب اس کی باک ہم
نزدیک اپنے کب کے ہوئے ہیں ہلاک ہم
بیٹھے ہم اپنے طور پہ مستوں میں جب اٹھے
جوں ابرتر لیے اٹھے دامن کو پاک ہم
آہستہ اے نسیم کہ اطراف باغ کے
مشتاق پر فشانی ہیں اک مشت خاک ہم
شمع و چراغ و شعلہ و آتش شرار و برق
رکھتے ہیں دل جلے یہ بہم سب تپاک ہم
مستی میں ہم کو ہوش نہیں نشأتین کا
گلشن میں اینڈتے ہیں پڑے زیر تاک ہم
جوں برق تیرے کوچے سے ہنستے نہیں گئے
مانند ابر جب اٹھے تب گریہ ناک ہم
مدت ہوئی کہ چاک قفس ہی سے اب تو میر
دکھلا رہے ہیں گل کو دل چاک چاک ہم
میر تقی میر

سوحریر سرخ اتار دی ،ہے لباسِ خاک پہن لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 117
کہ جو فقر نے ہے عطاکیا وہی چاک چاک پہن لیا
سوحریر سرخ اتار دی ،ہے لباسِ خاک پہن لیا
لیا ڈھانپ ننگ نصیب کا اسی جامہ ء شبِ تار سے
جو جلادیا تھا فقیر نے وہی راکھ راکھ پہن لیا
کبھی سردمہر ہوئے کہیں تو سیاہ چین زمین تھی
گریں دوپہر میں بھی بجلیاں جو کبھی تپاک پہن لیا
کبھی شہر کے کسی موڑپریونہی خالی ہاتھ بڑھا دئیے
کبھی ذکر و فکر کی غار میں ترا انہماک پہن لیا
جو مٹھائیوں کی طلب اٹھی توزمیں کی خاک ہی پھانک لی
جو سفید سوٹ کو جی کیا تو سیہ فراک پہن لیا
جہاں یاد آئیں حکومتیں وہیں ہم برہنہ ہو گئے
جہاں حرف زاد کوئی ملا وہیں ملکِ پاک پہن لیا
منصور آفاق