ٹیگ کے محفوظات: تحسین

سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دونوں اپنے کام کے ماہر‘ دونوں بڑے ذہین
سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین
گرگ وہاں کوئی سر نہیں کرتا آہو پر بندوق
اس بستی کو جنگل کہنا‘ جنگل کی توہین
سوختگاں کی بزمِ سخن میں صدر نشیں آسیب
چیخوں کے صد غزلوں پر سناٹوں کی تحسین
فتنۂ شب نے ختم کیا سب آنکھوں کا آزار
سارے خواب حقیقت بن گئے سارے وہم یقین
ہم بھی پتھر‘ تم بھی پتھر سب پتھر ٹکراؤ
ہم بھی ٹوٹیں‘ تم بھی ٹوٹو‘ سب ٹوٹیں‘ آمین
عرفان صدیقی

اسلام ہے تو یہ ہے، کچھ دین ہے تو یہ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 627
دیکھوں میں سبز گنبد تسکین ہے تو یہ ہے
اسلام ہے تو یہ ہے، کچھ دین ہے تو یہ ہے
ان پر درود بھیجوں ان پر سلام بھیجوں
ان کی میں نعت لکھوں تحسین ہے تو یہ ہے
وقتِ قضا تب آئے جب میں مدنیہ پہنچوں
تجہیز ہے تو یہ ہے تکفین ہے تو یہ ہے
میرے نصیب میں ہوشہرِ نبیﷺ کی مٹی
تقدیر ہے تو یہ ہے تدفین ہے تو یہ ہے
چہرے پہ نور برسے،ہونٹوں سے پھول برسیں
ان کی نظر میں آؤں تزئین ہے تو یہ ہے
قرآن کہہ رہا ہے منصور ہرسخن میں
فرقان ہے تو یہ ہے یٰسین ہے تو یہ ہے
منصور آفاق