ٹیگ کے محفوظات: تسلسل

تسلسل

زخمی آوازیں، وہی الفاظ دہرائے ہوئے

پھر وہی سوچوں کے گھاؤ، شور زخمائے ہوئے

مسخ کر دیتے ہیں انساں کا شعور!

رحمت یزداں ملے جو انتہائے شوق سے

جگمگا اٹھتی ہے قسمت بن کے نورِ کوہِ طور

تتلیاں خوابوں کی، مٹھی میں اگر آ جائیں تو

رنگ پھیلیں سوچ کے روزن سے آتی دھوپ میں

لیکن ایسی انتہائے شوق بھی،

دسترس نا دسترس کے درد سے

دِل کو تڑپاتی رہے

سلسلے ٹوٹیں تو پھر کب جڑ سکیں

جاتے پنچھی کب گھروں کو مڑ سکیں

یاد کا ققنس مگر زندہ رہے

آگ میں جل کر ملے پھر زِندگی

خاک میں مل کر جلے پھر زِندگی

منجمد ہو جائیں سب برفیلے طوفانوں کے بیچ

اور لمحے میں بدل جائے کبھی سارا سماں

فرطِ قحطِ نم کبھی جنگل کے جنگل دے اجاڑ

اور کبھی بارش نہ تھم پائے اجڑ جائے جہاں!

وقت کی چکّی میں زندہ بے یقینی ہی رہے

یہ تسلسل خواب کا جاری رہے

یاور ماجد

کہ سحر نالہ کش ہے بلبل سا

دیوان دوم غزل 703
یار ہے میر کا مگر گل سا
کہ سحر نالہ کش ہے بلبل سا
یاں کوئی اپنی جان دو دشوار
واں وہی ہے سو ہے تساہل سا
دود دل کو ہمارے ٹک دیکھو
یہ بھی پر پیچ اب ہے کاکل سا
شوق واں اس کے لمبے بالوں کا
یاں چلا جائے ہے تسلسل سا
کب تھی جرأت رقیب کی اتنی
تم نے بھی کچھ کیا تغافل سا
اک نگہ ایک چشمک ایک سخن
اس میں بھی تم کو ہے تامل سا
بارے مستوں نے ہوشیاری کی
دے کے کچھ محتسب کا منھ جھلسا
شرم آتی ہے پہنچتے اودھر
خط ہوا شوق سے ترسل سا
ٹوٹی زنجیر پاے میر مگر
رات سنتے رہے ہیں ہم غل سا
میر تقی میر