ٹیگ کے محفوظات: تن

تیر پر اُس کے مرا جب تن لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
ذات میں اپنی یہ گُل، گلشن لگا
تیر پر اُس کے مرا جب تن لگا
اے نظر چھُپنے سے اُس مہتاب کے
کس قدر سُونا ترا آنگن لگا
پر تو کاٹے ہیں قفس میں جھونک کر
اَب صدا پر بھی مری قدغن لگا
وُہ بھی انساں تھا جواں بیٹی جسے
حِرص کے آنگن میں بکھرا دھن لگا
کیا سراپا تھا وہ جس کو دیکھ کر
جی سے جانا بھی ہمیں احسن لگا
دیکھ لے ماجدؔ کرشمے عجز کے
ابر بھی چڑیوں کو ہے ناگن لگا
ماجد صدیقی

پہچان موسموں کے دئیے پیرہن سے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
نسبت شجر شجر کو اگرچہ چمن سے ہے
پہچان موسموں کے دئیے پیرہن سے ہے
پہلو میں میرے جس کی طراوت ہے موج موج
یہ لب شگفتگی اُسی تازہ بدن سے ہے
ہر آن اشک اشک جھلکتی رہی تھی جو
دبکی ہوئی وہ آگ بھڑکنے کو تن سے ہے
کھٹکا ہی کیا بھنور کا، گُہرجُو ہوئے تو پھر
اب نت کا واسطہ اِسی رنج و محن سے ہے
تیرا رقیب ہو تو کوئی بس اِسی سے ہو
ماجدؔ تجھے جو ربط نگارِ سخن سے ہے
ماجد صدیقی

چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 277
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں ، قیس و کوہکن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں ، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر
ہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!
اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں ، دیکھو ، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“
شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر @، اچھا ، جگر کے پار ہو ، بہتر
غرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائی
وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ ، اے دلِ وابستہ ! بیتابی سے کیا حاصل؟
مگر پھر تابِ زُلفِ پُرشکن کی آزمائش ہے
رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم ، تب دیکھیے کیا ہو!
ابھی تو تلخئ کام و دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر ، وعدہ کیسا ، دیکھنا ، غالب!
نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش@ ہے
@ نسخۂ مہرمیں "رہے گر دل میں تیر” @ اصل نسخوں میں آزمایش ہے لیکن ہم نے موجودہ املا کو ترجیح دے کر آزمائش لکھا ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 187
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ
ہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ
خراج بادشہِ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج؟
کہ بن گیا ہے خمِ جعدِ@ پُرشکن تکیہ
بنا ہے تختۂ گل ہائے یاسمیں بستر
ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
فروغِ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام
جو رختِ خواب ہے پرویں، تو ہے پرن تکیہ
مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
رکھے جو بیچ میں وہ شوخِ سیم تن تکیہ
اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
اٹھا سکا نہ نزاکت سے گلبدن تکیہ
ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب
اگر چہ زانوئے نل پر رکھے دمن تکیہ
بضربِ تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہوا
کہ ضربِ تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ
یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
رکھو نہ شمع پر اے اہلِ انجمن تکیہ
اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
اٹھائے کیوں کہ یہ رنجورِ خستہ تن تکیہ
غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
ہوئی ہے اس کو مری نعشِ بے کفن تکیہ
شبِ فراق میں یہ حال ہے اذیّت کا
کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
روارکھونہ رکھو، تھاجو لفظ تکیہ کلام
اب اس کو کہتے ہیں اہلِ سخن "سخن تکیہ”
ہم اور تم فلکِ پیر جس کو کہتے ہیں
فقیر غالب مسکیں کا ہے کہن تکیہ
@ نسخۂ مہر میں دال پر جزم ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 182
آبرو کیا خاک اُس گُل کی، کہ گلشن میں نہیں
ہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں
ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
رنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیں
ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہِ آفتاب
ذرّے اُس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
کیا کہوں تاریکئِ زندانِ غم اندھیر ہے
پنبہ نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
زخم سِلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
غیر سمجھا ہے کہ لذّت زخمِ سوزن میں نہیں
بس کہ ہیں ہم@ اک بہارِ ناز کے مارے ہوُے
جلوۂ گُل کے سِوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا
خُوں بھی ذوقِ درد سے، فارغ مرے تن میں نہیں
لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری
موجِ مے کی آج رگ، مینا کی گردن میں نہیں
ہو فشارِ ضعف میں کیا نا توانی کی نمود؟
قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
تھی وطن میں شان کیا غالب کہ ہو غربت میں قدر
بے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں
@ نسخۂ مہر اور آسی میں ” ہم ہیں” درج ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہُوا ہے تارِ اشکِ یاس، رشتہ چشمِ سوزن میں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 167
نہیں ہے رخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میں
ہُوا ہے تارِ اشکِ یاس، رشتہ چشمِ سوزن میں
ہُوئی ہے مانعِ ذوقِ تماشا، خانہ ویرانی
کفِ سیلاب باقی ہے برنگِ پنبہ روزن میں
ودیعت خانۂ بے دادِ کاوش ہائے مژگاں ہوں
نگینِ نامِ شاہد ہے مرا ہر قطرہ خوں تن میں
بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی
شبِ مہ ہو جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں
نکو ہش مانعِ بے ربطئ شورِ جنوں آئی
ہُوا ہے خندہ احباب بخیہ جَیب و دامن میں
ہوئے اُس مِہر وَش کے جلوۂ تمثال کے آگے
پَرافشاں جوہرآئینے میں مثلِ ذرّہ روزن میں
نہ جانوں نیک ہُوں یا بد ہُوں، پر صحبت مخالف ہے
جو گُل ہُوں تو ہُوں گلخن میں جو خس ہُوں تو ہُوں گلشن میں
ہزاروں دل دیئے جوشِ جنونِ عشق نے مجھ کو
سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرہ خوں تن میں
اسدؔ زندانئ تاثیرِ الفت ہائے خوباں ہُوں
خمِ دستِ نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
مرزا اسد اللہ خان غالب

رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 156
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
دی سادگی سے جان پڑوں کوہکن کے پاؤں
ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گیے پیر زن کے پاؤں
بھاگے تھے ہم بہت، سو، اسی کی سزا ہے یہ
ہو کر اسیر دابتے ہیں راہ زن کے پاؤں
مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
تن سے سوا فِگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
اللہ رے ذوقِ دشت نوردی کہ بعدِ مرگ
ہلتے ہیں خود بہ خود مرے، اندر کفن کے، پاؤں
ہے جوشِ گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں
شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
دکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں
غالب مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہو
پیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں
مرزا اسد اللہ خان غالب

پئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 60
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوۓ پیرَہن لائ
پئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائ
وقارِ ماتمِ شب زندہ دارِ ہجر رکھنا تھا
سپیدی صبحِ غم کی دوش پر رکھ کر کفن لائ
شہیدِ شیوۂ منصور ہے اندازِ رسوائ
مصیبت پیشگئ مدّعا دار و رسن لائ
وفا دامن کشِ پیرایہ و ہستی ہے اے غالب
کہ پھر نزہت گہِ غربت سے تا حدِّ وطن لائ
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

اس کی سی بو نہ آئی گل و یاسمن کے بیچ

دیوان سوم غزل 1123
کل لے گئے تھے یار ہمیں بھی چمن کے بیچ
اس کی سی بو نہ آئی گل و یاسمن کے بیچ
کشتہ ہوں میں تو شیریں زبانی یار کا
اے کاش وہ زبان ہو میرے دہن کے بیچ
اس بحر میں رہا مجھے چکر بھنور کے طور
سر گشتگی میں عمر گئی سب وطن کے بیچ
گر دل جلا بھنا یہی ہم ساتھ لے گئے
تو آگ لگ اٹھے گی ہمارے کفن کے بیچ
تنگی جامہ ظلم ہے اے باعث حیات
پاتے ہیں لطف جان کا ہم تیرے تن کے بیچ
نازک بہت ہے تو کہیں افسردگی نہ آئے
چسپانی لباس سے پیارے بدن کے بیچ
ہے قہر وہ جو دیکھے نظر بھر کے جن نے میر
برہم کیا جہاں مژہ برہم زدن کے بیچ
میر تقی میر

اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے

دیوان دوم غزل 1039
کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے
اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے
اس گل کو لگے ہے شاخ گل کب
یہ شاخچہ بندی چمن ہے
وابستگی مجھ سے شیشہ جاں کی
اس سنگ سے ہے کہ دل شکن ہے
کیا سہل گذرتی ہے جنوں سے
تحفہ ہم لوگوں کا چلن ہے
لطف اس کے بدن کا کچھ نہ پوچھو
کیا جانیے جان ہے کہ تن ہے
وے بند قبا کھلے تھے شاید
صد چاک گلوں کا پیرہن ہے
گہ دیر میں ہیں گہے حرم میں
اپنا تو یہی دوانہ پن ہے
ہم کشتۂ عشق ہیں ہمارا
میدان کی خاک ہی کفن ہے
کر میر کے حال پر ترحم
وہ شہر غریب و بے وطن ہے
میر تقی میر

دفتر لکھے گئے نہ ہوا پر سخن تمام

دیوان دوم غزل 859
مشتاق ان لبوں کے ہیں سب مرد و زن تمام
دفتر لکھے گئے نہ ہوا پر سخن تمام
اب چھیڑیے جہاں وہیں گویا ہے درد سب
پھوڑا سا ہو گیا ہے ترے غم میں تن تمام
آیا تھا گرم صید وہ جیدھر سے دشت میں
دیکھا ادھر ہی گرتے ہیں اب تک ہرن تمام
آوارہ گردباد سے تھے ہم پہ شہر میں
کیا خاک میں ملا ہے یہ دیوانہ پن تمام
کیا لطف تن چھپا ہے مرے تنگ پوش کا
اگلا پڑے ہے جامے سے اس کا بدن تمام
اس کار دست بستہ پہ ریجھا نہ مدعی
کیونکر نہ کام اپنا کرے کوہکن تمام
اک گل زمیں نہ وقفے کے قابل نظر پڑی
دیکھا برنگ آب رواں یہ چمن تمام
نکلے ہیں گل کے رنگ گلستاں میں خاک سے
یہ وے ہیں اس کے عشق کے خونیں کفن تمام
تہ صاحبوں کی آئی نکل میکدے گئے
گروی تھے اہل صومعہ کے پیرہن تمام
میں خاک میں ملا نہ کروں کس طرح سفر
مجھ سے غبار رکھتے ہیں اہل وطن تمام
کچھ ہند ہی میں میر نہیں لوگ جیب چاک
ہے میرے ریختوں کا دوانہ دکن تمام
میر تقی میر

دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا

دیوان اول غزل 118
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا
دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا
برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میں
بھیجا تھا اس کے پاس سو میرے وطن گیا
خاطر نشاں اے صید فگن ہو گی کب تری
تیروں کے مارے میرا کلیجہ تو چھن گیا
یادش بخیر دشت میں مانند عنکبوت
دامن کے اپنے تار جو خاروں پہ تن گیا
مارا تھا کس لباس میں عریانی نے مجھے
جس سے تہ زمین بھی میں بے کفن گیا
آئی اگر بہار تو اب ہم کو کیا صبا
ہم سے تو آشیاں بھی گیا اور چمن گیا
سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میر
یہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا
میر تقی میر

مشبک کر گیا ہے تن ہمارا

دیوان اول غزل 68
ادھر آکر شکار افگن ہمارا
مشبک کر گیا ہے تن ہمارا
گریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہے
ہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا
گئے جوں شمع اس مجلس میں جتنے
سبھوں پر حال ہے روشن ہمارا
بلا جس چشم کو کہتے ہیں مردم
وہ ہے عین بلا مسکن ہمارا
ہوا رونے سے راز دوستی فاش
ہمارا گریہ تھا دشمن ہمارا
بہت چاہا تھا ابر تر نے لیکن
نہ منت کش ہوا گلشن ہمارا
چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں
سنا ہو گا کبھو شیون ہمارا
کیا تھا ریختہ پردہ سخن کا
سو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا
نہ بہکے میکدے میں میر کیونکر
گرو سو جا ہے پیراہن ہمارا
میر تقی میر

کہ جیسے پیرہن سرکے، کسی کے سانولے تن سے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 50
نظر یوں شام آئی، ڈوبتی کرنوں کی چلمن سے
کہ جیسے پیرہن سرکے، کسی کے سانولے تن سے
میں اپنی پستیوں میں رہ ہی لیتا مطمئن ہو کر
مگر یہ آسماں ہٹتا نہیں ہے میرے روزن سے
توقع اُس سے رکھیں معتدل ہی دوست داری کی
وہ جس نے ٹوٹ کر نفرت نہ کی ہو اپنے دشمن سے
مکاں کی تنگیوں میں وسعتوں کی روشنی آئے
ہٹاؤ بھی ذرا یہ پردۂ دیوار، آنگن سے
سفر کا تجربہ، اتلاف مال جاں کے بدلے میں
بطورِ رختِ فردا، ہم بچا لائے ہیں رہزن سے
سفر در پیش ہے شاید خزاں کی خیمہ بستی کا
ہوا ہجرت کی باتیں کر رہی ہے اہل گلشن سے
یہی بےمعنویت، غالباً حاصل ہے جذبوں کا
ہمیشہ راکھ سی اڑتی رہے شعلے کے دامن سے
خلل شاید کبھی ربِ نمُو کی نیند میں آئے
گرائے جا شرر بیداریوں کے چشمِ روشن سے
آفتاب اقبال شمیم

لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
قندِ دہن، کچھ اس سے زیادہ
لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ
فصلِ خزاں میں لطفِ بہاراں
برگِ سمن کچھ اس سے زیادہ
حالِ چمن پر تلخ نوائی
مرغِ چمن، کچھ اس سے زیادہ
دل شکنی بھی، دلداری بھی
یادِ وطن، کچھ اس سے زیادہ
شمعِ بدن فانوسِ قبا میں
خوبیِ تن، کچھ اس سے زیادہ
عشق میں کیا ہے غم کے علاوہ
خواجۂ من، کچھ اس سے زیادہ
نذرِ حافظ ۔۔۔ ناصحم گفت بجز غم چہ ہنر دارد عشق ۔۔۔ بر وائے خواجۂ عاقلِ ہنرِ بہتر ازیں
بیروت
فیض احمد فیض

سزا، خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 4
ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن، نہ تھی تری انجمن سے پہلے
سزا، خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے
جو چل سکو تو چلو کہ راہِ وفا بہت مختصر ہوئی ہے
مقام ہے اب کوئی نہ منزل، فرازِ دار و رسن سے پہلے
نہیں رہی اب جنوں کی زنجیر پر وہ پہلی اجارہ داری
گرفت کرتے ہیں کرنے والے خرد پہ دیوانہ پن سے پہلے
کرے کوئی تیغ کا نظارہ، اب اُن کو یہ بھی نہیں گوارا
بضد ہے قاتل کہ جانِ بسمل فگار ہو جسم و تن سے پہلے
غرورِ سرو و سمن سے کہہ دو کہ پھر وہی تاجدار ہوں گے
جو خار و خس والیء چمن تھے عروجِ سرو و سمن سے پہلے
ادھر تقاضے ہیں مصلحت کے، ادھر تقاضائے دردِ دل ہے
زباں سنبھالیں کہ دل سنبھالیں ، اسیر ذکر وطن سے پہلے
حیدرآباد جیل ١٧، ٢٢ مئی ٥٤ء
فیض احمد فیض

ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 14
جب اک چراغِ راہگزر کی کرن پڑے
ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے
شاخِ ابد سے جھڑتے زمانوں کا روپ ہیں
یہ لوگ جن کے رخ پہ گمانِ چمن پڑے
تنہا گلی، ترے مرے قدموں کی چاپ، رات
ہرسو وہ خامشی کہ نہ تابِ سخن پڑے
یہ کس حسیں دیار کی ٹھنڈی ہوا چلی
ہر موجۂ خیال پہ صدہا شکن پڑے
جب دل کی سل پہ بج اٹھے نیندوں کا آبشار
نادیدہ پائلوں کی جھنک جھن جھنن پڑے
یہ چاندنی، یہ بھولی ہوئی چاہتوں کا دیس
گزروں تو رخ پہ رشحۂ عطرِ سمن پڑے
یہ کون ہے لبوں میں رسیلی رُتیں گھلیں
پلکوں کی اوٹ نیند میں گلگوں گگن پڑے
اک پل بھی کوئے دل میں نہ ٹھہرا وہ رہ نورد
اب جس کے نقشِ پا ہیں چمن در چمن پڑے
اِک جست اس طرف بھی غزالِ زمانہ رقص
رہ تیری دیکھتے ہیں خطا و ختن پڑے
جب انجمن تموّجِ صد گفتگو میں ہو
میری طرف بھی اک نگہِ کم سخن پڑے
صحرائے زندگی میں جدھر بھی قدم اٹھیں
رستے میں ایک آرزوؤں کا چمن پڑے
اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑ
میں اپنی زندگی انہیں دے دوں جو بن پڑے
اے شاطرِ ازل ترے ہاتھوں کو چوم لوں
قرعے میں میرے نام جو دیوانہ پن پڑے
اے صبحِ دیرخیز انہیں آواز دے جو ہیں
اک شامِ زودخواب کے سکھ میں مگن پڑے
اک تم کہ مرگِ دل کے مسائل میں جی گئے
اک ہم کہ ہیں بہ کشمکشِ جان و تن پڑے
امجد طریقِ مے میں ہے یہ احتیاط شرط
اک داغ بھی کہیں نہ سرِ پیرہن پڑے
مجید امجد

باطن کی چمک سانولے پن میں بھی وہی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 347
احوال ترا شامِ بدن میں بھی وہی ہے
باطن کی چمک سانولے پن میں بھی وہی ہے
وحشت کے لیے شہر مناسب نہیں ورنہ
آہو تو مری جان ختن میں بھی وہی ہے
آباد نہیں اس سے فقط وصل کی بستی
وہ پھول ہے اور ہجر کے بن میں بھی وہی ہے
اک موج سے شاداب ہیں یہ دونوں کنارے
جو ہے مرے من میں ترے تن میں بھی وہی ہے
یہ راز کھلا روزنِ زنداں کی بدولت
سورج میں ہے جو بات کرن میں بھی وہی ہے
مٹّی ہی میں ملنا ہے تو اس شہر سے کیوں جائیں
مٹّی تو میاں ارضِ وطن میں بھی وہی ہے
تنہا ہوں سو اے میرے حریفو مری پہچان
رن میں بھی وہی بزمِ سخن میں بھی وہی ہے
عرفان صدیقی

جب اک ہوا ترے تن کی طرف سے آتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 337
لپٹ سی داغِ کہن کی طرف سے آتی ہے
جب اک ہوا ترے تن کی طرف سے آتی ہے
میں تیری منزل جاں تک پہنچ تو سکتا ہوں
مگر یہ راہ بدن کی طرف سے آتی ہے
یہ مشک ہے کہ محبت مجھے نہیں معلوم
مہک سی میرے ہرن کی طرف سے آتی ہے
پہاڑ چپ ہیں تو اب ریگ زار بولتے ہیں
ندائے کوہ ختن کی طرف سے آتی ہے
کسی کے وعدۂ فردا کے برگ و بار کی خیر
یہ آگ ہجر کے بن کی طرف سے آتی ہے
جگوں کے کھوئے ہوؤں کو پکارتا ہے یہ کون
صدا تو خاکِ وطن کی طرف سے آتی ہے
عرفان صدیقی

میں سر سے پا تک شمع جاں کس نے کیا روشن مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 291
کن قتل گاہوں سے ملا گل رنگ پیراہن مجھے
میں سر سے پا تک شمع جاں کس نے کیا روشن مجھے
اس خاک تن کو چاک پر کس نے نیا پیکر دیا
ان گردشوں کی آگ میں کس نے کیا کندن مجھے
کس نے کیا مسند نشیں اس بوریائے عشق پر
کس نے دیا احساس کا یہ راج سنگھاسن مجھے
میرے تصور سے سوا ان کی عطا، اُن کی سخا
اتنے خزانے مل گئے چھوٹا لگا دامن مجھے
وہ سرور و رہبر بھی ہیں، وہ یاور و دلبر بھی ہیں
میں کیوں نہ اُن پر وار دوں حاصل ہیں جان و تن مجھے
عرفان صدیقی

کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 44
اس نے کیا دیکھا کہ ہر صحرا چمن لگنے لگا
کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا
جنگلوں سے کون سا جھونکا لگا لایا اسے
دل کہ جگنو تھا چراغِ انجمن لگنے لگا
اس کے لکھے لفظ پھولوں کی طرح کھلتے رہے
روز ان آنکھوں میں بازارِ سمن لگنے لگا
اوّل اوّل اس سے کچھ حرف و نوا کرتے تھے ہم
رفتہ رفتہ رائیگاں کارِ سخن لگنے لگا
جب قریب آیا تو ہم خود سے جدا ہونے لگے
وہ حجابِ درمیانِ جان و تن لگنے لگا
ہم کہاں کے یوسفِ ثانی تھے لیکن اس کا ہاتھ
ایک شب ہم کو بلائے پیرہن لگنے لگا
تیرے وحشی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے
رم کیا اتنا کہ آہوئے ختن لگنے لگا
ہم بڑے اہلِ خرد بنتے تھے یہ کیا ہو گیا
عقل کا ہر مشورہ دیوانہ پن لگنے لگا
کر گیا روشن ہمیں پھر سے کوئی بدرِ منیر
ہم تو سمجھے تھے کہ سورج کو گہن لگنے لگا
عرفان صدیقی

آنکھ کا تالاب بد روحوں کا مسکن ہو گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 128
آخرش ہجراں کے مہتابوں کا مد فن ہو گیا
آنکھ کا تالاب بد روحوں کا مسکن ہو گیا
دھوپ در آئی اچانک رات کو برسات میں
اس کا چہرہ آنسوئوں میں عکس افگن ہو گیا
دل چرا کر جا رہا تھا میں دبے پاؤں مگر
چاند نکلا اور سارا شہر روشن ہو گیا
رو پڑا تھا جا کے داتا گنج کے دربار پر
یوں ہوا پھر راہ میں سانول کا درشن ہو گیا
بجلیاں ہیں بادلوں کے بین ہیں کمرے کے بیچ
اور کیلنڈر کہے ہے، ختم ساون ہو گیا
کیوں سلگتی ریت نے سہلا دیے تلووں کے پھول
یہ اذیت کیش دل صحرا کا دشمن ہو گیا
جھلملا اٹھتا تھا برتن مانجھنے پر جھاگ سے
اس کلائی سے جو روٹھا زرد کنگن ہو گیا
تیری میری زندگی کی خوبصورت ساعتیں
تیرا بچپن ہو گیا یا میرا بچپن ہو گیا
ایک جلوے کی قیامت میں نے دیکھی طور پر
دھوپ تھی ایسی کہ سورج سوختہ تن ہو گیا
بے خدا ہوں سوچتا ہوں شکر کس کا ہو ادا
میں نے جو چاہا وہی منصور فوراً ہو گیا
منصور آفاق

نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 33
ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم اُنکی نہیں جاتی
نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں
بڑے ہی قدر داں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کے
کہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں
وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
اُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں
امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
امیر مینائی