ٹیگ کے محفوظات: تمہید

ڈھانپ سکتے ہو بھلا گرد میں خورشید کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
لب پہ آ جائے تو حق بات کی تردید کہاں
ڈھانپ سکتے ہو بھلا گرد میں خورشید کہاں
ڈوبنے والوں نے جو ہاتھ، ہلائے سرِ آب
ظلم کے حق میں ٹھہرتی ہے وُہ تائید کہاں
شہر میں عام ہے جو خون خرابے کی فضا
دیکھیئے لے کے ہمیں جائے یہ تمہید کہاں
وُہ جو قزّاق ہے کیا رحم کی خواہش اُس سے
راہ پر لائے گی اُس کو کوئی تاکید کہاں
ہاتھ بچّے کے ہو جیسے کوئی ناؤ ماجدؔ
نام ایسی بھی ہمارے ہے کوئی عید کہاں
ماجد صدیقی

گلے سے ہمارے لگو عید ہے

دیوان پنجم غزل 1758
گئے روزے اب دید وادید ہے
گلے سے ہمارے لگو عید ہے
گریزاں ہوں سائے سے خورشید ساں
جہاں جب سے ہے مجھ کو تجرید ہے
تصرف میں جب ڈال دیتے ہیں بات
خدا رس کہیں ہیں یہ توحید ہے
جو آویں بتاں جذب سے یاں تو یہ
خدا کی طرف ہی کی تائید ہے
لپیٹا ہے میں بوریاے نماز
یہی میر جانے کی تمہید ہے
میر تقی میر

نکل آئی ہیں ہرگل سے کئی امید کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 353
پڑی ہیں ہر طرف وابستگانِ دید کی آنکھیں
نکل آئی ہیں ہرگل سے کئی امید کی آنکھیں
مکمل ہو چکا ہے آخری پیراگراف اپنا
ابھر آئی ہیں کاغذ پر نئی تمہید کی آنکھیں
خدا جانے تجھے کیسی بڑی مجبوری لاحق تھی
مسلسل کھاتی تھیں چغلی تری تردید کی آنکھیں
ستاروں سے صدائیں آتی تھی سبحان اللہ کی
لپکتی تھیں عجب اُس غیرتِ ناہید کی آنکھیں
پلٹ آتی ہیں باغوں کی بہاریں تو مگرمنصور
بھری رہتی ہیں اشکوں سے ہر آتی عید کی آنکھیں
منصور آفاق