ٹیگ کے محفوظات: تمہارے

پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
رنجش میں پسِ چشم اشارے، مری توبہ
پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ
کس درجہ سبکسار کیا، جذبِ جنوں کو
محفل سے وُہ رخصت کیا اِشارے، مری توبہ
اظہارِ تمّنا ہی کیا تھا مگر اُس پر
انداز عتابی وہ تمہارے، مری توبہ
سُرخی سی لب و چشم میں وہ طیش و حیا کی
بپھرے ہوئے دریا کے کنارے، مری توبہ
اک شور سا رَگ رَگ میں، تمازت دل و جاں میں
آثار قیامت کے وُہ سارے، مری توبہ
جو پیکرِ اُمید تھا دل میں وُہی شق تھا
تھیں شوخ نگاہیں کہ وُہ آرے، مری توبہ
ماجدؔ سرِ اغیار جو گزری وُہی لکھے
کیا رُوپ قلم نے ترے دھارے، مری توبہ
ماجد صدیقی

جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر

احمد فراز ۔ غزل نمبر 36
وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں‌ستارے لے کر
جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر
چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے
پیڑ گرتا ہے تو آ جاتے ہیں آرے لے کر
وہ جو آسودۂ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر
ایسا لگتا ہے کہ ہر موسم ہجراں میں بہار
ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمہارے لے کر
شہر والوں کو کہاں یاد ہے وہ خواب فروش
پھرتا رہتا تھا جو گلیوں میں غبارے لے کر
نقدِ جاں صرف ہوا کلفتِ ہستی میں‌ فراز
اب جو زندہ ہیں‌تو کچھ سانس ادھارے لے کر
احمد فراز

یعنی وہ سب جو ترا ہجر گزارے ہوئے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 43
بام پر جمع ہوا، ابر ، ستارے ہوئے ہیں
یعنی وہ سب جو ترا ہجر گزارے ہوئے ہیں
زندگی، ہم سے ہی روشن ہے یہ آئینہ ترا
ہم جو مشاطہءِ وحشت کے سنوارے ہوئے ہیں
حوصلہ دینے جو آتے ہیں، بتائیں انھیں کیا؟
ہم تو ہمت ہی نہیں، خواب بھی ہارے ہوئے ہیں
شوقِ واماندہ کو درکار تھی کوئی تو پناہ
سو تمہیں خلق کیا، اور تمہارے ہوئے ہیں
خود شناسی کے، محبت کے، کمالِ فن کے
سارے امکان اُسی رنج پہ وارے ہوئے ہیں
روزنِ چشم تک آپہنچا ہے اب شعلہ ءِ دل
اشک پلکوں سے چھلکتے ہی شرارے ہوئے ہیں
ڈر کے رہ جاتے ہیں کوتاہیءِ اظہار سے چُپ
ہم جو یک رنگی ءِ احساس کے مارے ہوئے ہیں
ہم کہاں ہیں، سرِ دیوارِ عدم، نقشِ وجود
اُن نگاہوں کی توجہ نے اُبھارے ہوئے ہیں
بڑھ کے آغوش میں بھر لے ہمیں اے رُوحِ وصال
آج ہم پیرہنِ خاک اُتارے ہوئے ہیں
عرفان ستار

ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے
رنگ و خوشبو کے، حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
جب وہ لعل و گہر حساب کیے
جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے
میرے دامن میں آگرے سارے
جتنے طشت فلک میں تارے تھے
عمر جاوید کی دعا کرتے
فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے
فیض احمد فیض

شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 274
شمعِ تنہا کی طرح، صبح کے تارے جیسے
شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے
چھو گیا تھا کبھی اس جسم کو اک شعلۂ درد
آج تک خاک سے اڑتے ہیں شرارے جیسے
حوصلے دیتا ہے یہ ابرِ گریزاں کیا کیا
زندہ ہوں دشت میں ہم اس کے سہارے جیسے
سخت جاں ہم سا کوئی تم نے نہ دیکھا ہو گا
ہم نے قاتل کئی دیکھے ہیں تمہارے جیسے
دیدنی ہے مجھے سینے سے لگانا اس کا
اپنے شانوں سے کوئی بوجھ اتارے جیسے
اب جو چمکا ہے یہ خنجر تو خیال آتا ہے
تجھ کو دیکھا ہو کبھی نہر کنارے جیسے
اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انساں
دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے
عرفان صدیقی

آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 32
ہم میں رہتا ہے کوئی شخص ہمارے جیسا
آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا
بجھ بجھا جاتا ہے یہ بجھتی ہوئی رات کے ساتھ
دل ہمارا بھی ہے قسمت کے ستارے جیسا
شام کا وقت فقط بھاری نہیں ہے ہم پر
پھول کا چہرہ بھی ہے درد کے مارے جیسا
لے گئی ساتھ اڑا کر جسے ساحل کی ہوا
ایک دن تھا کسی بچے کے غبارے جیسا
قوس در قوس کوئی گھوم رہا ہے کیا ہے
رقص کرتی کسی لڑکی کے غرارے جیسا
شکر ہے ہم نے کما لی تھی اداسی ورنہ
ہے محبت میں منافع تو خسارے جیسا
کشتیاں بیچ میں چلتی ہی نہیں ہیں منصور
اک تعلق ہے کنارے سے کنارے جیسا
منصور آفاق