ٹیگ کے محفوظات: تازیانے

ستم شعار دُعاؤں سے کب ٹھکانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
بدل کے روپ نئے، اور دندنانے لگے
ستم شعار دُعاؤں سے کب ٹھکانے لگے
سنا جو قطعِ شبِ رُوسیہ کا مژدہ
چٹک چٹک کے شگوفے بھی چہچہانے لگے
عتابِ ابر تو لمحوں سے مستزاد نہ تھا
شجر کو ڈھانپتے اپنا بدن زمانے لگے
بجے ہیں روز ہتھوڑے نئے سماعت پر
بجا کہ تن پہ ہمارے نہ تازیانے لگے
جو اُن کے نام تھا کوتاہ قامتی کے سبب
اُچھل اُچھل کے سقم خود ہی وہ دکھانے لگے
ہُوا کچھ ایسے کہ زینے تہہِ قدم لا کر
جو پست قد ہیں وہ نیچا ہمیں دکھانے لگے
ماجد صدیقی

آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی
آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی
خم وہی رہ بہ رہ نا مرادوں کے سر
کُو بہ کُو ذی شرف آستانے وہی
فاختائیں دبکتی شجر در شجر
اور زور آوروں کے نشانے وہی
رام کرنے کو مرکب کا زورِ انا
دستِ راکب میں ہیں تازیانے وہی
شیر کی دھاڑ پر جستجو اوٹ کی
اور چھپنے کو ماجد ٹھکانے وہی
ماجد صدیقی

عہد اُس نے کیا نہ آنے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 145
اور عنواں ہو کیا فسانے کا
عہد اُس نے کیا نہ آنے کا
ہم نے اُس حُسن کو مقام دیا
ارضِ جاں کے مدھر ترانے کا
کچھ ہِمیں تاک حفظِ جاں میں نہ تھے
علم اُس کو بھی تھا نشانے کا
دھار تلوار کی نگاہ میں ہے
شور سر پر ہے تازیانے کا
وقت خود ہی سُجھانے لگتا ہے
فرق ماجدؔ نئے پرانے کا
ماجد صدیقی