ٹیگ کے محفوظات: ترانہ

عنوان دو ہیں اور مکمل فسانہ ہے

رازِ حیات و موت بڑا عاشقانہ ہے
عنوان دو ہیں اور مکمل فسانہ ہے
ہمدردیوں کا ذکر کروں اِن سے یا نہیں
ظاہرپرست دوست ہیں، دشمن زمانہ ہے
مرعوب کرسکے گا نہ مجھ کو جمالِ دوست
میرا مزاج میری نظر باغیانہ ہے
بیٹھا ہوں بجلیوں کا تصوّر کیے ہوئے
گہوارہِ جمال مرا آشیانہ ہے
ترسا رہے ہو کیوں خس و خاشاک کے لیے
میرا چمن ہے اور مرا آشیانہ ہے
شاید مری حیات کا مرکز بدل گیا
میرے لبوں پہ آج خوشی کا ترانہ ہے
تسلیم، اُڑ کے جا نہیں سکتا مگر، شکیبؔ
نظروں کے سامنے تو مرا آشیانہ ہے
شکیب جلالی

خیرہ سرانہ شور مچائیں خیرہ سرانہ رقص کریں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 98
آ کہ جہانِ بے خبراں میں بے خبرانہ رقص کریں
خیرہ سرانہ شور مچائیں خیرہ سرانہ رقص کریں
فن تو حسابِ تنہائی شرط بَھلا کِس شے کی ہے
یعنی اُٹھیں اور بے خلخال و طبل و ترانہ رقص کریں
داد سے جب مطلب ہی نہیں تو عزر بَھلا کس بات کا ہے
ہم بھی بزمِ بے بصراں میں بے بصرانہ رقص کریں
ہم پہ ہنر کے قدر شناساں نازکناں ہیں یعنی ہم
سازِ شکستِ دل کی صدا پر عشوہ گرانہ رقص کریں
تختہء گُل ہو عزر انگیز آبلہ پائی اپنے لیے
ہاں سرِ نشتر ہا ز کرانہ تا بہ کرانہ رقص کریں
مرضئ مولا از ہمہ اولیٰ شوق ہمارا مولا ہے
ہم وہ نہیں جو بزم طرب میں پیشہ ورانہ رقص کریں
بر سر شور و بر سرِ سورش بر سرِ شبخوں بر سرِ خوں
چل کہ حصارِ فتنہ گراں میں فتنہ گرانہ رقص کریں
کوئی نہیں جو آ ٹکرائے سب چوراہے خالی ہیں
چل کہ سرِ بازارِ تباہی بے خطرانہ رقص کریں
بعدِ ہنرآموزی ہم کو تھا پندِ استاد کہ ہم
باہنرانہ رقص میں آئیں بے ہنرانہ رقص کریں
اپنے بدن پر اپنے خوں میں غیر کا خوں بھی شامل ہو
بارگہِ پرویز میں چل کر تیشہ ورانہ رقص کریں
جون ایلیا

ترانہ

میرا بدن لہو لہو

مرا وطن لہو لہو

مگر عظیم تر

یہ میری ارض پاک ہو گئی

اسی لہو سے

سرخرو

وطن کی خاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

بجھا جو اک دیا یہاں

تو روشنی کے کارواں

رواں دواں رواں دواں

یہاں تلک کے ظلم کی

فصیل چاک ہو گئی

عظیم تر یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

غنیم کس گماں میں تھا

کہ اس نے وار کر دیا

اسے خبر نہ تھی ذرا

کہ جب بھی ہم بڑھے

تو پھر رکے نہیں

یہ سر اٹھے تو کٹ مرے

مگر جھکے نہیں

اسی ادا سے رزمگاہ تابناک ہو گئی

عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

مرا وطن لہو لہو

ہر ایک زخم فتح کا نشان ہے

وہی تو میری آبرو ہے آن ہے

جو زندگی وطن کی راہ میں ہلاک ہو گئی

عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

پروین شاکر

ترانہ

دربارِ وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے

کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت

چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک

کچھ حشر تو ان سے اُٹھے گا۔ کچھ دور تو نالے جائیں گے

فیض احمد فیض

اب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 12
غالب و شیفتہ و آزردہ و ذوق
اب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز
مومن و علوی و صہبائی و ممنون کے بعد
شعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز
کر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کو
ورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز
داغ و مجروح کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں
نہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہرگز
رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیرو زبر
اب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانا ہرگز
الطاف حسین حالی