ٹیگ کے محفوظات: تعزیر

دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں

مجھ سے غفلت ہو گئی شاید کہیں تدبیر میں
دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں
رشک سے آنکھوں نے بھی حلقے بنائے اپنے گرد
جب سے دل رہنے لگا ہے خانۂ زنجیر میں
کس قدر باتیں ہوا پر خرچ ہوتی ہیں مگر
بات رہتی ہے وہی آ جائے جو تحریر میں
جانبِ دشتِ فنا کچھتے چلے جاتے ہیں لوگ
وقت نے باندھا ہے سب کو ایک ہی زنجیر میں
میں رعایت کا نہیں طالب مگر اے زندگی
کوئی نسبت چاہیے تقصیر اور تعزیر میں
دل کو اُکسایا ہے جب سے خواہشِ تعمیر نے
جل رہا ہوں آتشِ اندیشۂ تعمیر میں
آیتیں تو ٹھیک ہی پڑھنی تھیں واعظ نے مگر
مدعا اپنا بھی شامل کر دیا تفسیر میں
من کو ایسی بھا گئی ہے اک تصور کی چمک
آنکھ کا جی ہی نہیں لگتا کسی تصویر میں
ہم کو بیداری نے باصرِؔ یہ سزا دی نیند کی
خواب میں پایا تھا جو کچھ کھو دیا تعبیر میں
باصر کاظمی

دیوانے ہیں اس زلفِ گرہ گیر کے مشتاق

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 60
پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاق
دیوانے ہیں اس زلفِ گرہ گیر کے مشتاق
بے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخشش
محروم ہیں کس واسطے تعزیر کے مشتاق
رہتے تھے بہم جن سے مثالِ ورق و حرف
اب ان کی رہا کرتے ہیں تحریر کے مشتاق
لکھتا ہوں جو میں آرزوئے قتل میں نامے
ہیں میرے کبوتر بھی ترے تیر کے مشتاق
کیوں قتل میں عشاق کے اتنا ہے تغافل
مر جائیں گے ظالم دمِ شمشیر کے مشتاق
اے آہ ذرا شرم کہ وہ کہتے ہیں اکثر
مدت سے ہیں ہم آہ کی تاثیر کے مشتاق
سیماب تھا دل، جل کے سو اب خاک ہوا ہے
لے جائیں مری خاک کو اکسیر کے مشتاق
کیا ہجر کے دن آنے میں ہے عذر سنیں تو
ہم ہیں ملک الموت کی تقریر کے مشتاق
دل سرد کے سن کے ترے لالۂ موزوں
تھے شیفتہ ہم محسنِ تاثیر کے مشتاق
مصطفٰی خان شیفتہ

آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 101
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں! کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا
بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!
بات کرتے، کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام
ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہی
آخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہماراَدمِ تحریر بھی تھا؟
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی

دیوان دوم غزل 952
رکھا گنہ وفا کا تقصیر کیا نکالی
مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی
رہتی ہے چت چڑھی ہی دن رات تیری صورت
صفحے پہ دل کے میں نے تصویر کیا نکالی
چپ بھی مری جتائی اس سے مخالفوں نے
بات اور جب بنائی تقریر کیا نکالی
بس تھی ہمیں تو تیری ابرو کی ایک جنبش
خوں ریزی کو ہماری شمشیر کیا نکالی
کی اس طبیب جاں نے تجویز مرگ عاشق
آزار کے مناسب تدبیر کیا نکالی
دل بند ہے ہمارا موج ہواے گل سے
اب کے جنوں میں ہم نے زنجیر کیا نکالی
نامے پہ لوہو رو رو خط کھینچ ڈالے سارے
یہ میر بیٹھے بیٹھے تحریر کیا نکالی
میر تقی میر

اس دل کے تئیں پیش کش تیر کریں گے

دیوان اول غزل 568
صید افگنوں سے ملنے کی تدبیر کریں گے
اس دل کے تئیں پیش کش تیر کریں گے
فریاد اسیران محبت نہیں بے ہیچ
یہ نالے کسو دل میں بھی تاثیر کریں گے
دیوانگی کی شورشیں دکھلائیں گے بلبل
آتی ہے بہار اب ہمیں زنجیر کریں گے
وا اس سے سرحرف تو ہو گوکہ یہ سر جائے
ہم حلق بریدہ ہی سے تقریر کریں گے
رسوائی عاشق سے تسلی نہیں خوباں
مر جاوے گا تو نعش کو تشہیر کریں گے
یارب وہ بھی دن ہوئے گا جو مصر سے چل کر
کنعاں کی طرف قافلے شب گیر کریں گے
ہر چند کہ ان ترکوں میں ہو جلد مزاجی
پر کام میں ملنے کے یہ تاخیر کریں گے
شب دیکھی ہے زلف اس کی بجز دام اسیری
کیا یار اب اس خواب کی تعبیر کریں گے
غصے میں تو ہووے گی توجہ تری ایدھر
ہر کام میں ہم جان کے تقصیر کریں گے
نکلا نہ مناجاتیوں سے کام کچھ اپنا
اب کوئی خراباتی جواں پیر کریں گے
مکھڑے کے ترے دیکھنے والوں کے مقابل
لاوے گا کوئی مہ کو تو تعزیر کریں گے
شیخوں کے نہ جا سبحہ و سجادہ پہ ہرگز
مقدور تلک اپنے یہ تزویر کریں گے
بازیچہ نہیں میر کے احوال کا لکھنا
اس قصے کو ہم کرتے ہی تحریر کریں گے
میر تقی میر