ٹیگ کے محفوظات: ترنگ

ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 55
سما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوں
ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں
فضا میں تیر رہی ہوں ، صدا کے رنگ میں ہوں
لہو سے پوچھ رہی ہوں ، یہ کس ترنگ میں ہوں
دھنک اُترتی نہیں میرے خون میں جب تک
میں اپنے جسم کی نیلی رگوں سے جنگ میں ہوں
بہار نے مِری آنکھوں پہ پُھول باندھ دیئے!
رہائی پاؤں تو کیسے ، حصارِ رنگ میں ہوں
کُھلی فضا ہے ، کُھلاآسماں بھی سامنے ہے
مگر یہ ڈر نہیں جاتا ، ابھی سرنگ میں ہوں
ہوا گزیدہ بنفشے کے پھول کی مانند
پناہِ رنگ سے بچ کر ، پناہِ سنگ میں ہوں
صدف میں اُتروں تو پھرمیں گُہر بھی بن جاؤں
صدف سے پہلے ابھی حلقہ ءِ نہنگ میں ہوں
پروین شاکر

پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ

دیوان دوم غزل 795
اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ
پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ
کبھو تو نیو چلاکر ستم کھنچیں کب تک
کماں کے طور سے تو سخت خانہ جنگ ہے شوخ
سکھائیں کن نے تجھے آہ ایسی اچپلیاں
کہ برق پر تری شوخی سے کام تنگ ہے شوخ
بغیر بادہ تو یوں گرم آ کے کب ملتا
نشہ ہے زور تجھے اس کی یہ ترنگ ہے شوخ
جگر میں کس کے ترے ہاتھ سے نہیں سوراخ
ملک تلک تو ترا زخمی خدنگ ہے شوخ
صنم فراق میں میں تیرے کچھ تو کر رہتا
پہ کیا کروں کہ مرا ہاتھ زیرسنگ ہے شوخ
خیال چاہ کے سررشتے کا تجھے کب ہے
ترے تو ہاتھ میں شام و سحر پتنگ ہے شوخ
ابھی تو آنے میں عرصہ ہے کچھ قیامت کے
قد بلند کو کھینچ اپنے کیا درنگ ہے شوخ
برآر میر سے کس طرح تیری صحبت ہو
تجھے تو نام سے اس خستہ جاں کے ننگ ہے شوخ
میر تقی میر

بدل رہے تھے تسلسل سے رنگ رنگوں کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 582
ٹہل رہا تھا کوئی سنگ سنگ رنگوں کے
بدل رہے تھے تسلسل سے رنگ رنگوں کے
وہ آسمان پہ شامِ وصال پھرتی ہے
بچھے ہیں قوسِ قزح پہ پلنگ رنگوں کے
اتر نہ جائے درختوں سے گل رتوں کی شال
پہن لے کپڑے ذرا شوخ و شنگ رنگوں کے
تری گلی سے نکلتے نہیں ہیں جانِ بہار
فقیر عارضِ گل کے ملنگ رنگوں کے
مٹا رہی ہے پہاڑوں سے خامشی کے داغ
بجا رہی ہے ندی جل ترنگ رنگوں کے
تری مہک سے بڑھاتے ہیں اپنی توقیریں
میں جانتا ہوں سبھی رنگ ڈھنگ رنگوں کے
منصور آفاق