ٹیگ کے محفوظات: تمازتیں

وُہ مہرباں تھا تو کیں ہم نے وحشتیں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
دمِ وصال پھلانگی گئیں حدیں کیا کیا
وُہ مہرباں تھا تو کیں ہم نے وحشتیں کیا کیا
ہر اِک کے نفس تھا کوئی موجۂ صبا جیسے
لبوں کے بیچ در آئی تھیں کونپلیں کیا کیا
رُوئیں رُوئیں کو زباں بحش دی تھی اُس نے مگر
وضاحتوں میں تھیں پھر بھی قباحتیں کیا کیا
لہُو میں آگ، شرارے نظر میں تھے اپنی
مچل اُٹھی تھیں بدن میں تمازتیں کیا کیا
یہ تن کہ جیسے چٹخنے کو جامِ مے ہو کوئی
لب و نگاہ میں رقصاں تھیں خواہشیں کیا کیا
ہُوا مباح ہمیں جو بھی کچھ کہ تھا ممنوع
ملیں بہ جنبشِ اَبُرد دُہ مہُلتیں کیا کیا
دل و نظر میں ابھی تک ہیں خنکیاں ماجدؔ
نجانے قرب میں تھیں اُس کے لذّتیں کیا کیا
ماجد صدیقی

یہ ہم سے پوچھئے کیا ہیں محبتیں کرنی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
حصارِ ہجر سے پیہم بغاوتیں کرنی
یہ ہم سے پوچھئے کیا ہیں محبتیں کرنی
سبھی حجاب ترے سامنے سمٹنے لگے
تجھی نے ہم کو سکھائیں یہ وحشتیں کرنی
ترے ہی حسنِ سلامت سے آ گئی ہیں ہمیں
بہ حرف و صوت یہ پل پل شرارتیں کرنی
جگرِ میں سینت کے سَب تلخیاں، بنامِ وفا
نثار تُجھ پہ لُہو کی تمازتیں کرنی
یہی وہ لطف ہے کہتے ہیں قربِ یار جسے
دل و نگاہ سے طے سب مسافتیں کرنی
یہی کمال، ہُنر ہے یہی مرا ماجدؔ
سپرد حرف، کِسی کی امانتیں کرنی
ماجد صدیقی