ٹیگ کے محفوظات: تانتی

کایا شیتل دھوپ کی، میرا دکھ کیا جانتی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 63
گزری آنکھیں میچ کے، شام نگر سے شانتی
کایا شیتل دھوپ کی، میرا دکھ کیا جانتی
تو دھرتی تھی پیار کی، رہتی کیوں بے آسماں
اپنے جلتے جسم پر میرا سایہ تانتی
ایک اشارت خوف کی، ایک بلاوا خون کا
عقل عجب حیران تھی، کس کا کہنا مانتی
رستے رستے آنکھ سے، برسیں زرد اداسیاں
لوٹ کے خالی آ گئی سارے منظر چھانتی
کیسے مَیں اس بھیڑ میں آتا اُس کے دھیان میں
ایک اکیلی زندگی کس کس کو پہچانتی
آفتاب اقبال شمیم