ٹیگ کے محفوظات: تریاک

دشت دشت اب کے ہے گل تریاک

دیوان پنجم غزل 1664
شاد افیونیوں کا دل غمناک
دشت دشت اب کے ہے گل تریاک
تین دن گور میں بھی بھاری ہیں
یعنی آسودگی نہیں تہ خاک
ہاتھ پہنچا نہ اس کے دامن تک
میں گریباں کروں نہ کیوں کر چاک
تیز جاتا ہوں میں تو جوں سیلاب
میرے مانع ہو کیا خس و خاشاک
عشق سے ہاتھ کیا ملاوے کوئی
یاں زبردستوں کی ہے کشتی پاک
بندگی کیشوں پر ستم مت کر
ڈر خدا سے تو اے بت بیباک
عشق مرد آزما نے آخرکار
کیے فرہاد و قیس میر ہلاک
میر تقی میر

پھرتے ہیں کمھاروں کے پڑے چاک سے اب تک

دیوان پنجم غزل 1663
کیا ہم میں رہا گردش افلاک سے اب تک
پھرتے ہیں کمھاروں کے پڑے چاک سے اب تک
تھے نوخطوں کی خاک سے اجزا جو برابر
ہو سبزہ نکلتے ہیں تہ خاک سے اب تک
تا مدنظر چھا رہے ہیں لالۂ صد برگ
جنگل بھرے ہیں سب گل تریاک سے اب تک
دشمن ہوئی ہے جس کے لیے ساری خدائی
مربوط ہیں ہم اس بت بیباک سے اب تک
ہر چند کہ دامن تئیں ہے چاک گریباں
ہم ہیں متوقع کف چالاک سے اب تک
گو خاک سی اڑتی ہے مرے منھ پہ جنوں میں
ٹپکے ہے لہو دیدئہ نمناک سے اب تک
وے کپڑے تو بدلے ہوئے میر اس کو کئی دن
تن پر ہے شکن تنگی پوشاک سے اب تک
میر تقی میر

آج تو کشتہ کوئی کیا زینت فتراک تھا

دیوان پنجم غزل 1562
کل تلک داغوں سے خوں کے دامن زیں پاک تھا
آج تو کشتہ کوئی کیا زینت فتراک تھا
کیا جنوں کو روئوں تردستی سے اس کی گل نمط
لے گریباں سے زہ دامن تک اک ہی چاک تھا
رو جو آئی رونے کی مژگاں نہ ٹھہری ایک پل
راہ میں اس رود کی گویا خس و خاشاک تھا
اک ہی شمع شعلہ خو کے لائحے میں جل بجھا
جب تلک پہنچے کوئی پروانہ عاشق خاک تھا
بادشاہ وقت تھا میں تخت تھا میرا دماغ
جی کے چاروں اور اک جوش گل تریاک تھا
ڈھال تلوار اس جواں کے ساتھ اب رہتی نہیں
وہ جفا آئیں شلائیں لڑکا ہی بیباک تھا
تنگ پوشی تنگ درزی اس کی جی میں کھب گئی
کیا ہی وہ محبوب خوش ترکیب خوش پوشاک تھا
بات ہے جی مارنا بازیچہ قتل عام ہے
اب تو ہے صدچند اگر دہ چند وہ سفاک تھا
غنچۂ دل وا ہوا نہ باغوں باغوں میں پھرا
اب بھی ہے ویسا ہی جیسا پیشتر غمناک تھا
درک کیا اس درس گہ میں میر عقل و فہم کو
کس کے تیں ان صورتوں میں معنی کا ادراک تھا
میر تقی میر