ٹیگ کے محفوظات: تربت

چاروں اور نگہ کرنے میں عالم عالم حسرت تھی

دیوان چہارم غزل 1533
آج ہمیں بیتابی سی ہے صبر کی دل سے رخصت تھی
چاروں اور نگہ کرنے میں عالم عالم حسرت تھی
کس محنت سے محبت کی تھی کس خواری سے یاری کی
رنج ہی ساری عمر اٹھایا کلفت تھی یا الفت تھی
بدنامی کیا عشق کی کہیے رسوائی سی رسوائی ہے
صحرا صحرا وحشت بھی تھی دنیا دنیا تہمت تھی
راہ کی کوئی سنتا نہ تھا یاں رستے میں مانند جرس
شور سا کرتے جاتے تھے ہم بات کی کس کو طاقت تھی
عہد ہمارا تیرا ہے یہ جس میں گم ہے مہر و وفا
اگلے زمانے میں تو یہی لوگوں کی رسم و عادت تھی
خالی ہاتھ سیہ رو ایسے کاہے کو تھے گریہ کناں
جن روزوں درویش ہوئے تھے پاس ہمارے دولت تھی
جو اٹھتا ہے یاں سے بگولا ہم سا ہے آوارہ کوئی
اس وادی میں میر مگر سرگشتہ کسو کی تربت تھی
میر تقی میر

دل نہ رہے جو ہاتھ رکھے تو سماجت ات گت مت کریو

دیوان سوم غزل 1240
آج ہمارا جی بے کل ہے تم بھی غفلت مت کریو
دل نہ رہے جو ہاتھ رکھے تو سماجت ات گت مت کریو
ڈھیری رہے اک خاک کی تو کیا ایسے خاک برابر کی
مجھ کو زمیں میں گاڑوگے تو نشان تربت مت کریو
ایسی جان کہاں ہے ہم میں رنج نہ دینا ہاتھوں کو
ایک ہی وار میں ہو چکیے گا دوسری ضربت مت کریو
ہم کو تو مارا عشق نے آخر پر یہ وصیت یاد رہے
دیر جہاں میں تم جو ہو تو کسو سے الفت مت کریو
میری طرف کی یارو اس سے بات کوئی کہتے ہو کہو
مانے نہ مانے وہ جانے پھر تم بھی منت مت کریو
کہیے سو کیا اب چپکے دیکھو گو میں اس میں مر جائوں
تم کو قسم ہے حرف و سخن کی مجھ سے مروت مت کریو
ہوش نہیں اپنا تو ہمیں ٹک میر آئے ہیں پرسش کو
جانے سے آگے ان کو ہمارے پیارے رخصت مت کریو
میر تقی میر

اٹھے ہے فتنہ ہر اک شوخ تر قیامت سے

دیوان اول غزل 570
جہاں میں روز ہے آشوب اس کی قامت سے
اٹھے ہے فتنہ ہر اک شوخ تر قیامت سے
موا ہوں ہو کے دل افسردہ رنج کلفت سے
اگے ہے سبزئہ پژمردہ میری تربت سے
جہاں ملے تہاں کافر ہی ہونا پڑتا ہے
خدا پناہ میں رکھے بتوں کی صحبت سے
تسلی ان نے نہ کی ایک دو سخن سے کبھو
جو کوئی بات کہی بھی تو آدھی لکنت سے
پلک کے مارتے ہم تو نظر نہیں آتے
سخن کرو ہو عبث تم ہماری فرصت سے
امیرزادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور
کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انھیں کی دولت سے
یہ جہل دیکھ کہ ان سمجھے میں اٹھا لایا
گراں وہ بار جو تھا بیش اپنی طاقت سے
رہا نہ ہو گا بخود صانع ازل بھی تب
بنایا ہو گا جب اس منھ کو دست قدرت سے
وہ آنکھیں پھیرے ہی لیتا ہے دیکھتے کیا ہو
معاملت ہے ہمیں دل کی بے مروت سے
جو سوچے ٹک تو وہ مطلوب ہم ہی نکلے میر
خراب پھرتے تھے جس کی طلب میں مدت سے
میر تقی میر