ٹیگ کے محفوظات: تمکیں

نہ شوقِ شعرِ تر و بذلہ ہائے رنگیں کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 14
نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کا
نہ شوقِ شعرِ تر و بذلہ ہائے رنگیں کا
شمیمِ زلف یہی ہے تو وحشتِ دل نے
کب انتظار کیا موسمِ ریاحیں کا
بناتِ نعش نے کس واسطے بٹھا رکھیں
نہیں ستارہ گہر خاندانِ پرویں کا
ازل کو دیکھتے ہی ہم سخن کو سمجھے تھے
کہ مشتری نہیں اس گوہرِ نو آئیں کا
نما نما ہے نہایت خلافِ شیوۂ عشق
غلط ہے شوق ہمیں گریہ ہائے رنگیں کا
وہ طرفہ حال کہ جس سے جماد رقص کرے
نہ رنگ بھی متغیر ہو اہلِ تمکیں کا
ہزار مرتبہ فرہاد جانِ شیریں دے
وہی ہے حقِ نمک عشوہ ہائے شیریں کا
عجیب حال میں ہے شیفتہ معاف کرو
جو کچھ قصور بھی ہو اس غلامِ دیریں کا
مصطفٰی خان شیفتہ

خطِ پیالہ ، سراسر نگاہِ گلچیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 265
کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ
خطِ پیالہ ، سراسر نگاہِ گلچیں ہے
کبھی تو اِس سرِ شوریدہ کی بھی داد ملے!
کہ ایک عُمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے
بجا ہے ، گر نہ سُنے ، نالہ ہائے بُلبلِ زار
کہ گوشِ گُل ، نمِ شبنم سے پنبہ آگیں ہے
اسدؔ ہے نزع میں ، چل بیوفا ! برائے خُدا!
مقامِ ترکِ حجاب و وداعِ تمکیں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ افشاں کیجے خون اپنے سے اس کے دامن زیں کو

دیوان دوم غزل 931
ملا یا رب کہیں اس صید افگن سربسر کیں کو
کہ افشاں کیجے خون اپنے سے اس کے دامن زیں کو
گئے وے سابقے سارے خصوصیت رہے پیارے
کبھو در تک تو آ بارے ہمارے دل کی تسکیں کو
پیے جاتے نہیں بس اب لہو کے گھونٹ یہ مجھ سے
بہت پی پی گیا ڈر سے ترے میں اشک خونیں کو
نہ لکھیں یار کو محضر ہمارے خون ناحق کا
دکھا دیویں گے ہم محشر میں اس کے دست رنگیں کو
بجز حیرت نہ بن آوے گی کوئی شکل پھر اس سے
دکھایا ہم نے گر چہرہ ترا صورت گرچیں کو
ابھر کر سنگ کے تختے سے پھر دیکھا کیا اودھر
محبت ہو گئی تھی کوہکن سے نقش شیریں کو
ہم اس کے چاند سے منھ کے ہیں عاشق مہ سے کیا ہم کو
سر اپنا کبک ہی مارا کرے اس خشت سیمیں کو
ہوئے کیا کیا مقدس لوگ آوارہ ترے غم میں
سبک پا کر دکھایا شوخ تونے اہل تمکیں کو
بہت مدت ہوئی صحرا سے مجنوں کی خبر آئے
نہیں معلوم پیش آیا ہے کیا اس یار دیریں کو
لیے تسبیح ہاتھوں میں جو تو باتیں بناتا ہے
نہیں دیکھا ہے واعظ تونے اس غارت گر دیں کو
گیا کوچے سے تیرے اٹھ کے میر آشفتہ سر شاید
پڑا دیکھا تھا میں نے رہ میں اس کے سنگ بالیں کو
میر تقی میر