ٹیگ کے محفوظات: تو

اُس کو ہونا ہی تھا خفا سو ہوا

یہ تو سب ٹھیک ہے بُرا تو ہوا
اُس کو ہونا ہی تھا خفا سو ہوا
میں بھی دنیا میں دل لگاتا ہوں
بھول جا تو بھی آج تک جو ہوا
آنے والے دنوں کی فکر کرو
چلو اب تک تو جو ہوا سو ہوا
شاعری پر گمان جادو کا
کیا عجب ہے اگر کسی کو ہوا
گھر میں ہر چند کچھ نہیں باصرِؔ
سَر چھپانے کا آسرا تو ہوا
باصر کاظمی

کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا

کچھ تو رُسوا اپنی طرزِ گفتگو نے کر دیا
کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا
کیسے کیسے ناقصوں کی بات سننی پڑ گئی
کیا سُبک سَر ہم کو زخمِ چارہ جو نے کر دیا
شہر بھر میں ایک ہی تو رہ گیا تھا ہوش مند
سنتے ہیں اُس کو بھی دیوانہ کسو نے کر دیا
دو قدم چلنا تھا مشکل اُس اندھیرے میں مگر
راہ کو روشن چراغِ آرزو نے کر دیا
اُس نے تو باصرِؔ یونہی پوچھی تھی تیری خیریت
حالِ دل کہہ کر ہمیں شرمندہ تُو نے کر دیا
باصر کاظمی

اب تِرے جی میں جو آئے سو کر

ہم الگ بیٹھ رہے چُپ ہو کر
اب تِرے جی میں جو آئے سو کر
اب تجھے کھو کے خیال آتا ہے
تجھ کو پایا تھا بہت کچھ کھو کر
کیا بُرا ہے مجھے اچھا ہونا
کوئی تدبیر اگر ہے تو کر
تم نے کیا کر لیا رہ کر بیدار
ہم نے تو عمر گنوا دی سو کر
آج تک تم نہیں سنبھلے باصرِؔ
کھائی تھی کِس کی گلی میں ٹھوکر
باصر کاظمی

کِس کو ڈھونڈ رہا ہے تو

ویرانوں میں اے جگنو
کِس کو ڈھونڈ رہا ہے تو
اُن بے معنی باتوں کے
اب کیا کیا نکلے پہلو
خون جلایا ساری رات
پائے مٹھی بھر آنسو
کتنی تازہ ہے اب تک
بیتے لمحوں کی خوشبو
مدت میں جا کر پایا
تیری یادوں پر قابو
باصرِؔ اتنے غموں کے ساتھ
کیسے خوش رہتا ہے تو
باصر کاظمی

یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
شکن کیا تھی، سرِ ابرو، نہ جانے
یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے
سماعت پر کسی حرفِ گراں کے
اُبل پڑتے ہیں کیوں آنسو، نہ جانے
لہو کس گھاٹ پر اُس کا بہے گا
یہ نکتہ تشنہ لب آہو نہ جانے
وُہی رُت، حبس تھا جس سے کہے یہ
چلیں کیوں آندھیاں ہر سُو، نہ جانے
الاؤ دل کے جانے اِک زمانہ
مگر یہ بات وُہ گلرُو نہ جانے
یہی نا آگہی خاصہ ہے اُس کا
کوئی فرعون اپنی خُو نہ جانے
یہاں مجرم ہے جو بھی منکسر ہے
یہی اِک بات ماجدؔ تُو نہ جانے
ماجد صدیقی

لپک کے موج کناروں کو جیسے چھُو آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
وُہ حسن پاس مرے یوں پئے نمو آئے
لپک کے موج کناروں کو جیسے چھُو آئے
درِ سکون پہ جوں قرض خواہ کی دستک
کبھی جو آئے تو یوں دل میں آرزو آئے
نہیں ضرور کہ الفاظ دل کا ساتھ بھی دیں
یہ ذائقہ تو سخن میں کبھو کبھو آئے
نہیں ہے اہل ترے، میری خانہ ویرانی
خدا کرے مرے گھرمیں کبھی نہ تو آئے
بھنور میں جیسے ہم آئے مثالِ خس ماجدؔ
کوئی نہ یوں کسی آفت کے روبرُو آئے
ماجد صدیقی

تنہائی میں رو لیں گے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 131
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
ہم بے راہ رووں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے
خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے
جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے
ہجر کی شب سونے والے
حشر کو آنکھیں کھولیں گے
پھر کوئی آندھی اُٹھے گی
پنچھی جب پر تولیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے
احمد فراز

جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 116
کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے
جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے
اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دُکھ نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی
خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیے
تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
تجھ کو بھُلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظر
اب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فراز
دنیا تو عرضِ حال سے بے آبرو کرے
احمد فراز

دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح

احمد فراز ۔ غزل نمبر 35
پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح
دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح
کبھی تو سنگ سے پھوٹے گی آبجو غم کی
کبھی تو ٹوٹ کے روئے گا تو ہماری طرح
پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف لیکن
لٹا کے قافلۂ رنگ و بو ہماری طرح
یہ کیا کہ اہل ہوس بھی سجائے پھرتے ہیں
دلوں پہ داغ جبیں پر لہو ہماری طرح
وہ لاکھ دشمن جاں ہو مگر خدا نہ کرے
کہ اس کا حال بھی ہو ہُو بہو ہماری طرح
ہمی فراز سزاوار سنگ کیوں ٹھرے
کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خو ہماری طرح
احمد فراز

کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 98
اگر وہ صبح کو آئے تو کس سے گفتگو ہو گی
کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی
حقیقت جب تجھے معلوم اے دیوانہ خو ہو گی
جب ان کی جستجو کے بعد اپنی جستجو ہو گی
ملیں گے ہو بہو تجھ سے حسیں آئینہ خانے میں
کسی سے کچھ نہ کہنا ورنہ تم سے دو بدو ہو گی
مآلِ گل کو جب تک آنکھ سے دیکھا نہیں ہو گا
کلی کو پھول بن جانے کی کیا کیا آرزو ہو گی
دلِ مضطرب تو اس محفل میں نالے ضبط کر لے گا
مگر اے چشمِ گریاں تو بہت بے آبرو ہو گی
حریمِ ناز تک تو آگیا ہوں کس سے کیا پوچھوں
یہاں جلوہ دکھایا جائے گا یا گفتگو ہو گی
جنھیں اے راہبر لٹوا رہے ہیں راہِ منزل میں
خدا معلوم ان کے دل میں کیا کیا آرزو ہو گی
ہمارا کیا ہے ارمانِ وفا میں جان دے دیں گے
مگر تم کیا کرو گے جب تمھیں یہ آرزو ہو گی
یہ بلبل جس کی آوازیں خزاں میں اتنی دلکش ہیں
بہاروں میں خدا معلوم کتنی خوش گلو ہو گی
قمر سنتے ہیں تو شیخ صاحب آج توڑیں گے
سجے گا میکدہ آرائشِ جام و سبو ہو گی
قمر جلالوی

خدا رکھے تجھے قاتل رہے دنیا میں تو برسوں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 61
نہ طے کرتا تو رہتا قصۂ تیغوں گلوں برسوں
خدا رکھے تجھے قاتل رہے دنیا میں تو برسوں
خدا کی شان واعظ بھی ہجوِئے مئے کرے مجھ سے
کہ جس نے ایک اک ساغر پہ توڑا ہے وضو برسوں
بہارِ گل میں نکلے خوب ارماں دشتِ وحشت کے
رفو گر نے کیا دامن کی کلیوں پر رفو برسوں
قفس کی راحتوں نے یاد گلشن کی بھلا ڈالی
نہ کی صیاد کے گھر آشیاں کی آرزو برسوں
قفس میں خواب جب دیکھ کوئی دیکھا بہاروں کا
دماغِ اہلِ گلشن میں رہی گلشن کی بو برسوں
قمر یہ کیا خبر تھی وہ ہمارے دل میں رہتے ہیں
رہی جن کے لیئے دیر و حرم میں جستجو برسوں
قمر جلالوی

خدا معلوم و کس کس سے محوِ گفتگو ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 19
گِلہ بزمِ عدو میں کیونکر اس کے رو برو ہو گا
خدا معلوم و کس کس سے محوِ گفتگو ہو گا
بہار اپنی سمجھ کر اور ہنس لیں یہ چمن والے
بہت روئیں گے جب ظاہر فریبِ رنگ و بو ہو گا
گرے گی برق اے صیاد یہ میں بھی سمجھتا ہوں
مگر میرا قفس کب آشیاں کے رو برو ہو گا
بڑھے اور پھر بڑھے، ضد دیکھ لینا حشر میں قاتل
خدا کے سامنے خاموش ہم ہوں گے نہ تو ہو گا
سحر کو کیوں نگاہوں سے گرانے کو بلاتے ہو
مرے سرکار آئینہ تمھارے رو برو ہو گا
لگا بیٹھے ہیں اپنے پاؤں میں وہ شام سے مہندی
انھیں معلوم کیا کس کس کا خونِ آرزو ہو گا
گریباں کو تو سی دے گا رفو گر تارِ داماں سے
مگر چاکِ دلِ مجروح پھر کیونکر رفو ہو گا
چھپے گا خونِ ناحق کس طرح پیشِ خدا قاتل
ترے دامن پہ چھینٹے، آستینوں پر لہو ہو گا
قمر سے انتظامِ روشنی کو پوچھنے والے
چراغوں کی ضرورت کیا ہے جب محفل میں تو ہو گا
قمر جلالوی

کب پارہ پارہ پیرہنِ چارہ جو نہیں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 78
کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیں
کب پارہ پارہ پیرہنِ چارہ جو نہیں
گلگشتِ باغ کس چمن آرا نے کی کہ آج
موجِ بہار مدعی رنگ و بو نہیں
واں بار ہو گیا ہے نزاکت سے بار بھی
یاں ضعف سے دماغ و دلِ آرزو نہیں
کس نے سنا دیا دلِ حیرت زدہ کا حال
یہ کیا ہوا کہ آئنہ اب روبرو نہیں
تغئیرِ رنگ کہتی ہے وصلِ عدو کا حال
یعنی نقاب رخ پہ کبھو ہے، کبھو نہیں
گستاخِ شکوہ کیا ہوں کہ اندازِ عرض پر
کہتے ہیں اختلاط کی بندے کی خو نہیں
کیا جانے دردِ زخم کو گو ہو شہیدِ ناز
جو نیم کشتِ خنجرِ رشکِ عدو نہیں
ابرِ سرشک و گلشنِ داغ و نسیمِ آہ
سامانِ عیش سب ہے پر افسوس تو نہیں
بد خوئیوں سے یار کی کیا خوش ہوں شیفتہ
ہر ایک کو جو حوصلۂ آرزو نہیں
مصطفٰی خان شیفتہ

اے دل! خیالِ طرہ تابیدہ مو نہیں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 77
یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاں
اے دل! خیالِ طرہ تابیدہ مو نہیں
دستِ جنوں نے جامہ ہستی قبا کیا
اب ہائے چارہ گر کو خیالِ رفو نہیں
شکرِ ستم بھی راس نہ آیا ہمیں کہ اب
کہتے ہیں وہ کہ لائقِ الطاف تو نہیں
ہرجائی اپنے وحشی کو منہ سے یہ کہتے ہو
کیا آپ کا نشانِ قدم کو بکو نہیں
نیرنگیوں نے تیری یہ حالت تغیر کی
امید زندگی کی کبھو ہے، کبھو نہیں
کیا ہو سکے کسی سے علاج اپنا شیفتہ
اس گل پہ غش ہیں جس میں محبت کی بو نہیں
مصطفٰی خان شیفتہ

اے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 76
کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں
اے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں
بے اشکِ لالہ گوں بھی میں بے آبرو نہیں
آنسو میں رنگ کیا ہو کہ دل میں لہو نہیں
پھر بھی کہو گے چھیڑنے کی اپنی خو نہیں
عطرِ سہاگ ملتے ہو وہ جس میں بو نہیں
یہ کیا کہا کہ بکتے ہو کیوں آپ ہی آپ تم
اے ہم نشیں مگر وہ مرے روبرو نہیں
بے طاقتی نے کام سے یہ کھو دیا کہ بس
دل گم ہوا ہے اور سرِ جستجو نہیں
محفل میں لحظہ لحظہ وہ چشمِ ستیزہ خو
لڑتی ہیں کیوں اگر سرِ صلحِ عدو نہیں
کیا جوشِ انتظار میں ہر سمت دوڑ ہے
بدنامیوں سے ہائے گزر ایک سو نہیں
دی کس نے اشکِ سرمہ سے تیغِ مژہ کو آب
شورِ فغاں کو فکرِ خراشِ گلو نہیں
مصطفٰی خان شیفتہ

دل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 58
پردۂِ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے
دل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئے
ایک ہمیں ہی اے سحر نیند نہ آئی رات بھر
زانوئے شب پہ رکھ کر سر، سارے چراغ سو گئے
راہ میں تھے ببول بھی رودِ شرر بھی دھول بھی
جانا ہمیں ضرور تھا گل کے طواف کو گئے
دیدہ ورو بتائیں کیا تم کو یقیں نہ آئے گا
چہرے تھے جن کے چاند سے سینے میں داغ بو گئے
داغِ شکست دوستو دیکھو کسے نصیب ہو
بیٹھے ہوئے ہیں تیز رو سست خرام تو گئے
اہلِ جنوں کے دل شکیبؔ نرم تھے موم کی طرح
تیشۂِ یاس جب چلا تودۂِ سنگ ہو گئے
شکیب جلالی

میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 152
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی
حسنِ مغموم، تمکنت میں تری
فرق آیا نہ یک سرِ مو بھی
یہ نہ سوچا تھا زیرِ سایہ ءِ زلف
کہ بچھڑ جائے گی یہ خوشبو بھی
حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی
ہائے اس کا وہ موج خیز بدن
میں تو پیاسا رہا لبِ جُو بھی
یاد آتے ہیں معجزے اپنے
اور اس کے بدن کا جادو بھی
یاسمیں! اس کی خاص محرمِ راز
یاد آیا کرے گی اب تو بھی
یاد سے اس کی ہے مرا پرہیز
اے صبا اب نہ آئیو تو بھی
ہیں یہی جون ایلیا جو کبھی
سخت مغرور بھی تھے، بد خو بھی
جون ایلیا

کون ہے بے قابو مجھ میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 113
کرتا ہے ہا ہُو مجھ میں
کون ہے بے قابو مجھ میں
یادیں ہیں یا بلوا ہے
چلتے ہیں چاقو مجھ میں
لے ڈوبی جو ناؤ مجھے
تھا اس کا چپو مجھ میں
جانے کن کے چہرے ہیں
بے چشم و ابرو مجھ میں
ہیں یہ کس کے تیغ و علم
بے دست و بازو مجھ میں
جانے کس کی آنکھوں سے
بہتے ہیں آنسو مجھ میں
ڈھونڈتی ہے اک آہو کو
اک مادہ آہو مجھ میں
آدم ، ابلیس اور خدا
کوئی نہیں یکسو مجھ میں
میں تو ایک جہنم ہوں
کیوں رہتا ہے تو مجھ میں
جون کہیں موجود نہیں
میرا ہم پہلو مجھ میں
اب بھی بہاراں مژدہ ہے
ایک خزاں خوشبو مجھ میں
جون ایلیا

خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 238
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے
دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت@
ہے نگاہِ آشنا تیرا سرِ ہر مو مجھے
ہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت کچھ نہ پوچھ
ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
@ نسخۂ مہرمیں ” ہم آغوشی کے بعد”
مرزا اسد اللہ خان غالب

گری ہو کے بے ہوش مشاطہ یک سو

دیوان ششم غزل 1865
بس اب بن چکے رو و موے سمن بو
گری ہو کے بے ہوش مشاطہ یک سو
نہ سمجھا گیا کھیل قدرت کا ہم سے
کیا اس کو بدخو بنا کر نکورو
نہ درگیر کیونکر ہو آپس میں صحبت
کہ میں بوریا پوش وہ آتشیں خو
ہوا ابر و سبزے میں چشمک ہے گل کی
کریں ساز ہم برگ عیش لب جو
بہار آئی گل پھول سر جوڑے نکلے
رہیں باغ میں کاش اس رنگ ہم تو
رہے آبرو میر تو ہے غنیمت
کہ غارت میں دل کی ہے ایماے ابرو
میر تقی میر

چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے

دیوان پنجم غزل 1728
کیا کہیے کچھ بن نہیں آتی جنگل جنگل ہو آئے
چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے
دل کی تلاش میں اٹھ کے گئے تھے شاید یاں پیدا ہو سو
جان کا اپنی گرامی گوہر اس کی گلی میں کھو آئے
آہوے عرفاں صید انھوں کا گر نہ ہوا نقصان کیا
اس عالم سے اس عالم میں کسب کمال کو جو آئے
کچھ کہنے کا مقام نہ تھا وہ وا ہوتا تو کہتے کچھ
آنا نہ آنا یکساں تھا واں ہوتے ادھر ہم گو آئے
سب کہتے تھے چین کرے گا کچھ بھی نہ دیکھا جز سختی
پتھر رکھ کے سرہانے ہم ٹک اس کی گلی میں سو آئے
کیا ہی دامن گیر تھی یارب خاک بسمل گاہ وفا
اس ظالم کی تیغ تلے سے ایک گیا تو دو آئے
سر دینا ٹھہرا کر ہم نے پائوں کو باہر رکھا تھا
ہر سو ہو دشوار ہے پھرنا میر ادھر اب تو آئے
میر تقی میر

وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے

دیوان سوم غزل 1286
کوئی ساحر اس کو کچھ جادو کرے
وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے
دور سے ٹک ملتفت ہوتے رہو
جب تلک دوری سے کوئی خو کرے
دم میں ہو آئینۂ عالم سیاہ
ایک اگر عاشق قلندر ہو کرے
کس سے تیری چاہیے داد ستم
کاش انصاف اپنے دل میں تو کرے
غنچہ پیشانی چمن میں میں رہا
بے دماغ عشق گل کیا بو کرے
لوہو پانی ایک کر دیتا ہے عشق
پانی کردے چشم دل لوہو کرے
اب جنوں میں میر سوے دشت جائے
کار وحشت کے تئیں یک سو کرے
میر تقی میر

ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو

دیوان سوم غزل 1234
کہتا ہے کون میر کہ بے اختیار رو
ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو
پایا گیا وہ گوہر نایاب سہل کب
نکلا ہے اس کو ڈھونڈنے تو پہلے جان کھو
کام اس کے لب سے ہے مجھے بنت العنب سے کیا
ہے آب زندگی بھی تو لے جائے مردہ شو
سنتے نہیں کہے جو نہ کہیے تو دم رکے
کچھ پوچھیے نہ قصہ ہمارا ہے گومگو
مشعر ہے بے دماغی پہ مطلق نہ بولنا
ہم دیں تمھیں دعا ہمیں تم گالیاں تو دو
کرنا جگر ضرور ہے دل دادگاں کو بھی
وہ بولتا نہیں تو تم آپھی سے چھیڑ لو
اے غافلان دہر یہ کچھ راہ کی ہے بات
چلنے کو قافلے ہیں یہاں تم رہے ہوسو
گردش میں جو کوئی ہو رکھے اس سے کیا امید
دن رات آپھی چرخ میں ہے آسمان تو
جب دیکھتے ہیں پائوں ہی دابو ہو اس کے میر
کیوں ہوتے ہو ذلیل تم اتنا تو مت دبو
میر تقی میر

چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے

دیوان دوم غزل 1037
رشتہ کیا ٹھہرے گا یہ جیسے کہ مو نازک ہے
چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے
شاخ گل کاہے کو اس لطف سے لچکے ہے کہیں
لاگ والا کوئی دیکھے تجھے تو نازک ہے
چشم انصاف سے برقع کو اٹھا دیکھو اسے
گل کے منھ سے تو کئی پردہ وہ رو نازک ہے
لطف کیا دیوے تمھیں نقش حصیر درویش
بوریا پوشوں سے پوچھو یہ اتو نازک ہے
بیڑے کھاتا ہے تو آتا ہے نظر پان کا رنگ
کس قدر ہائے رے وہ جلد گلو نازک ہے
گل سمجھ کر نہ کہیں بے کلی کرنے لگیو
بلبل اس لالۂ خوش رنگ کی خو نازک ہے
رکھے تاچند خیال اس سرپرشور کا میر
دل تو کانپا ہی کرے ہے کہ سبو نازک ہے
میر تقی میر

آخر ہوئی کہانی مری تم بھی سو رہو

دیوان دوم غزل 925
سب سرگذشت سن چکے اب چپکے ہو رہو
آخر ہوئی کہانی مری تم بھی سو رہو
جوش محیط عشق میں کیا جی سے گفتگو
اس گوہر گرامی سے اب ہاتھ دھو رہو
فندق تو ہے پہ یہ بھی تماشے کا رنگ ہے
ٹک انگلیوں کو خون میں میرے ڈبو رہو
اتنا سیاہ خانۂ عاشق سے ننگ کیا
کتنے دنوں میں آئے ہو یاں رات تو رہو
ٹھہرائو تم کو شوخی سے جوں برق ٹک نہیں
ٹھہرے تو ٹھہرے دل بھی مرا نچلے جو رہو
ہم خواب تجھ سے ہوکے رہا جاوے کس طرح
ملتے ہوئے سمجھ کے کہا کر رہو رہو
خطرہ بہت ہے میر رہ صعب عشق میں
ایسا نہ ہو کہیں کہ دل و دیں کو کھو رہو
میر تقی میر

سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو

دیوان دوم غزل 920
ٹک لطف سے ملاکر گو پھر کبھو کبھو ہو
سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو
کیا کیا جوان ہم نے دنیا سے جاتے دیکھے
اے عشق بے محابا دنیا ہو اور تو ہو
ایسے کہو گے کچھ تو ہم چپکے ہو رہیں گے
ہر بات پر کہاں تک آپس میں گفتگو ہو
کیا ہے جواب ظالم پرسش کے روز کہیو
جو روسیاہ یہ بھی واں آ کے روبرو ہو
پرخوں ہمارے دل سے کتنی ہے تو مشابہ
شاید کلی تجھے بھی اس گل کی آرزو ہو
خط اس کے پشت لب کا ساکت کرے گا تجھ کو
کہیو اگر تفاوت اس میں بقدرمو ہو
کھولے تھے بال کن نے ہنگام صبح اپنے
آئی ہے اے صبا تو ایسی جو مشک بو ہو
درویشی سے بھی اپنی نکلے ہے میرزائی
نقش حصیر تن پر ایسے ہیں جوں اتو ہو
مت التیام چاہے پھر دل شکستگاں سے
ممکن نہیں کہ شیشہ ٹوٹا ہوا رفو ہو
کہتے ہو کانپتا ہوں جوں بید عاشقی سے
تم بھی تو میر صاحب کتنے خلاف گو ہو
میر تقی میر

رہے خنجر ستم ہی کے گلو پاس

دیوان دوم غزل 821
گئے جس دم سے ہم اس تندخو پاس
رہے خنجر ستم ہی کے گلو پاس
قیامت ہے نہ اے سرمایۂ جاں
نہ ہووے وقت مرنے کے بھی تو پاس
رلایا ہم نے پہروں رات اس کو
کہا یہ قصۂ غم جس کسو پاس
کہیں اک دور کی سی کچھ تھی نسبت
رکھا تھا آئینے کو اس کے رو پاس
دل اے چشم مروت کیوں نہ خوں ہو
تجھے ہم جب نہ تب دیکھیں عدو پاس
یہی گالی یہی جھڑکی یہی چھیڑ
نہ کچھ میرا کیا تونے کبھو پاس
چل اب اے میر بس اس سرو قد بن
بہت رویا چمن کی آب جو پاس
میر تقی میر

ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے

دیوان اول غزل 616
ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
مقامر خانۂ آفاق وہ ہے
کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے
کچھ آئو زلف کے کوچے میں درپیش
مزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے
سرہانے میر کے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
میر تقی میر

پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا

دیوان اول غزل 70
سحرگہ عید میں دور سبو تھا
پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا
غلط تھا آپ سے غافل گذرنا
نہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا
چمن کی وضع نے ہم کو کیا داغ
کہ ہر غنچہ دل پرآرزو تھا
گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا
جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا
کروگے یاد باتیں تو کہو گے
کہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا
جہاں پر ہے فسانے سے ہمارے
دماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا
مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا
کہ پیراہن میں سو جاگہ رفو تھا
کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھے
کہ جھونکا بائو کا کچھ مشک بو تھا
نہ دیکھا میر آوارہ کو لیکن
غبار اک ناتواں سا کوبکو تھا
میر تقی میر

جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا

دیوان اول غزل 43
دل سے شوق رخ نکو نہ گیا
جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا
ہر قدم پر تھی اس کی منزل لیک
سر سے سوداے جستجو نہ گیا
سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں
لیکن اے داغ دل سے تو نہ گیا
دل میں کتنے مسودے تھے ولے
ایک پیش اس کے روبرو نہ گیا
سبحہ گرداں ہی میر ہم تو رہے
دست کوتاہ تا سبو نہ گیا
میر تقی میر

روح میں ابھرے، پھاند کے سورج کے سیال سمندر کو

مجید امجد ۔ غزل نمبر 79
عمروں کے اس معمورے میں ہے کوئی ایسا دن بھی جو
روح میں ابھرے، پھاند کے سورج کے سیال سمندر کو
اتنے کام ہیں، ان موّاج صفوں میں خوش خوش پھرتا ہوں
لیکن آج اگر کچھ اپنے بارے میں بھی سوچا تو
ایک سفر ہے صرفِ مسافت، ایک سفر ہے جزوِ سفر
جینے والے یوں بھی جیے ہیں، اک عمر اور زمانے دو
یہ انجانا شہر، پرائے لوگ، اے دل! تم یہاں کہاں
آج اس بھیڑ میں اتنے دنوں کے بعد ملے ہو، کیسے ہو
دنیا جڑی تڑی سچائی، سب سچے، کوئی تو کبھی
اس اندھیر سے نکلے اپنے جھوٹے روپ کے درشن کو
آخر اپنے ساتھ کبھی تو اک بےمہر مروت بھی
اپنے سارے نام بھلا کر، کبھی خود اپنے گن تو گنو
کچی نیند اور جسم نے دھوپ چکھی اور دل میں پھول کھلے
گھاس کی سیج پہ میں ہوں، تمہارے دھیان ہیں، آنے والے دنو!
مجید امجد

کوئی بھی اب شریکِ غمِ آرزو نہیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 46
عزمِ نظر نہیں، ہوسِ جستجو نہیں
کوئی بھی اب شریکِ غمِ آرزو نہیں
ہے اس چمن میں نالۂ صد عندلیب بھی
صرف ایک شورِ قافلۂ رنگ و بو نہیں
میرے نصیبِ شوق میں لکّھا تھا یہ مقام
ہر سو ترے خیال کی دنیا ہے، تو نہیں
ہنستا ہوں پی کے ساغرِ زہرابِ زندگی
میں کیا کروں کہ مجھ کو تڑپنے کی خو نہیں
مجید امجد

نہ اس کی تیغ نہ میرا لہو پکارتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 308
سکوتِ خوف یہاں کو بہ کو پکارتا ہے
نہ اس کی تیغ نہ میرا لہو پکارتا ہے
میں اپنی کھوئی ہوئی لوح کی تلاش میں ہوں
کوئی طلسم مجھے چار سو پکارتا ہے
وہ مجھ میں بولنے والا تو چپ ہے برسوں سے
یہ کون ہے جو ترے روبرو پکارتا ہے
ندائے کوہ بہت کھینچتی ہے اپنی طرف
مرے ہی لہجے میں وہ حیلہ جو پکارتا ہے
ہمارا عہد ہے بے برگ و بار شاخوں سے
اگرچہ قافلۂ رنگ و بو پکارتا ہے
کہ جیسے میں سرِ دریا گھرا ہوں نیزوں میں
کہ جیسے خیمۂ صحرا سے تو پکارتا ہے
عرفان صدیقی

پوچھئے دور کی آواز کا جادو ہم سے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 271
ہم سخن ہوتا ہے صحرا کا وہ آہو ہم سے
پوچھئے دور کی آواز کا جادو ہم سے
لیے پھرتی تھی کسی شہرِ فراموشی میں
رات پھر کھیل رہی تھی تری خوشبو ہم سے
اپنے لفظوں سے اسے ہم نے سنبھلنے نہ دیا
ہو گئے دل میں کئی تیر ترازو ہم سے
کیا جھلکتاہے یہ جاناں تری خاموشی میں
حرفِ اقرار تو کہتا بھی نہیں توُ ہم سے
ہم کبھی دھیان سے اس کے نہ اترنے پائیں
دائم آباد رہے حسن کا پہلو ہم سے
عرفان صدیقی

یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 95
صدائے شام سر آب جو ہے کتنی دیر
یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر
بدن دریدہ شجر‘ مہربان سوزنِ برگ
مگر یہ زحمتِ دستِ رفو ہے کتنی دیر
وہ ابر پھر کبھی آیا ادھر تو کیا حاصل
میں سبزہ ہوں مری تابِ نمو ہے کتنی دیر
مرے زوال کے ساتھی‘ مرے ستارۂ ہجر
افق کے آخری منظر میں تو ہے کتنی دیر
پھر اک عجیب تماشا رہے گا صدیوں تک
یہ کارزارِ کمان و گلو ہے کتنی دیر
نکل چلو کہ یہی وقت ہے رہائی کا
ہوا کی لہر‘ بدن کا لہو ہے کتنی دیر
غبارِ شب مرے چہرے پہ چھایا جاتا ہے
یہ آئینہ بھی ترے روبرو ہے کتنی دیر
صہبا وحید کے نام
عرفان صدیقی

اب کے شاید ہو یہی میرے نمو کی صورت

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 85
خاک سے لہر سی اٹھتی ہے لہو کی صورت
اب کے شاید ہو یہی میرے نمو کی صورت
کس طرح راہ بدل دے گا یہ چھوٹا ہوا تیر
میں اگر دیکھ بھی لوں اپنے عدو کی صورت
اب بھی سنیے تو اک آسیبِ صدا باقی ہے
شہر ویران نہیں وادیِ ہو کی صورت
زندگی، تیری کرامت ہے کہ ہر زخم کے بعد
کوئی حیلہ نکل آتا ہے رفو کی صورت
آج اس لذتِ یکجائی سے ہولیں سیراب
کل پھر ایجاد کریں گے من و تو کی صورت
عرفان صدیقی

لفظ کے در پر جب آئے ہم سادھو چلتے چلتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 523
رک گئے پیر فرید اور وارث باہو چلتے چلتے
لفظ کے در پر جب آئے ہم سادھو چلتے چلتے
یاد تھکن ہے ایک سڑک کی، یاد ہے دکھ کا رستہ
بیٹھ گیا تھا میرے کاندھوں پر تُو چلتے چلتے
تیرا میرا نام بھی شاید لافانی کر جائے
برگد کے مضبوط تنے پر چاقو چلتے چلتے
وار قیامت خیز ہوئے دو دھاری تلواروں کے
رخساروں کو چیر گئے ہیں آنسو چلتے چلتے
ایک محل کے بند کواڑوں سے منصور نکل کر
میرے صحن تلک آئی ہے خوشبو چلتے چلتے
منصور آفاق

مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 339
بلا کا ضبط تھا دریا نے کھو دیا مجھ میں
مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں
شبِ سیاہ کہاں سے رگوں میں آئی ہے
تڑپ رہا ہے کوئی آج تو دیا مجھ میں
عجیب کیف تھا ساقی کی چشم رحمت میں
شراب خانہ ہی سارا سمو دیا مجھ میں
رکھا ہے گنبدِ خضرا کے طاق میں شاید
بلا کی روشنی کرتا ہے جو دیا مجھ میں
ہزار درد کے اگتے رہے شجر منصور
کسی نے بیج جو خواہش کا بو دیا مجھ میں
منصور آفاق

مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 149
میرا اعجاز نہیں رنگ کے جادو کی طرح
مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح
ذکر آیا جو کہیں بزمِ سخن میں میرا
چشمِ جاناں سے نکل آیا میں آنسو کی طرح
اچھے موسم کی دعا مانگی تو موجود تھا میں
خشک آنکھوں میں کہیں رنج کے پہلو کی طرح
دل نہ تھا دامنِ گل پوش میں آخر میں بھی
اڑ گیا پیڑ سے اک روز پکھیرو کی طرح
اس کی دہلیزسے طالب کو دعا بھی نہ ملی
سر پٹختا ہی رہاموجِ لبِ جو کی طرح
میرے سینے سے نکلتی ہیں الوہی کرنیں
جسم میں گونجتی ہے ایک صدا ہو کی طرح
پھر ہرے ہو گئے اس دل میں تری یاد کے زخم
پھر چلی سرد ہوا میگھ کے دارو کی طرح
قتل کرتا ہے تو آداب بجا لاتا ہے
یار ظالم نہیں چنگیز و ہلاکو کی طرح
پھر سنائی دی انا الحق کی صدا پتوں سے
لگ رہی ہے مجھے آوازِ صبا ہو کی طرح
کشمکش ایک حریفانہ سی اُس میں بھی ہے
کشمکش مجھ میں بھی تفریقِ من و تُو کی طرح
شہر میں ہوتا تو پھر پوچھتے عاشق کا مزاج
دشت میں قیس چہکتا پھرے آہو کی طرح
اس کی آسودہ نفاست پہ ہے قربان فرانس
کیسی کمخواب سی نازک سی ہے اردو کی طرح
یہ شہادت کا عمل ہے کہ قلم کے وارث
مر کے بھی مرتے نہیں وارث و باہو کی طرح
وقت، سچائی ،خدا ساتھ تینوں میرے
میں ہوں منصور مشیت کے ترازو کی طرح
منصور آفاق