ٹیگ کے محفوظات: تلخی

سوچتا ہوں کیا کروں کیسے کہوں سوری اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 548
لے گئی ہے دور اتنا، ایک ہی غلطی اسے
سوچتا ہوں کیا کروں کیسے کہوں سوری اسے
رفتہ رفتہ نیم عریاں ہو گئی کمرے میں رات
لگ رہی تھی آگ کی تصویر سے گرمی اسے
ایک بستر میں اکیلی کروٹیں اچھی نہیں
بھول جانی چاہیے اب شام کی تلخی اسے
لوگ کتنے جگمگاتے پھر رہے ہیں آس پاس
ہے یہی بہتر بھلا دو تم ذرا جلدی اسے
اُتنا ہی مشکل ہے یہ کارِ محبت جانِ من
تم سمجھتے پھر رہے ہو جس قدر ایزی اسے
منصور آفاق

ہر مرد گفتگو میں تلخی پہن کے نکلا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 43
کیسا یہ ’’ گے ادب ‘‘ کا اِفتی مباحثہ تھا
ہر مرد گفتگو میں تلخی پہن کے نکلا
لندن کے اک کلب سے بلی کی کج روی پر
ساقی کے ساتھ میں بھی وسکی پہن کے نکلا
تم جس کو دیکھتے ہو کھلتے ہوئے ، وہ چہرہ
افلاک سے نمو کی مٹی پہن کے نکلا
کہتے ہیں چشم و لب کی بارش میں وسوسے ہیں
منصور دوپہر میں چھتری پہن کے نکلا
منصور آفاق