ٹیگ کے محفوظات: تعب

وہ جو پُر لطف تھے روزوشب موڑ دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مجھ سے جو چھن گئے،میرے رب موڑ دے
وہ جو پُر لطف تھے روزوشب موڑ دے
فاختاؤں کے حق میں خلافِ ستم
رگ بہ رگ تھا جو رنج و تعب موڑ دے
ساتھ اپنے ہی جس میں سخن اور تھے
خلوتوں کی وہ بزمِ طرب موڑ دے
جس سے مُکھ تھا انگاروں سا دہکا ہوا
مُو بہ مُو تھی جو وہ تاب و تب موڑ دے
الجھنوں کا تھا جن پر نہ سایہ تلک
ہاں وہ لمحاتِ خندہ بہ لب موڑ دے
نام اوروں کے جتنے شرف ہیں مرے
مجھ کو موڑے نہ تھے جو، وہ اب موڑ دے
رنج جو بھی ملے ،عفو کی شکل میں
دینے والوں کو ماجِد وہ سب موڑ دے
ماجد صدیقی

ہمارے شہر کا موسم عجب ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے
ہمارے شہر کا موسم عجب ہے
وہ دیکھو ماہِ رخشاں بادلوں سے
لپٹ کر کس قدر محوِ طرب ہے
پئے عرفانِ منزل، گمرہوں کو
کہیں ہم جو بھی کچھ، لہو و لعب ہے
کچھار اپنی بنا لو حفظِ جہاں کو
نگر میں اب یہی جینے کا ڈھب ہے
ہمارے ہی لئے کیوں ایک ماجد
مزاجِ دہر میں رنج و تعب ہے
ماجد صدیقی

رنج کا اور بھی سبب نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 156
اک تغافل ہی اُس کا کب نکلا
رنج کا اور بھی سبب نکلا
غیر بھی ہم سے جب ہُوا رسوا
دل میں کانٹا تھا جو وہ تب نکلا
آپ کچھ کہہ کے مطمئن تو ہوئے
شکر ہے آپ کا تعب نکلا
بات جب چھڑ گئی شقاوت کی
دل میں جو تھا غبار سب نکلا
پنجۂ موجِ درد سے مَیں بھی
بچ گیا گرچہ جاں بہ لب نکلا
کیا مسافت کرے گا طے ماجدؔ
دن چڑھے تُو جو گھر سے اَب نکلا
ماجد صدیقی

مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو

دیوان دوم غزل 930
مطرب نے پڑھی تھی غزل اک میر کی شب کو
مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو
پھرتے ہیں چنانچہ لیے خدام سلاتے
درویشوں کے پیراہن صد چاک قصب کو
کیا وجہ کہیں خوں شدن دل کی پیارے
دیکھو تو ہو آئینے میں تم جنبش لب کو
برسوں تئیں جب ہم نے تردد کیے ہیں تب
پہنچایا ہے آدم تئیں واعظ کے نسب کو
ہے رحم کو بھی راہ دل یار میں بارے
جاگہ نہیں یاں ورنہ کہیں اس کے غضب کو
کیا ہم سے گنہگار ہیں یہ سب جو موئے ہیں
کچھ پوچھو نہ اس شوخ کی رنجش کے سبب کو
دل دینے سے اس طرح کے جی کاش کے دیتے
یوں کھینچے کوئی کب تئیں اس رنج و تعب کو
حیرت ہے کہ ہے مدعی معرفت اک خلق
کچھ ہم نے تو پایا نہیں اب تک ترے ڈھب کو
ہو گا کسو دیوار کے سائے میں پڑا میر
کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو
میر تقی میر

ہر روز دل کو سوز ہے ہر شب تعب ہے اب

دیوان دوم غزل 772
جیسا مزاج آگے تھا میرا سو کب ہے اب
ہر روز دل کو سوز ہے ہر شب تعب ہے اب
سدھ کچھ سنبھالتے ہی وہ مغرور ہو گیا
ہر آن بے دماغی و ہر دم غضب ہے اب
دوری سے اس کی آہ عجب حال میں ہیں لوگ
کچھ بھی جو پاس وہ نہ کرے تو عجب ہے اب
طاقت کہ جس سے تاب جفا تھی سو ہوچکی
تھوڑی سی کوفت میں بھی بہت سا تعب ہے اب
دریا چلا ہے آج تو بوس و کنار کا
گر جی چلاوے کوئی دوانہ تو ڈھب ہے اب
جاں بخشیاں جو پیشتر از خط کیا کیے
ان ہی لبوں سے خلق خدا جاں بلب ہے اب
رنجش کی وجہ آگے تو ہوتی بھی تھی کوئی
روپوش ہم سے یار جو ہے بے سبب ہے اب
نے چاہ وہ اسے ہے نہ مجھ کو ہے وہ دماغ
جانا مرا ادھر کو بشرط طلب ہے اب
جاتا ہوں دن کو ملنے تو کہتا ہے دن ہے میر
جو شب کو جایئے تو کہے ہے کہ شب ہے اب
میر تقی میر

پہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا

دیوان دوم غزل 671
رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا
پہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا
ہم دل زدہ نہ رکھتے تھے تم سے یہ چشم داشت
کرتے ہو قہر لطف کی جاگہ غضب ہے کیا
عزت بھی بعد ذلت بسیار چھیڑ ہے
مجلس میں جب خفیف کیا پھر ادب ہے کیا
آئے ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئے
اس راہ صعب عشق میں یارو تعب ہے کیا
حیراں ہیں اس دہن کے عزیزان خوردہ بیں
یہ بھی مقام ہائے تامل طلب ہے کیا
آنکھیں جو ہوویں تیری تو تو عین کر رکھے
عالم تمام گر وہ نہیں تو یہ سب ہے کیا
اس آفتاب بن نہیں کچھ سوجھتا ہمیں
گر یہ ہی اپنے دن ہیں تو تاریک شب ہے کیا
تم نے ہمیشہ جور و ستم بے سبب کیے
اپنا ہی ظرف تھا جو نہ پوچھا سبب ہے کیا
کیونکر تمھاری بات کرے کوئی اعتبار
ظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا
اس مہ بغیر میر کا مرنا عجب ہوا
ہر چند مرگ عاشق مسکیں عجب ہے کیا
میر تقی میر

ان کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 239
مصحفِ دل کی تلاوت روز و شب کرتے رہو
ان کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو
شاملِ توفیق ان کی رحمتیں ہو جائیں گی
مسئلے جو بھی بیاں کرنے ہیں سب کرتے رہو
زندگی ممنون ہے جس کی ، اُسی کے نام سے
اپنے دل کے بھی دھڑکنے کا سبب کرتے رہو
نام ہو ان کا تو مایوسی سراسر کفر ہے
اپنی بخشش کی دعا ساغر بہ لب کرتے رہو
اک ذرا بس ان کا ذکرِ خیر پہلے دوستو
بات اپنی جو تمہیں کرنی ہے ، اب کرتے رہو
عزم زندہ ہو تو ساری بیڑیاں کٹ جائیں گی
کوششیں اپنی بصد رنج و تعب کرتے رہو
آنکھ میں منصور روشن ہوں ستارے اور دئیے
آنسوئوں سے تم بپا شامِ طرب کرتے رہو
منصور آفاق