ٹیگ کے محفوظات: تباہ

اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 18
بزعمِ عقل یہ کیسا گناہ میں نے کیا
اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا
یہ شہرِ کم نظراں، یہ دیارِ بے ہنراں
کسے یہ اپنے ہنر کا گواہ میں نے کیا
حریمِ دل کو جلانے لگا تھا ایک خیال
سو گُل اُسے بھی بیک سرد آہ میں نے کیا
وہی یقین رہا ہے جوازِ ہم سفری
جو گاہ اُس نے کیا اور گاہ میں نے کیا
بس ایک دل ہی تو ہے واقفِ رموزِ حیات
سو شہرِ جاں کا اِسے سربراہ میں نے کیا
ہر ایک رنج اُسی باب میں کیا ہے رقم
ذرا سا غم تھا جسے بے پناہ میں نے کیا
یہ راہِ عشق بہت سہل ہو گئ جب سے
حصارِ ذات کو پیوندِ راہ میں نے کیا
یہ عمر کی ہے بسر کچھ عجب توازن سے
ترا ہُوا، نہ ہی خود سے نباہ میں نے کیا
خرد نے دل سے کہا، تُو جنوں صفت ہی سہی
نہ پوچھ اُس کی کہ جس کو تباہ میں نے کیا
عرفان ستار

لب سے کم ہی نباہ کی جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 162
دل سے اب رسم و راہ کی جائے
لب سے کم ہی نباہ کی جائے
گفتگو میں ضرر ہے معنی کا
گفتگو گاہ گاہ کی جائے
ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں
اپنی حالت تباہ کی جائے
ہوس انگیز ہوں بدن جن کے
اُن میں سب سے نباہ کی جائے
اپنے دل کی پناہ میں آ کر
زندگی بے پناہ کی جائے
جون ایلیا

آسماں تک سیاہ کرتے تھے

دیوان ششم غزل 1901
ہم کبھو غم سے آہ کرتے تھے
آسماں تک سیاہ کرتے تھے
اے خوشا حال اس کا جس کا وے
حال عمداً تباہ کرتے تھے
برسوں رہتے تھے راہ میں اس کی
تب کچھ اک اس سے راہ کرتے تھے
نیچی آنکھیں ہم اس کو دیکھا کیے
کبھو اونچی نگاہ کرتے تھے
ہے جوانی کہ موسم گل میں
جاے طاعت گناہ کرتے تھے
کیا زمانہ تھا وہ جو گذرا میر
ہم دگر لوگ چاہ کرتے تھے
میر تقی میر

اکثر نہیں تو تجھ کو میں گاہ گاہ دیکھوں

دیوان اول غزل 296
راضی ہوں گوکہ بعد از صد سال و ماہ دیکھوں
اکثر نہیں تو تجھ کو میں گاہ گاہ دیکھوں
جی انتظار کش ہے آنکھوں میں رہگذر پر
آجا نظر کہ کب تک میں تیری راہ دیکھوں
آنکھیں جو کھل رہی ہیں مرنے کے بعد میری
حسرت یہ تھی کہ اس کو میں اک نگاہ دیکھوں
یہ دل وہ جا ہے جس میں دیکھا تھا تجھ کو بستے
کن آنکھوں سے اب اجڑا اس گھر کو آہ دیکھوں
دیکھوں تو چاند اب کا گذرے ہے مجھ کو کیسا
دل ہے کہ تیرے منھ پر بے مہر ماہ دیکھوں
بخت سیہ تو اپنے رہتے ہیں خواب ہی میں
اے رشک یوسف مصر پھر کس کو چاہ دیکھوں
چشم و دل و جگر یہ سارے ہوئے پریشاں
کس کس کی تیرے غم میں حالت تباہ دیکھوں
آنکھیں تو تونے دی ہیں اے جرم بخش عالم
کیا تیری رحمت آگے اپنے گناہ دیکھوں
تاریک ہوچلا ہے آنکھوں میں میری عالم
ہوتا ہے کیونکے دل بن میرا تباہ دیکھوں
مرنا ہے یا تماشا ہر اک کی ہے زباں پر
اس مجہلے کو چل کر میں خوانخواہ دیکھوں
دیکھوں ہوں آنکھ اٹھاکر جس کو تو یہ کہے ہے
ہوتا ہے قتل کیونکر یہ بے گناہ دیکھوں
ہوں میں نگاہ بسمل گو اک مژہ تھی فرصت
تا میر روے قاتل تا قتل گاہ دیکھوں
میر تقی میر

شکر ہے زندگی تباہ نہ کی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 1
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی
تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہُوے
تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی
تیرے دستِ ستم کا عجز نہیں
دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی
تھے شبِ ہجر، کام اور بہت
ہم نے فکرِ دلِ تباہ نہ کی
کون قاتل بچا ہے شہر میں فیض
جس سے یاروں نے رسم وراہ نہ کی
فیض احمد فیض

سفید رنگ کا دستور کج کلاہ ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 55
سیاہ رنگ کا امن و سکوں تباہ ہوا
سفید رنگ کا دستور کج کلاہ ہوا
زمیں سے کیڑے مکوڑے نکلتے آتے ہیں
ہمارے ملک میں یہ کون بادشاہ ہوا
کئی دنوں سے زمیں دھل رہی ہے بارش سے
امیر شہر سے کیسا یہ پھر گناہ ہوا
شرارِ خاک نکلتا گرفت سے کیسے
دیارِ خاک ازل سے جنازہ گاہ ہوا
وہ شہر تھا کسی قربان گاہ پر آباد
سو داستان میں بغداد پھر تباہ ہوا
جلے جو خیمے تو اتنا دھواں اٹھا منصور
ہمیشہ کے لیے رنگِ علَم سیاہ ہوا
منصور آفاق