ٹیگ کے محفوظات: تعمیر

دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں

مجھ سے غفلت ہو گئی شاید کہیں تدبیر میں
دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں
رشک سے آنکھوں نے بھی حلقے بنائے اپنے گرد
جب سے دل رہنے لگا ہے خانۂ زنجیر میں
کس قدر باتیں ہوا پر خرچ ہوتی ہیں مگر
بات رہتی ہے وہی آ جائے جو تحریر میں
جانبِ دشتِ فنا کچھتے چلے جاتے ہیں لوگ
وقت نے باندھا ہے سب کو ایک ہی زنجیر میں
میں رعایت کا نہیں طالب مگر اے زندگی
کوئی نسبت چاہیے تقصیر اور تعزیر میں
دل کو اُکسایا ہے جب سے خواہشِ تعمیر نے
جل رہا ہوں آتشِ اندیشۂ تعمیر میں
آیتیں تو ٹھیک ہی پڑھنی تھیں واعظ نے مگر
مدعا اپنا بھی شامل کر دیا تفسیر میں
من کو ایسی بھا گئی ہے اک تصور کی چمک
آنکھ کا جی ہی نہیں لگتا کسی تصویر میں
ہم کو بیداری نے باصرِؔ یہ سزا دی نیند کی
خواب میں پایا تھا جو کچھ کھو دیا تعبیر میں
باصر کاظمی

کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 74
مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں
وطن سے دُور بھی آزادیاں نصیب کسے
قدم کہیں بھی ہوں زنجیر گھر کی دیکھتے ہیں
اگرچہ جسم کی دیوار گرنے والی ہے
یہ سادہ لوح کی تعمیر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی تو زخم اسے بھولنے نہیں دیتا
کوئی تو یاد عناں گیر، گھر کی دیکھتے ہیں
ہم ایسے خانہ بر انداز، کنج غربت میں
جو گھر نہیں تو تصاویر گھر کی دیکھتے ہیں
بنائے دل ہے کسی خوابگاہ زلزلہ پر
سو اپنی آنکھوں سے تقدیر گھر کی دیکھتے ہیں
فراز جب کوئی نامہ وطن سے آتا ہے
تو حرف حرف میں تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
احمد فراز

سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے

دیوان ششم غزل 1879
جو جنون و عشق کی تدبیر ہے
سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے
وصف اس کا باغ میں کرنا نہ تھا
گل ہمارا اب گریباں گیر ہے
دیکھ رہتا ہے جو دیکھے ہے اسے
دلربا آئینہ رو تصویر ہے
پاے گیر اس کے نہ ہوں کیوں درد مند
حلقہ حلقہ زلف وہ زنجیر ہے
صید کے تن پر ہیں سب گلہاے زخم
کس قدر خوش کار اس کا تیر ہے
مدت ہجراں نے کی نے کچھ کمی
میرے طول عمر کی تقصیر ہے
خط نہ لکھتے تھے سو تاب دل گئی
دفتروں کی اکثر اب تحریر ہے
رکھ نظر میں بھی خراب آبادیاں
اے کہ تجھ کو کچھ غم تعمیر ہے
سخت کافر ہیں برہمن زادگاں
مسلموں کی ان کے ہاں تکفیر ہے
گفتگو میں رہتے تھے آگے خموش
ہر سخن کی اب مرے تقریر ہے
نظم محسنؔ کی رہی سرمشق دیر
اس مرے بھی شعر میں تاثیر ہے
مر گئے پر بھی نہ رسوائی گئی
شہر میں اب نعش بھی تشہیر ہے
کیا ستم ہے یہ کہ ہوتے تیغ و طشت
ذبح کرنے میں مرے تاخیر ہے
میر کو ہے کیا جوانی میں صلاح
اب تو سارے میکدے کا پیر ہے
میر تقی میر

جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں

دیوان ششم غزل 1847
بہار آئی مزاجوں کی سبھی تدبیر کرتے ہیں
جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں
برہمن زادگان ہند کیا پرکار سادے ہیں
مسلمانوں کی یارانے ہی میں تکفیر کرتے ہیں
موئے پر اور بھی کچھ بڑھ گئی رسوائی عاشق کی
کہ اس کی نعش کو اب شہر میں تشہیر کرتے ہیں
ہمارے حیرت عشقی سے چپ رہ جانے کی اس سے
مخالف مدعی کس کس طرح تقریر کرتے ہیں
تماشا دیکھنا منظور ہو تو مل فقیروں سے
کہ چٹکی خاک کو لے ہاتھ میں اکسیر کرتے ہیں
نہ لکھتے تھے کبھو یک حرف اسے جو ہاتھ سے اپنے
سو کاغذ دستے کے دستے ہم اب تحریر کرتے ہیں
در و دیوار افتادہ کو بھی کاش اک نظر دیکھیں
عمارت ساز مردم گھر جو اب تعمیر کرتے ہیں
خدا ناکردہ رک جاؤں جہاں رک جائے گا سارا
غلط کرتے ہیں لڑکے جو مجھے دلگیر کرتے ہیں
اسے اصرار خوں ریزی پہ ہے ناچار ہیں اس میں
وگرنہ عجزتابی تو بہت سی میر کرتے ہیں
میر تقی میر

یعنی سایۂ سرو و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو

دیوان پنجم غزل 1713
موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو
یعنی سایۂ سرو و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو
پیش سعایت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہے
میں تو چپ بیٹھا ہوں یکسو گر کوئی تقریر کرو
کان لگا رہتا ہے غیر اس شوخ کماں ابرو کے بہت
اس تو گناہ عظیم پہ یارو ناک میں اس کی تیر کرو
پھیر دیے ہیں دل لوگوں کے مالک نے کچھ میری طرف
تم بھی ٹک اے آہ و نالہ قلبوں میں تاثیر کرو
آگے ہی آزردہ ہیں ہم دل ہیں شکستہ ہمارے سب
حرف رنجش بیچ میں لاکر اور نہ اب دلگیر کرو
کیا ہو محو عمارت منعم اے معمار خرابی ہے
بن آوے تو گھر ویراں درویشوں کے تعمیر کرو
عاشق ہو ترسا بچگاں پر تاکیفیت حاصل ہو
اور کشود کار جو چاہو پیر مغاں کو پیر کرو
شعر کیے موزوں تو ایسے جن سے خوش ہیں صاحب دل
روویں کڑھیں جو یاد کریں اب ایسا تم کچھ میر کرو
میر تقی میر

زنجیر ہے مناسب شمشیر ہے مناسب

دیوان پنجم غزل 1576
عشق و جنوں کی کیا اب تدبیر ہے مناسب
زنجیر ہے مناسب شمشیر ہے مناسب
دوری شعلہ خویاں آخر جلا رکھے گی
صحبت جو ایسی ہووے درگیر ہے مناسب
جلدی نہ قتل میں کر پچھتاوے گا بہت تو
خوں ریزی میں ہماری تاخیر ہے مناسب
رسواے شہر ہونا عزت ہے عاشقی میں
احوال کی ہمارے تشہیر ہے مناسب
دل کی خرابی کے تو درپے ہے اے صنم کیوں
اس خانۂ خدا کی تعمیر ہے مناسب
شب اس کو میں نے دیکھا سوتے بغل میں اپنی
اس خواب کی نہ کرنی تعبیر ہے مناسب
رحم آشنا کسو کو اس بستی میں نہ پایا
اسلامیوں کی یاں کے تکفیر ہے مناسب
ہے سرگذشت اپنی ننوشتنی ہی بہتر
گذری سو گذری کیا اب تحریر ہے مناسب
دنیا میں کوئی پھر پھر آیا نہیں ہے صاحب
اک بار تم کو مرنا اے میر ہے مناسب
میر تقی میر

جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا

دیوان اول غزل 27
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا
جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار
ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا
کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر
اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر
کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم
قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے
تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک
مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے
فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا
عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں
رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میر کا
میر تقی میر

سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 443
گھر لوٹنے میں اک ذرا تاخیر کیا ہوئی
سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی
کمرے میں سن رہا ہوں کوئی اجنبی سی چاپ
دروازے پر لگی ہوئی زنجیر کیا ہوئی
وہ درد کیا ہوئے جنہیں رکھا تھا دل کے پاس
وہ میز پر پڑی ہوئی تصویر کیا ہوئی
جو گیت لا زوال تھے وہ گیت کیا ہوئے
وہ ریت پر وصال کی تحریر کیا ہوئی
ہر صبح دیکھتا ہوں میں کھڑکی سے موت کو
گرتے ہوئے مکان کی تعمیر کیا ہوئی
منصور اختیار کی وحشت کے سامنے
یہ جبرِ کائنات یہ تقدیر کیا ہوئی
منصور آفاق

خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 391
ایٹمی جنگ میں سوختہ خواب تسخیر کے ہیں
خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں
وقت کی گیلری میں مکمل ہزاروں کی شکلیں
صرف ٹوٹے ہوئے خال و خد میری تصویر کے ہیں
شہر بمبار طیارے مسمار کرتے رہیں گے
شوق دنیا کو تازہ مکانوں کی تعمیر کے ہیں
ایک مقصد بھری زندگی وقت کی قید میں ہے
پاؤں پابند صدیوں سے منزل کی زنجیر کے ہیں
ایک آواز منصور کاغذ پہ پھیلی ہوئی ہے
میرے سناٹے میں شور خاموش تحریر کے ہیں
منصور آفاق

رات بھر نعرئہ تکبیر لگا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 77
سینہء ہجر میں پھر چیر لگا
رات بھر نعرئہ تکبیر لگا
دھجیاں اس کی بکھیریں کیا کیا
ہاتھ جب دامنِ تقدیر لگا
وہ تو بے وقت بھی آسکتا ہے
خانہء دل پہ نہ زنجیر لگا
میں نے کھینچی جو کماں مٹی کی
چاند کی آنکھ میں جا تیر لگا
اس سفیدی کا کوئی توڑ نکال
خالی دیوار پہ تصویر لگا
کیوں سرِ آئینہ اپنا چہرہ
کبھی کابل کبھی کشمیر لگا
سر ہتھیلی پہ تجھے پیش کیا
اب تو آوازئہ تسخیر لگا
آسماں گر نہ پڑے، جلدی سے
اٹھ دعا کا کوئی شہتیر لگا
رہ گئی ہے یہی غارت گر سے
داؤ پہ حسرتِ تعمیر لگا
پھر قیامت کا کوئی قصہ کر
زخم سے سینہء شمشیر لگا
بند کر پاپ کے سرگم منصور
کوئی اب نغمہ دلگیر لگا
منصور آفاق

تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 40
مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا
تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا
کام دنیا کا ہے تیر اندازی
ہم ہوئے یا کوئی نخچیر ہوا
سنگ بنیاد ہیں ہم اس گھر کا
جو کسی طرح نہ تعمیر ہوا
سفر شوق کا حاصل معلوم
راستہ پاؤں کی زنجیر ہوا
عمر بھر جس کی شکایت کی ہے
دل اسی آگ سے اکسیر ہوا
کس سے پوچھیں کہ وہ انداز نظر
کب تبسم ہوا کب تیر ہوا
کون اب داد سخن دے باقیؔ
جس نے دو شعر کہے میر ہوا
باقی صدیقی