ٹیگ کے محفوظات: تمثیل

پہاڑوں کا بھی اب جغرافیہ تبدیل ہونا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 602
فروغِ کُن کو صوتِ صورِ اسرافیل ہونا ہے
پہاڑوں کا بھی اب جغرافیہ تبدیل ہونا ہے
زمیں پر خیر و شر کے آخری ٹکراؤ تک مجھ کو
کبھی ہابیل ہونا ہے کبھی قابیل ہونا ہے
کہاں معلوم ہوتا ہے تماشا ہونے سے پہلے
کسے پردے میں رہنا ہے کسے تمثیل ہونا ہے
ابھی تعلیم لینی ہے محبت کی، ابھی میں نے
بدن کے مدرسے سے فارغ التحصیل ہونا ہے
دماغِ کوزہ گر میں ہیں ابھی تک خال وخد میرے
ابھی تک ایسا لگتاہے مجھے تشکیل ہونا ہے
کوئی ہے نوری سالوں کی طوالت پر کہیں منصور
مجھے رفتار سر کرتی ہوئی قندیل ہونا ہے
منصور آفاق

چاند کا دل جل رہا تھا دور لاکھوں میل پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 165
چاندنی پھیلی ہوئی تھی ریت کی شہنیل پر
چاند کا دل جل رہا تھا دور لاکھوں میل پر
ایک اچھے دوست کے ہمراہ گزری تھی کبھی
فروری کی ایک اجلی پیر ’’چشمہ جھیل‘‘ پر
لمبی کر کے اپنی گردن گھولتی تھی زرد چونچ
کونج تھی مامور شاید درد کی ترسیل پر
اور پھر تصویر پر تاریک سائے رہ گئے
روشنی سی پڑ گئی تھی کیمرے کی ریل پر
مانگتی ہے زندگی پھر روشنی الہام کی
اور ابد کی خامشی ہے قریہء جبریل پر
آئینے سے پھوٹتی ہیں نور کی پرچھائیاں
کیا کہوں منصور اپنے عکس کی تمثیل پر
منصور آفاق