ٹیگ کے محفوظات: تغافل

درمیاں تو ہو سامنے گل ہو

دیوان دوم غزل 916
منعقد کاش مجلس مل ہو
درمیاں تو ہو سامنے گل ہو
گرمیاں متصل رہیں باہم
نے تساہل ہو نے تغافل ہو
اب دھواں یوں جگر سے اٹھتا ہے
جیسے پرپیچ کوئی کاکل ہو
نہ تو طالع نہ جذب پھر دل کو
کس بھروسے پہ ٹک تحمل ہو
لگ نہ چل اے نسیم باغ کہ میں
رہ گیا ہوں چراغ سا گل ہو
ادھ جلا لالہ ساں رہا تو کیا
داغ بھی ہو تو کوئی بالکل ہو
طول رکھتا ہے درد دل میرا
لکھنے بیٹھوں تو خط ترسل ہو
ہوجو مجھ بادہ کش کے عرس میں تو
جبکہ قلقل سے شیشے کی قل ہو
دیر رہنے کی جا نہیں یہ چمن
بوے گل ہو صفیر بلبل ہو
مجھ دوانے کی مت ہلا زنجیر
کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر غل ہو
منکشف ہو رہا ہے حال میر
کاش ٹک یار کو تامل ہو
میر تقی میر

کہ سحر نالہ کش ہے بلبل سا

دیوان دوم غزل 703
یار ہے میر کا مگر گل سا
کہ سحر نالہ کش ہے بلبل سا
یاں کوئی اپنی جان دو دشوار
واں وہی ہے سو ہے تساہل سا
دود دل کو ہمارے ٹک دیکھو
یہ بھی پر پیچ اب ہے کاکل سا
شوق واں اس کے لمبے بالوں کا
یاں چلا جائے ہے تسلسل سا
کب تھی جرأت رقیب کی اتنی
تم نے بھی کچھ کیا تغافل سا
اک نگہ ایک چشمک ایک سخن
اس میں بھی تم کو ہے تامل سا
بارے مستوں نے ہوشیاری کی
دے کے کچھ محتسب کا منھ جھلسا
شرم آتی ہے پہنچتے اودھر
خط ہوا شوق سے ترسل سا
ٹوٹی زنجیر پاے میر مگر
رات سنتے رہے ہیں ہم غل سا
میر تقی میر

اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر

دیوان اول غزل 208
یہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کر
اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر
سفر ہستی کا مت کر سرسری جوں باد اے رہرو
یہ سب خاک آدمی تھے ہر قدم پر ٹک تامل کر
سن اے بے درد گلچیں غارت گلشن مبارک ہے
پہ ٹک گوش مروت جانب فریاد بلبل کر
نہ وعدہ تیرے آنے کا نہ کچھ امید طالع سے
دل بیتاب کو کس منھ سے کہیے ٹک تحمل کر
یہ کیا جانوں کہ کیوں رونے لگا رونے سے رہ کر میں
مگر یہ جانتا ہوں مینھ گھر آتا ہے پھر کھل کر
مرے پاس اس کی خاک پا کو بیماری میں رکھا تھا
نہ آیا سر مرا بالیں پہ اودھر جو گیا ڈھل کر
تجلی جلوہ ہیں کچھ بام و در غم خانے کے میرے
وہ رشک ماہ آیا ہم نشیں بس اب دیا گل کر
تری خاموشی سے قمری ہوا شور جنوں رسوا
ہلاٹک طوق گردن کو بھی ظالم باغ میں غل کر
گداز عاشقی کا میر کے شب ذکر آیا تھا
جو دیکھا شمع مجلس کو تو پانی ہو گئی گھل کر
میر تقی میر

اپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا

دیوان اول غزل 17
جب جنوں سے ہمیں توسل تھا
اپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا
بسترا تھا چمن میں جوں بلبل
نالہ سرمایۂ توکل تھا
یک نگہ کو وفا نہ کی گویا
موسم گل صفیر بلبل تھا
ان نے پہچان کر ہمیں مارا
منھ نہ کرنا ادھر تجاہل تھا
شہر میں جو نظر پڑا اس کا
کشتۂ ناز یا تغافل تھا
اب تو دل کو نہ تاب ہے نہ قرار
یاد ایام جب تحمل تھا
جا پھنسا دام زلف میں آخر
دل نہایت ہی بے تامل تھا
یوں گئی قد کے خم ہوئے جیسے
عمر اک رہرو سر پل تھا
خوب دریافت جو کیا ہم نے
وقت خوش میر نکہت گل تھا
میر تقی میر