ٹیگ کے محفوظات: تقدیر

دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں

مجھ سے غفلت ہو گئی شاید کہیں تدبیر میں
دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں
رشک سے آنکھوں نے بھی حلقے بنائے اپنے گرد
جب سے دل رہنے لگا ہے خانۂ زنجیر میں
کس قدر باتیں ہوا پر خرچ ہوتی ہیں مگر
بات رہتی ہے وہی آ جائے جو تحریر میں
جانبِ دشتِ فنا کچھتے چلے جاتے ہیں لوگ
وقت نے باندھا ہے سب کو ایک ہی زنجیر میں
میں رعایت کا نہیں طالب مگر اے زندگی
کوئی نسبت چاہیے تقصیر اور تعزیر میں
دل کو اُکسایا ہے جب سے خواہشِ تعمیر نے
جل رہا ہوں آتشِ اندیشۂ تعمیر میں
آیتیں تو ٹھیک ہی پڑھنی تھیں واعظ نے مگر
مدعا اپنا بھی شامل کر دیا تفسیر میں
من کو ایسی بھا گئی ہے اک تصور کی چمک
آنکھ کا جی ہی نہیں لگتا کسی تصویر میں
ہم کو بیداری نے باصرِؔ یہ سزا دی نیند کی
خواب میں پایا تھا جو کچھ کھو دیا تعبیر میں
باصر کاظمی

تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ساتھ ہَوا کے اڑنا چاہا اور ہوئے زنجیر ہمیں
تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں
دُکھ جاتے ہیں جُھوٹ ریا کاروں کا ننگا کر کے بھی
دل کا زہر اُنڈیل کے بھی ہو جاتے ہیں دِلگیر ہمیں
حد سے بڑھ کر بھرنے لگ پڑتے ہیں پھُونک غبارے میں
پھٹ جائے تو بچّوں جیسے بن جائیں تصویر ہمیں
قادرِ مطلق پر بھی دعویٰ ہر لحظہ ایقان کا ہے
اور نجومی سے بھی پوچھیں نِت اپنی تقدیر ہمیں
آئینہ بھی، جیسے ہوں، دِکھلائے خدوخال وُہی
سوچیں تو اپنے ہر خواب کی ہیں ماجدؔ، تعبیر ہمیں
ماجد صدیقی

کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 74
مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں
وطن سے دُور بھی آزادیاں نصیب کسے
قدم کہیں بھی ہوں زنجیر گھر کی دیکھتے ہیں
اگرچہ جسم کی دیوار گرنے والی ہے
یہ سادہ لوح کی تعمیر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی تو زخم اسے بھولنے نہیں دیتا
کوئی تو یاد عناں گیر، گھر کی دیکھتے ہیں
ہم ایسے خانہ بر انداز، کنج غربت میں
جو گھر نہیں تو تصاویر گھر کی دیکھتے ہیں
بنائے دل ہے کسی خوابگاہ زلزلہ پر
سو اپنی آنکھوں سے تقدیر گھر کی دیکھتے ہیں
فراز جب کوئی نامہ وطن سے آتا ہے
تو حرف حرف میں تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
احمد فراز

بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 17
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر، تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا
رات کیا سویا کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا
جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
میں نے وہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا
کس طرح پایا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا
عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ
جوئے خوں کو نام دے دیتے ہیں جوئے شیر کا
جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا
احمد فراز

دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 141
جوں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے
دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے
وہ میرا نام لکھتے وقت روئے ہوں گے اے قاصد
یہاں آنسو گرے ہوں گے جہاں تحریر بگڑی ہے
مصور اپنی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی
میں ایسا ہو گیا ہوں یا مری تصویر بگڑی ہے
چلا میں توڑ کر جب بابِ زنداں غل مچا ڈالے
متی باتوں پہ کیا کیا پاؤں کی زنجیر بگڑی ہے
لٹا ہے کارواں جب آ چکی ہے سامنے منزل
کہاں ٹوٹیں امیدیں اور کہاں تقدیر بگڑی ہے
کیا ہے ہر کڑی کو میں نے ٹیڑھا جوشِ وحشت میں
مرے ہاتھوں ہی میرے پاؤں کی زنجیر بگڑی ہے
قمر اچھا نہیں گیسو رخِ روشن پہ آ جانا
گہن جب بھی لگا ہے چاند کی تنویر بگڑی ہے
قمر جلالوی

آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 66
ایک جا رہنا نہیں لکھا میری تقدیر میں
آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں
اقربا نا خوش وہ بزمِ دشمنِ بے پیر میں
موت ہی لکھی ہی کیا بیمار کی تقدیر میں
بات کر میری لحد پر غیر ہی سے بات کر
یہ سنا ہے پھول جھڑتے ہیں تری تقریر میں
سیکھ اب میری نظر سے حسن کی زیبائشیں
سینکڑوں رنگینیاں بھر دیں تری تصویر میں
پاسِ آدابِ اسیری تیرے دیوانے کو ہے
ورنہ یہ زنجیر کچھ زنجیر ہے زنجیر میں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ان کو وہ قمر ملتے نہیں
شام کی رنگینیوں میں، صبح کی تنویر میں
قمر جلالوی

آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 101
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں! کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا
بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!
بات کرتے، کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام
ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہی
آخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہماراَدمِ تحریر بھی تھا؟
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
وُہ ہدف ہے کہ زدِ تیر سے باہر ہی رہے
جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے
رشتۂ موجد و ایجاد کی منطق سمجھو
یہ جہاں دستِ جہاں گیر سے باہر ہی رہے
جبر مجبور ہے، چھپ کر بھی نہیں چھپ سکتا
شور زنجیر کا زنجیر سے باہر ہی رہے
یوں کہ کچھ عکس نمائی کا ہمیں شوق نہ تھا
چشمِ آئینہ ِٔ تشہیر سے باہر ہی رہے
وُہ ارادہ مجھے دے، اے مری ترکیبِ وجود!
جو عمل داریِٔ تقدیر سے باہر ہی رہے
المیے میرے زمانے کے مجھے سہنے پڑے
چشمِ غالب سے، دلِ میر سے باہر ہی رہے
آفتاب اقبال شمیم

مرے شہر کی شب ہر چوکھٹ کی زنجیر ہوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 212
دروازوں پر دن بھر کی تھکن تحریر ہوئی
مرے شہر کی شب ہر چوکھٹ کی زنجیر ہوئی
سب دھوپ اتر گئی ٹوٹی ہوئی دیواروں سے
مگر ایک کرن میرے خوابوں میں اسیر ہوئی
مرا سونا گھر مرے سینے سے لگ کر روتا ہے
مرے بھائی‘ تمہیں اس بار بہت تاخیر ہوئی
ہمیں رنج بہت تھا دشت کی بے امکانی کا
لو غیب سے پھر اک شکل ظہور پذیر ہوئی
کوئی حیرت میرے لہجے کی پہچان بنی
کوئی چاہت میرے لفظوں کی تاثیر ہوئی
اس درد کے قاتل منظر کو الزام نہ دو
یہ تو دیکھنے والی آنکھوں کی تقصیر ہوئی
کسی لشکر سے کہیں بہتا پانی رُکتا ہے
کبھی جوئے رواں کسی ظالم کی جاگیر ہوئی
پھر لوح پہ لٹنے والے خزانے لکھے گئے
مجھے اب کے برس بھی دولتِ جاں تقدیر ہوئی
عرفان صدیقی

سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 443
گھر لوٹنے میں اک ذرا تاخیر کیا ہوئی
سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی
کمرے میں سن رہا ہوں کوئی اجنبی سی چاپ
دروازے پر لگی ہوئی زنجیر کیا ہوئی
وہ درد کیا ہوئے جنہیں رکھا تھا دل کے پاس
وہ میز پر پڑی ہوئی تصویر کیا ہوئی
جو گیت لا زوال تھے وہ گیت کیا ہوئے
وہ ریت پر وصال کی تحریر کیا ہوئی
ہر صبح دیکھتا ہوں میں کھڑکی سے موت کو
گرتے ہوئے مکان کی تعمیر کیا ہوئی
منصور اختیار کی وحشت کے سامنے
یہ جبرِ کائنات یہ تقدیر کیا ہوئی
منصور آفاق

رات بھر نعرئہ تکبیر لگا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 77
سینہء ہجر میں پھر چیر لگا
رات بھر نعرئہ تکبیر لگا
دھجیاں اس کی بکھیریں کیا کیا
ہاتھ جب دامنِ تقدیر لگا
وہ تو بے وقت بھی آسکتا ہے
خانہء دل پہ نہ زنجیر لگا
میں نے کھینچی جو کماں مٹی کی
چاند کی آنکھ میں جا تیر لگا
اس سفیدی کا کوئی توڑ نکال
خالی دیوار پہ تصویر لگا
کیوں سرِ آئینہ اپنا چہرہ
کبھی کابل کبھی کشمیر لگا
سر ہتھیلی پہ تجھے پیش کیا
اب تو آوازئہ تسخیر لگا
آسماں گر نہ پڑے، جلدی سے
اٹھ دعا کا کوئی شہتیر لگا
رہ گئی ہے یہی غارت گر سے
داؤ پہ حسرتِ تعمیر لگا
پھر قیامت کا کوئی قصہ کر
زخم سے سینہء شمشیر لگا
بند کر پاپ کے سرگم منصور
کوئی اب نغمہ دلگیر لگا
منصور آفاق

ہاتھ میں جام پاؤں میں زنجیر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 9
کس نے کھینچی حیات کی تصویر
ہاتھ میں جام پاؤں میں زنجیر
بات کرتا ہے ہنس کے جب صیاد
بھول جاتے ہیں اپنی بات اسیر
ہائے یہ راستے کے ہنگامے
اک تماشا سا بن گئے رہگیر
دیکھنا طرز پرسش احوال
بات کی بات اور تیر کا تیر
اتنے باریک تھے نقوش حیات
بنتے بنتے بگڑ گئی تصویر
وہ زمانے کی چال تھی باقیؔ
ہم سمجھتے رہے جسے تقدیر
باقی صدیقی