ٹیگ کے محفوظات: تمھارے

نام خدا ہوا ہے اب وہ جوان بارے

دیوان پنجم غزل 1760
اٹھکھیلیوں سے چلتے طفلی میں جان مارے
نام خدا ہوا ہے اب وہ جوان بارے
اپنی نیاز تم سے اب تک بتاں وہی ہے
تم ہو خداے باطل ہم بندے ہیں تمھارے
ٹھہرے ہیں ہم تو مجرم ٹک پیار کرکے تم کو
تم سے بھی کوئی پوچھے تم کیوں ہوئے پیارے
کل میں جو سیر میں تھا کیا پھول پھول بیٹھی
بلبل لیے ہے گویا گلزار سب اجارے
کرتا ہے ابر نیساں پر در دہن صدف کا
منھ جو کوئی پسارے ایسے کنے پسارے
اے کاش غور سے وہ دیکھے کبھو ٹک آکر
سینے کے زخم اب تو غائر ہوئے ہیں سارے
چپکا چلا گیا میں آزردہ دل چمن سے
کس کو دماغ اتنا بلبل کو جو پکارے
میدان عشق میں سے چڑھ گھوڑے کون نکلا
مارے گئے سپاہی جتنے ہوئے اتارے
جو مر رہے ہیں اس پر ان کا نہیں ٹھکانا
کیا جانیے کہاں وے پھرتے ہیں مارے مارے
کیا برچھیاں چلائیں آہوں نے نیم شب کی
رخنے ہیں آسماں میں سارے نہیں ستارے
ہوتی ہے صبح جو یاں ہے شام سے بھی بدتر
کیا کہیے میر خوبی ایام کی ہمارے
میر تقی میر

تو یہی آج کل سدھارے ہم

دیوان سوم غزل 1168
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
تو یہی آج کل سدھارے ہم
مرتے رہتے تھے اس پہ یوں پر اب
جا لگے گور کے کنارے ہم
دن گذرتا ہے دم شماری میں
شب کو رہتے ہیں گنتے تارے ہم
ہے مروت سے اپنی وحشت دور
انس رکھتے ہیں تم سے پیارے ہم
زندگی بار دوش آج ہے یاں
دیکھیں گے کل جو ہوں گے بارے ہم
جا چکی بازی یعنی مرتے ہیں
جیتے تم یہ قمار ہارے ہم
میر آئوگے آپ میں بھی کبھو
سخت مشتاق ہیں تمھارے ہم
میر تقی میر

حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے

دیوان دوم غزل 967
اک شور ہورہا ہے خوں ریزی میں ہمارے
حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے
زخم اس کے ہاتھ کے جو سینے پہ ہیں نمایاں
چھاتی لگے رہیں گے زیر زمیں بھی سارے
ہیں بدمزاج خوباں پر کس قدر ہیں دلکش
پائے کہاں گلوں نے یہ مکھڑے پیارے پیارے
بیٹھیں ہیں رونے کو تو دریا ہی رو اٹھیں ہیں
جوش و خروش یہ تھے تب ہم لگے کنارے
لاتے نہیں ہو مطلق سر تم فرو خدا سے
یہ ناز خوبرویاں بندے ہیں ہم تمھارے
کوئی تو ماہ پارہ اس بھی رواق میں ہے
چشمک زنی میں شب کو یوں ہی نہیں ہیں تارے
لگ کر گلے نہ سوئے اس منھ پہ منھ نہ رکھا
جی سے گئے ہم آخر ان حسرتوں کے مارے
بیتابی ہے دنوں کو بے خوابی ہے شبوں کو
آرام و صبر دونوں مدت ہوئی سدھارے
آفاق میں جو ہوتے اہل کرم تو سنتے
ہم برسوں رعد آسا بیتاب ہو پکارے
جل بجھیے اب تو بہتر مانند برق خاطف
جوں ابر کس کے آگے دامن کوئی پسارے
ہم نے تو عاشقی میں کھویا ہے جان کو بھی
صدقے ہیں میر جی کے وے ڈھونڈتے ہیں وارے
میر تقی میر

موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے

دیوان اول غزل 479
زندگی ہوتی ہے اپنی غم کے مارے دیکھیے
موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے
لخت دل کب تک الٰہی چشم سے ٹپکا کریں
خاک میں تا چند ایسے لعل پارے دیکھیے
ہو چکا روز جزا اب اے شہیدان وفا
چونکتے ہیں خون خفتہ کب تمھارے دیکھیے
راہ دور عشق میں اب تو رکھا ہم نے قدم
رفتہ رفتہ پیش کیا آتا ہے بارے دیکھیے
سینۂ مجروح بھی قابل ہوا ہے سیر کے
ایک دن تو آن کر یہ زخم سارے دیکھیے
خنجر بیداد کو کیا دیکھتے ہو دمبدم
چشم سے انصاف کی سینے ہمارے دیکھیے
ایک خوں ہو بہ گیا دو روتے ہی روتے گئے
دیدہ و دل ہو گئے ہیں سب کنارے دیکھیے
شست و شو کا اس کی پانی جمع ہوکر مہ بنا
اور منھ دھونے کے چھینٹوں سے ستارے دیکھیے
رہ گئے سوتے کے سوتے کارواں جاتا رہا
ہم تو میر اس رہ کے خوابیدہ ہیں ہارے دیکھیے
میر تقی میر