ٹیگ کے محفوظات: تجرید

گلے سے ہمارے لگو عید ہے

دیوان پنجم غزل 1758
گئے روزے اب دید وادید ہے
گلے سے ہمارے لگو عید ہے
گریزاں ہوں سائے سے خورشید ساں
جہاں جب سے ہے مجھ کو تجرید ہے
تصرف میں جب ڈال دیتے ہیں بات
خدا رس کہیں ہیں یہ توحید ہے
جو آویں بتاں جذب سے یاں تو یہ
خدا کی طرف ہی کی تائید ہے
لپیٹا ہے میں بوریاے نماز
یہی میر جانے کی تمہید ہے
میر تقی میر