ٹیگ کے محفوظات: تشہیر

سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے

دیوان ششم غزل 1879
جو جنون و عشق کی تدبیر ہے
سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے
وصف اس کا باغ میں کرنا نہ تھا
گل ہمارا اب گریباں گیر ہے
دیکھ رہتا ہے جو دیکھے ہے اسے
دلربا آئینہ رو تصویر ہے
پاے گیر اس کے نہ ہوں کیوں درد مند
حلقہ حلقہ زلف وہ زنجیر ہے
صید کے تن پر ہیں سب گلہاے زخم
کس قدر خوش کار اس کا تیر ہے
مدت ہجراں نے کی نے کچھ کمی
میرے طول عمر کی تقصیر ہے
خط نہ لکھتے تھے سو تاب دل گئی
دفتروں کی اکثر اب تحریر ہے
رکھ نظر میں بھی خراب آبادیاں
اے کہ تجھ کو کچھ غم تعمیر ہے
سخت کافر ہیں برہمن زادگاں
مسلموں کی ان کے ہاں تکفیر ہے
گفتگو میں رہتے تھے آگے خموش
ہر سخن کی اب مرے تقریر ہے
نظم محسنؔ کی رہی سرمشق دیر
اس مرے بھی شعر میں تاثیر ہے
مر گئے پر بھی نہ رسوائی گئی
شہر میں اب نعش بھی تشہیر ہے
کیا ستم ہے یہ کہ ہوتے تیغ و طشت
ذبح کرنے میں مرے تاخیر ہے
میر کو ہے کیا جوانی میں صلاح
اب تو سارے میکدے کا پیر ہے
میر تقی میر

جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں

دیوان ششم غزل 1847
بہار آئی مزاجوں کی سبھی تدبیر کرتے ہیں
جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں
برہمن زادگان ہند کیا پرکار سادے ہیں
مسلمانوں کی یارانے ہی میں تکفیر کرتے ہیں
موئے پر اور بھی کچھ بڑھ گئی رسوائی عاشق کی
کہ اس کی نعش کو اب شہر میں تشہیر کرتے ہیں
ہمارے حیرت عشقی سے چپ رہ جانے کی اس سے
مخالف مدعی کس کس طرح تقریر کرتے ہیں
تماشا دیکھنا منظور ہو تو مل فقیروں سے
کہ چٹکی خاک کو لے ہاتھ میں اکسیر کرتے ہیں
نہ لکھتے تھے کبھو یک حرف اسے جو ہاتھ سے اپنے
سو کاغذ دستے کے دستے ہم اب تحریر کرتے ہیں
در و دیوار افتادہ کو بھی کاش اک نظر دیکھیں
عمارت ساز مردم گھر جو اب تعمیر کرتے ہیں
خدا ناکردہ رک جاؤں جہاں رک جائے گا سارا
غلط کرتے ہیں لڑکے جو مجھے دلگیر کرتے ہیں
اسے اصرار خوں ریزی پہ ہے ناچار ہیں اس میں
وگرنہ عجزتابی تو بہت سی میر کرتے ہیں
میر تقی میر

زنجیر ہے مناسب شمشیر ہے مناسب

دیوان پنجم غزل 1576
عشق و جنوں کی کیا اب تدبیر ہے مناسب
زنجیر ہے مناسب شمشیر ہے مناسب
دوری شعلہ خویاں آخر جلا رکھے گی
صحبت جو ایسی ہووے درگیر ہے مناسب
جلدی نہ قتل میں کر پچھتاوے گا بہت تو
خوں ریزی میں ہماری تاخیر ہے مناسب
رسواے شہر ہونا عزت ہے عاشقی میں
احوال کی ہمارے تشہیر ہے مناسب
دل کی خرابی کے تو درپے ہے اے صنم کیوں
اس خانۂ خدا کی تعمیر ہے مناسب
شب اس کو میں نے دیکھا سوتے بغل میں اپنی
اس خواب کی نہ کرنی تعبیر ہے مناسب
رحم آشنا کسو کو اس بستی میں نہ پایا
اسلامیوں کی یاں کے تکفیر ہے مناسب
ہے سرگذشت اپنی ننوشتنی ہی بہتر
گذری سو گذری کیا اب تحریر ہے مناسب
دنیا میں کوئی پھر پھر آیا نہیں ہے صاحب
اک بار تم کو مرنا اے میر ہے مناسب
میر تقی میر

اس دل کے تئیں پیش کش تیر کریں گے

دیوان اول غزل 568
صید افگنوں سے ملنے کی تدبیر کریں گے
اس دل کے تئیں پیش کش تیر کریں گے
فریاد اسیران محبت نہیں بے ہیچ
یہ نالے کسو دل میں بھی تاثیر کریں گے
دیوانگی کی شورشیں دکھلائیں گے بلبل
آتی ہے بہار اب ہمیں زنجیر کریں گے
وا اس سے سرحرف تو ہو گوکہ یہ سر جائے
ہم حلق بریدہ ہی سے تقریر کریں گے
رسوائی عاشق سے تسلی نہیں خوباں
مر جاوے گا تو نعش کو تشہیر کریں گے
یارب وہ بھی دن ہوئے گا جو مصر سے چل کر
کنعاں کی طرف قافلے شب گیر کریں گے
ہر چند کہ ان ترکوں میں ہو جلد مزاجی
پر کام میں ملنے کے یہ تاخیر کریں گے
شب دیکھی ہے زلف اس کی بجز دام اسیری
کیا یار اب اس خواب کی تعبیر کریں گے
غصے میں تو ہووے گی توجہ تری ایدھر
ہر کام میں ہم جان کے تقصیر کریں گے
نکلا نہ مناجاتیوں سے کام کچھ اپنا
اب کوئی خراباتی جواں پیر کریں گے
مکھڑے کے ترے دیکھنے والوں کے مقابل
لاوے گا کوئی مہ کو تو تعزیر کریں گے
شیخوں کے نہ جا سبحہ و سجادہ پہ ہرگز
مقدور تلک اپنے یہ تزویر کریں گے
بازیچہ نہیں میر کے احوال کا لکھنا
اس قصے کو ہم کرتے ہی تحریر کریں گے
میر تقی میر

جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
وُہ ہدف ہے کہ زدِ تیر سے باہر ہی رہے
جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے
رشتۂ موجد و ایجاد کی منطق سمجھو
یہ جہاں دستِ جہاں گیر سے باہر ہی رہے
جبر مجبور ہے، چھپ کر بھی نہیں چھپ سکتا
شور زنجیر کا زنجیر سے باہر ہی رہے
یوں کہ کچھ عکس نمائی کا ہمیں شوق نہ تھا
چشمِ آئینہ ِٔ تشہیر سے باہر ہی رہے
وُہ ارادہ مجھے دے، اے مری ترکیبِ وجود!
جو عمل داریِٔ تقدیر سے باہر ہی رہے
المیے میرے زمانے کے مجھے سہنے پڑے
چشمِ غالب سے، دلِ میر سے باہر ہی رہے
آفتاب اقبال شمیم

خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 6
اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ
خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ
میں بھی اَے سرخئ بے نام تجھے پہچانوں
توُ حنا ہے کہ لہو، پیکرِ تصویر میں آ
اُس کے حلقے میں تگ و تاز کی وسعت ہے بہت
آہوئے شہر، مری بانہوں کی زنجیر میں آ
چارہ گر خیر سے خوش ذوق ہے اَے میری غزل
کام اَب تو ہی مرے درد کی تشہیر میں آ
وہ بھی آمادہ بہت دِن سے ہے سننے کے لیے
اَب تو اَے حرفِ طلب معرضِ تقریر میں آ
ایک رنگ آخری منظر کی دَھنک میں کم ہے
موجِ خوں، اُٹھ کے ذرا عرصۂ شمشیر میں آ
عرفان صدیقی