ٹیگ کے محفوظات: تانا

جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے

دیوان اول غزل 550
قبر عاشق پر مقرر روز آنا کیجیے
جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے
رات دارو پیجیے غیروں میں بے لیت و لعل
یاں سحر سر دکھنے کا ہم سے بہانہ کیجیے
ٹک تمھارے ہونٹ کے ہلنے سے یاں ہوتا ہے کام
اتنی اتنی بات جو ہووے تو مانا کیجیے
گوشۂ چشم بتاں یا کنج لب اس وقت میں
جا کہیں ہو تو دل اپنے کا ٹھکانا کیجیے
سیکھیے غیروں کے ہاں چھپ چھپ کے علم تیر پھر
سارے عالم میں ہمارے تیں نشانہ کیجیے
رفتہ رفتہ قاصدوں کو رفتگی اس سے ہوئی
جی میں ہے اب کے مقرر اپنا جانا کیجیے
نکلے ہے آنکھوں سے تو گرد کدورت جاے اشک
تا کجا تیری گلی میں خاک چھانا کیجیے
آبشار آنے لگے آنسو کے پلکوں سے تو میر
کب تلک یہ آب چادر منھ پہ تانا کیجیے
میر تقی میر