ٹیگ کے محفوظات: تالاب

تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 28
کس عجب ساعتِ نایاب میں آیا ہُوا ہوں
تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں
پھر وہی میں ہوں، وہی ہجر کا دریائے عمیق
کوئی دم عکسِ سرِ آب میں آیا ہُوا ہوں
کیسے آئینے کے مانند چمکتا ہُوا میں
عشق کے شہرِ ابدتاب میں آیا ہُوا ہوں
میری ہر تان ہے از روزِ ازل تا بہ ابد
ایک سُر کے لیے مضراب میں آیا ہُوا ہوں
کوئی پرچھائیں کبھی جسم سے کرتی ہے کلام؟
بے سبب سایہِٗ مہتاب میں آیا ہُوا ہوں
ہر گزرتے ہوئے لمحے میں تپکتا ہُوا میں
درد ہوں، وقت کے اعصاب میں آیا ہُوا ہوں
کیسی گہرائی سے نکلا ہوں عدم کی عرفان
کیسے پایاب سے تالاب میں آیا ہُوا ہوں
عرفان ستار

بہہ گئے سب نیند کے سیلاب میں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 61
کیسے کیسے تھے جزیرے خواب میں
بہہ گئے سب نیند کے سیلاب میں
لڑکیاں بیٹھی تھیں پاؤں ڈال کر
روشنی سی ہو گئی تالاب میں
جکڑے جانے کی تمنّا تیز تھی
آگئے پھر حلقہ ءِ گرداب میں
ڈوبتے سُورج کی نارنجی لیکن
تیرتی ہے دیدہ ءِ خونناب میں
وہ تو میرے سامنے بیٹھا تھا___پھر
کس کا چہرہ نقش تھا مہتاب میں !
پروین شاکر

آنکھ کا لگنا نہ ہو تو اشک کیوں خوناب ہو

دیوان سوم غزل 1239
دل کہے میں ہوں تو کاہے کو کوئی بیتاب ہو
آنکھ کا لگنا نہ ہو تو اشک کیوں خوناب ہو
وہ نہیں چھڑکائو سا میں اشک ریزی سے کروں
اب جو رونے بیٹھ جائوں جھیل ہو تالاب ہو
جلد کھینچے تیغ بیتابی کریں جو ہم تو پھر
مارنا مشکل ہمارا تم کو جوں سیماب ہو
شہر میں زیر درختاں کیا رہوں میں برگ بند
ہو نہ صحرا نے مری گنجائش اسباب ہو
بے تصرف عشق کے ہوتا ہے ایسا حال کب
دل ہمارا خون ہو سب چشم یکسر آب ہو
لطف سے اے ابر رحمت ایک دو بارش ادھر
کشت زرد ناامیداں بھی تو ٹک سیراب ہو
بخت خفتہ سوویں پر ٹک چونکتے سوویں کہ میر
ایک شب ہم دل زدوں سے وہ پری ہم خواب ہو
میر تقی میر

چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا

دیوان دوم غزل 680
دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا
چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا
شاید جگر گداختہ یک لخت ہو گیا
کچھ آب دیدہ رات سے خوناب سا ہوا
وے دن گئے کہ اشک سے چھڑکائو سا کیا
اب رونے لگ گئے ہیں تو تالاب سا ہوا
اک دن کیا تھا یار نے قد ناز سے بلند
خجلت سے سرو جوے چمن آب سا ہوا
کیا اور کوئی روئے کہ اب جوش اشک سے
حلقہ ہماری چشم کا گرداب سا ہوا
قصہ تو مختصر تھا ولے طول کو کھنچا
ایجاز دل کے شوق سے اطناب سا ہوا
عمامہ ہے موذن مسجد کہ بارخر
قد تو ترا خمیدہ ہو محراب سا ہوا
بات اب تو سن کہ جاے سخن حسن میں ہوئی
خط پشت لب کا سبزئہ سیراب سا ہوا
چل باغ میں بھی سوتے سے اٹھ کر کبھو کہ گل
تک تک کے راہ دیدئہ بے خواب سا ہوا
سمجھے تھے ہم تو میر کو عاشق اسی گھڑی
جب سن کے تیرا نام وہ بیتاب سا ہوا
میر تقی میر

یعنی کہیں پانی میں ترا خواب ہمیشہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 421
میں دیکھتا ہوں جھیل میں مہتاب ہمیشہ
یعنی کہیں پانی میں ترا خواب ہمیشہ
برسات کے موسم نے دعا دی مرے غم کو
آباد پرندوں سے ہو تالاب ہمیشہ
اجڑے ہوئے لوگوں کی دعا ہے کہ تمہارا
یہ تازہ تعلق رہے شاداب ہمیشہ
جاں سوختہ ہو جائے بھلے آگ میں میری
تجھ کو ملے خسخانہ و برفاب ہمیشہ
منصور شبِ غم کے سیہ پوش سفر میں
یادیں رہیں سرچشمۂ اسباب ہمیشہ
منصور آفاق

نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 25
کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا
نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا
خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں
کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا
ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشمِ سیہ
جام ہی میں کوئی گرداب دکھائی دیتا
تُو وہ ریشم کہ مرا ٹاٹ کا معمولی بدن
تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا
دوستو آگ بھری رات کہاں لے جاؤں
کوئی خس خانہ و برفاب دکھائی دیتا
میرا کردار کہانی میں جہاں ہیرو ہے
تیرے ناول کا وہی باب دکھائی دیتا
دل میں چونا پھری قبروں کی شبہیں منصور
کیسے میں زندہ و شاداب دکھائی دیتا
منصور آفاق