ٹیگ کے محفوظات: تولے

شجر شاخوں کے پر کھولے ہوئے تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 587
وہ صحرا میں سفر روکے ہوئے تھے
شجر شاخوں کے پر کھولے ہوئے تھے
ہم ایسے تھے سمندر میں بھی موتی
گراں قیمت ہمی قطرے ہوئے تھے
بڑی تقریر کی تھی زندگی نے
خلافِ مرگ کچھ جلسے ہوئے تھے
مجھے کیوں دیکھتے تھے بے رخی سے
گلی میں لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے
ہمیں تحریر تھے موجوں کے اوپر
چٹانوں پر ہمی لکھے ہوئے تھے
اُدھر عزت کسی کی لٹ رہی تھی
اِدھر دستِ دعا اٹھے ہوئے تھے
کہاں آنکھیں اکیلی رو رہی تھیں
وہاں پتھر کئی پگھلے ہوئے تھے
شہیدوں کی قطاریں لگ گئی تھیں
خدا کے نام پر جھگڑے ہوئے تھے
لگا تھا ایک دروازے پہ تالا
مگر اس کے کواڑکھڑے ہوئے تھے
نہ تھا پروازِ جاں کا اذن لیکن
پرندے اپنے پر تولے ہوئے تھے
کوئی پرہول منظر تاک میں تھا
کبوتر کس لئے سہمے ہوئے تھے
اٹھائے پھرتے تھے ہم ساتھ منزل
ازل کی شام کے بھٹکے ہوئے تھے
ہوا کے اونٹ پر منصورمیں تھا
تھلوں کے راستے بھولے ہوئے تھے
منصور آفاق

تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کسی نے نہ دریا کے اسرار کھولے
تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے
زمانے کا ہے کام تقلید کرنا
مرے ساتھ ہولے، ترے ساتھ ہولے
دیا ہے یہ صیاد نے حکم باقیؔ
قفس میں کوئی پر بھی اپنے نہ تولے
باقی صدیقی