ٹیگ کے محفوظات: تامّل

تسلّی جانِ بلبل کے لئے خندیدنِ گل ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 257
نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہے
تسلّی جانِ بلبل کے لئے خندیدنِ گل ہے
نمودِ عالَمِ اسباب کیا ہے؟ لفظِ بے معنی
کہ ہستی کی طرح مجھ کو عدم میں بھی تامّل ہے
نہ رکھ پابندِ استغنا کو قیدی رسمِ عالم کا
ترا دستِ دعا بھی رخنہ اندازِ توکّل ہے
نہ چھوڑا قید میں بھی وحشیوں کو یادِ گلشن نے
یہ چاکِ پیرہن گویا جوابِ خندۂ گل ہے
ابھی دیوانگی کا راز کہہ سکتے ہیں ناصح سے
ابھی کچھ وقت ہے غالب ابھی فصلِ گل و مُل ہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب